تحقیقاتی دستاویز بھارت کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بھارتی سفیر ستیا بارتا پال کو آج دفتر خارجہ طلب کر کے ممبئی حملوں کے بارے میں پاکستانی تحقیقاتی رپورٹ پر مشتمل دستاویزات حوالے کی گئیں۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق ان دستاویزات میں وہ تیس سوالات کی فہرست بھی شامل ہے جو پاکستانی تحقیق کار اپنے بھارتی ہم منصبوں سے ممبئی حملوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بھارتی سفیر کی دفتر خارجہ آمد کے بارے تو تفصیلات نہیں بتائیں البتہ ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستانی تحقیقات کے نتائج سے بھارت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ممبئی حملوں کے بارے میں پاکستانی تحقیقات اور مقدمے کے اندراج سے اس معاملے میں پاکستان کے اخلاص اور دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں اور کمٹمنٹ کا پتہ چلتا ہے۔‘ ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ بھارت بھی اس معاملے میں اسی جذبے کے ساتھ رد عمل ظاہر کرے گا۔ | اسی بارے میں ’ممبئی سازش کا کچھ حصہ پاکستان میں تیار ہوا‘12 February, 2009 | پاکستان ’حملے پاکستان میں پلان نہیں ہوئے‘30 January, 2009 | پاکستان بھارتی شواہد ناکافی ہیں: پاکستان09 February, 2009 | پاکستان ’لشکر کے پانچ کیمپ بند کیے ہیں‘17 January, 2009 | پاکستان ’تحقیقات سے کشیدگی کم ہوگی‘31 January, 2009 | پاکستان ممبئی حملوں کی رپورٹ تین چار روز06 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||