’پاکستان، امریکہ ہند دباؤ میں آ گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں بھارت کے خلاف برسرِ پیکار تنظیموں نے پاکستان کی طرف سے ممبئی حملوں کے سلسلے میں لشکرِ طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمٰن اور دیگر کے خلاف مقدمات کے اندراج کے بارے میں کہا ہے کہ پاکستان، امریکہ اور بھارت کے دباؤ کے سامنے جھک گیا۔ بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر سے نامہ نگار ریاض مسرور نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ممنوعہ مسلح گروپ لشکر طیبہ کو ملوث قرار دینے کے پاکستانی اعلان پر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علیٰحدگی پسند اور دیگر حلقوں میں ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے۔ کئی سال سے وادی میں زیرزمین سرگرم لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ذکی الرحمٰن سمیت لشکر کے ساتھ وابستہ آٹھ افراد کے خلاف ایف آئی آر دراصل بھارت اور امریکہ کے سامنے پاکستانی حکمرانوں کی پسپائی کا ثبوت ہے‘۔ غزنوی نے الزام عائد کیا کہ بھارت کشمیر کی تحریک کو دُنیا کے سامنے دہشت گردی کی تحریک کے طور پیش کرنا چاہتا ہے اور اسی لیے لشکر طیبہ کو ممبئی حملوں میں ملوث بتایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس مقصد کے حصول میں پاکستان نے بھارت کی مدد کی اور امریکہ نے بھارت کا ہی کھُل کر ساتھ دیا، اور پاکستان پر دباؤ بڑھایا‘۔ اس دوران مظفرآباد سے جاری ایک بیان میں کئی مسلح گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے ترجمان سید صداقت حُسین نے بھی اس فیصلہ کو قابل مذمت قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ بھارت کی طرف سے فراہم کردہ مواد محض معلوماتی تھا اور اس میں کوئی قابل قدر ثبوت یا شواہد نہیں تھے۔ بیان کے مطابق، ’پاکستانی حکمران انڈو۔امریکن سازش کے سامنے جھُک گئے اور عدل و انصاف کے تقاضے بالائے طاق رکھ کر الزام بے گناہ لوگوں کے سر تھوپ دیا گیا‘۔ حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سید علی گیلانی نے اس فیصلہ کو ’پاکستانی خارجہ پالیسی کا زوال‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک پاکستانی حکومت کو ثبوت نہیں مل رہے تھے۔ اب راتوں رات کیا ہوگیا۔ یہ امریکہ کے دباؤ میں ہوا ہے، کیونکہ ایشیا میں امریکہ کے اقتصادی عزائم اور چین کے خلاف دفاعی حکمت عملی میں ہندوستان بھی کا حلیف ہے‘۔ میر واعظ عمرفاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس کے ساتھ وابستہ حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر ظفرعبدالفتح نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’چھبیس نومبر دوہزار آٹھ کو ممبئی میں جوکچھ بھی ہوا وہ یقیناً ایک دہشت گردانہ حملہ تھا۔ اسی لیے جہادی قیادت جس میں لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین بھی شامل تھی، نے اس کی واضح الفاظ میں مذمت کی۔ اب اگر دونوں ملک مشترکہ طور تفتیش کر رہے ہیں اور اس کے مراحل طے کیے جا رہے ہیں تو ہمیں بہتر نتائج کی امید کرنی ہوگی۔ کیونکہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ختم ہوجائے گی تو کشمیر پر اس کا مثبت اثر پڑے گا۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سابق چیف کمانڈر جاوید احمد کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے سامنے ملک کی سالمیت کا مسئلہ تھا۔ پوری دُنیا میں یہ شور تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش پاکستان میں رچائی گئی ہے۔ اور پھر جو ملزم ہیں ان کا تعلق بھی پاکستان کے ساتھ ہے۔ پاکستان نے جو بھی فیصلہ کیا اپنے دفاعی مفاد میں کیا۔ ہم تو دعا کرینگے کہ اس کے کشمیریوں پر بہتر اثرات ہی مرتب ہوں‘۔ اس صورتحال کے حوالے سے جنوب ایشائی امور کے ماہر ایڈوکیٹ سید تصدق حُسین کہتے ہیں کہ ’لشکر کے خلاف کارروائی دراصل القاعدہ کے خلاف امریکہ کا پیغام ہے۔ لشکر طیبہ کا پین اسلامِک نظریہ ہو بہو القاعدہ سے میل کھاتا ہے، لہذا امریکہ نے یہ واضح کرنا چاہا ہے کہ جنوب ایشیائی خطے میں جو مسلح قوتیں قوم پرستانہ عزائم رکھتی ہیں انہیں اقتدار کی مین سٹریم میں لایا جائے گا اور جو القاعدہ طرز کا گلوبل ایجنڈا رکھتے ہوں ان کی سرکوبی ہوگی۔ اس مقصد میں پاکستان نے فرنٹ لائن اتحادی کے طور امریکہ کی مدد کی ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’ممبئی سانحہ، بھارتی ناکامی‘10 January, 2009 | پاکستان ثبوت نا کافی ہیں: قائمہ کمیٹی06 January, 2009 | پاکستان ’حکومت بھارت کے دباؤ میں نہ آئے‘23 December, 2008 | پاکستان بیشتر دہشتگردی پاکستان سے: براؤن14 December, 2008 | پاکستان ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان مشترکہ تفتیش کی دوبارہ پیشکش 08 December, 2008 | پاکستان پہلے والی لسٹ میں کون کون مطلوب تھے05 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||