| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹ کے بھکاری
عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ اللہ کے لیے صرف ایک منٹ کا سوال ہے ۔ یہ فریاد ہے ایک انتیس سالہ باپ کی جس کی دس ماہ کی بیٹی دماغ کے کینسر میں مبتلا ہے۔ امریکہ میںرہائش پذیر ایک شخص نے بھیک یا مدد مانگنے کے لیے ای میل یا برقیاتی پیغامات کا سہارا لیا ہے۔ یوں تو پاکستان کے گلی کوچوں میں بہت بھکاری نظر آتے ہیں اور ہر ایک کے بھیک مانگنے کا انداز بھی دوسروں سے مختلف ہی ہوتا ہے لیکن انٹرنیٹ پر برقیاتی پیغام کے ذریعے بھیک مانگنے کا یہ انوکھا انداز ہے۔ ای میل یا برقی پیغامات دنیا بھر میں رابطے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اب ان پیغامات کے ذریعے نہ صرف اشتہاری مہم چلائئ جاتی ہے بلکہ بھیک بھی مانگی جارہی ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی لوگ ای میل یا برقی پیغامات کی بہتات سے تنگ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نا پسندیدہ پیغامات کی بہتات کیونکہ ڈھیروں کمپنیاں جو کمپیوٹر یا انٹرنیٹ سے وابستہ ہیں تشہیر کے لیے برقی پیغام ہر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کو بھیجتی ہیں ۔ اب لوگوں نے انہی برقی پیغامات کے ذریعے بھیک مانگنا بھی شروع کر دیا ہے ۔ پاکستان میں لوگوں کو مختلف قسم کے ایسے ای میل موصول ہو رہے ہیں جن کے ذریعے مدد یا بھیک مانگی جا رہی ہے۔ ریچل ایک دس ماہ کی بچی ہے جسے کینسر کا مرض لاحق ہے۔ اس کے باپ نے دو کمپنیوں کے تعاون سے متعدد لوگوں کو ای میل بھیجا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اگر آپ یہ پیغام بغیر پڑھے تلف کر دیں گے تو سمجھ لیں کہ آپ کا دل ہی نہیں اور آپ ایک بے رحم انسان ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ آپ یہ پیغام اگرمذید پانچ افراد کو بھیج دیں جس سے ’اے او یل‘ اور زیڈ نیٹ اسے بیس سینٹ دیں گے۔ جس سے وہ اپنی بیٹی کا علاج کرائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک کاپی اسے بھی بھیجیں تاکہ وہ خود اندازہ لگائے کہ اسے کتنے پیسے ملے ہیں اور کمپنیاں اس کے ساتھ دھوکہ نہ کر سکیں۔ اس نے کہا ہے کہ اے او ایل ان پیغامات کا پیچھا کرے گی اور معلوم کرے گی کہ یہ پیغام کتنے لوگوں کو مو صول ہوا ہے۔ انٹرنیٹ کیفے کے ایک مینجر زاہد نے بتایا ہے کہ اس طرح کے برقی پیغامات بڑی تعداد میں موصول ہو رہے ہیں۔ پاکستان سے بھی کئی لوگ مدد مانگنے یا بھیک مانگنے کے لیے برقی پیغامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ پیغام کے آخر میں مکمل پتہ اور اکاؤنٹ نمبر تک درج ہوتا ہے۔ مبصرین ان پیغامات کو ایک المیہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیغامات سفید پوش لوگوں کے ہو سکتے ہیں جو سامنے بھیک یا مدد مانگنے سے گریز کرتے ہیں اور گزر بسر یا مشکل وقت کو ٹالنے کے لیے برقی پیغامات کا استعمال کرتے ہیں۔ دوسرا طبقہ ان دھوکہ باز لوگوں کا بھی ہو سکتا ہے جو اس طرح کے پیغامات سے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان پیغامات کے ذریعے نہ تو مدد طلب کرنے والے کو دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئئ علم ہوتا ہے کہ آیا یہ واقعی کوئی ضرورت مند ہے یا دھوکہ باز ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس طرح کے دھوکے بازوں کی وجہ سے لوگ اصل ضرورت مندوں کی مدد بھی نہیں کر پاتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |