بھارتی شواہد ناکافی ہیں: پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی ہے کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کی تحقیقات کی روشنی میں مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کی جائیں۔ یہ ہدایت انہوں نے پیر کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں ممبئی حملوں کے متعلق ’ایف آئی اے‘ کی تحقیقات کے متعلق بریفنگ لینے کے بعد دوران جاری کی۔ اجلاس میں وزارت دفاع، دفاعی پیدا وار، قانون و انصاف، خارجہ اور اطلاعات کے وفاقی وزیر، داخلہ اور خزانے کے مشیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے مقدمہ درج کرنے اور مزید تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو، چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں، انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مقدمہ کس کے خلاف درج ہوگا، ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات میں کون سے ملزم سامنے آئے ہیں اور کون سے تنظیم ملوث ہے۔ بیان میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ممبئی حملوں کے متعلق تاحال بھارت سے ملنے والے ثبوت تحقیقات کو آگے بڑھانے، مقدمہ چلانے اور ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ بیان کے مطابق ’بھارت کی جانب سے ٹھوس ثبوتوں کی فراہمی کے بغیر تحقیقات مکمل کرنا اور آگے بڑھنا سخت مشکل ہوگا۔ تحقیقات مکمل کرنے کے لیے اب تک کی ایف آئی اے کی تحقیقات سے جو سوالات پیدا ہوئے ہیں ان کا بھارتی حکام کی جانب سے جواب دینا لازم ہے‘۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان سوالات کے بارے میں بہت جلد بھارتی حکام کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ بیان میں ’ایف آئی اے‘ کی تحقیقات کو سراہا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ میں گزشتہ چند روز سے نامعلوم سرکاری ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان سے باہر ہوئی تھی۔ ان خبروں کے مطابق ان حملوں سے بنگلہ دیش کی ایک مذہبی تنظیم کا تعلق بھی بتایا گیا تھا۔ لیکن ایسی خبروں کی حکومت نے تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال اور بالخصوص سوات اور قبائلی علاقوں کی صورتحال پر بحث کی گئی۔ وزیراعظم نے سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ مقامی آبادی کا تحفظ کرتے ہوئے تمام علاقوں سے شدت پسندوں کو نکالا جائے۔ واضح رہے کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی حکومت اور فوج کی اعلیٰ قیادت کا ایک بڑا مشاورتی فورم ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے اس کی جگہ قومی سلامتی کونسل بنادی تھی لیکن یہ ادارہ متنازعہ بنا رہا اور موجودہ حکومت نے اس کا کوئی اجلاس ہی نہیں طلب کیا اور اس کی جگہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو بحال کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ممبئی حملوں کی رپورٹ تین چار روز06 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||