ناناوتی کی رپورٹ نمبر ون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ بدھ کو گجرات کی صوبائی اسمبلی میں جسٹس نانا وتی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی ۔ جیسی کی توقع تھی اس رپورٹ میں یہی پایا گیا کہ گودھرا میں سابرمتی ٹرین کے ایک ڈبے کو جلائے جانےکا واقعہ مقامی مسلمانوں کی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا ۔ رپورٹ کے مطابق اس سازش کا مقصد صوبے میں دہشت کا ماحول پیدا کرنا تھا ۔ اس میں اس سازش اور اس میں ملوث افراد کی تفصیلات دی گئی ہیں ۔ اس رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سازش کے پیچھے اصل دماغ مولوی عمر جی کا ہے جو شہر کے ایک معزز مولانا ہیں ۔ انہیں کی قیادت میں فروری 2002 میں ٹرین پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا تھا ۔ وہ کئی برس سے اسی سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی قانون کے تحت جیل میں ہیں ۔ پوٹا قانون کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ایک جائزہ کمیٹی نے جن افراد پر سے پوٹا ہٹانے کی سفارش کی تھی ان میں مولوی عمر بھی شامل ہیں ۔ لیکن تین برس سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں التوا میں پڑا ہوا ہے۔ ناناوتی کمیشن کی اس رپورٹ (جو پوری رپورٹ کا پہلا حصہ ہے) میں دوسری سب سے اہم بات یہ ہے اس میں وزیر اعلی نریندر مودی کو پوری طرح تمام انزامات سے بری قرار دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی ، ان کے وزراء اور اعلی پولیس افسروں کا اس واقعہ میں کوئی رول نہیں تھا اور انہوں نے کہیں بھی کوئی غیر ذمے داری نہیں دکھائی ہے۔
گودھرا کے واقعے میں سو سے زیادہ مسلمانون کو ملزم بنایا گیا ہے ۔ کم ازکم سترہ بار فرد جرم تبدیل کی گئی ہے ۔ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں نابالغ بچے بھی تھے لیکن قید میں اب وہ بالغ ہو چکے ہیں ۔ ان میں ایسے بھی ''دہشتگرد؛؛ شامل ہیں جو پیدائش سے نابینا ہیں ۔ بعض ایسے بھی ہین جو کسی اور صوبے سے کام کی غرض سے گجرات آئے تھے ۔ جسٹس ناناوتی ایک قابل جج ہیں اور ان کی تحقیقاتی صلاحیتوں کے بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں رہا ہے ۔ لیکن جن حالات میں یہ تحقیقات ہوئی ہے ۔ ان کے پیش نظر اسی نتیجے کی توقع تھی جو اس رپورٹ میں آئی ہے ۔ اسے پیش کیے جانے کے وقت کے بارے میں بھی مودی مخالف حلقے اور جماعتیں سوال کر رہی ہیں ۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے بحث چھڑی ہوئی ہے اور پارلیمانی انتخابات قریب ہیں ۔ بی جے پی ہندوتوا کے ایجنڈے کو اوپر لانا چاہتی ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات حالات ، تنازعات اور بحث نے بی جے پی کا کام کافی آسان بنا دیا ہے۔ نریندر مودی اس بار بی جے پی کی انتخابی مہم میں قومی سطح پر کلیدی کردار ادا کرنے والے ہیں ۔ ملک میں پے درپے بم دھماکوں اور ان دھماکوں میں مسلسلمانوں بالخصوص جدید تعلیم یافتہ نوجواوں کی گرفتاری نے فرقہ وارانہ فضا بہت زرخیز بنا دی ہے ۔ ملک میں فرقہ وارانہ خلیج اس وقت اپنے عروج پر ہے ۔ دہشت گرد ی کی سرگرمیوں کے سلسلے میں پولیس کے نئے نئے انکشافات نے اگر ایک طرف مسلمانون کو ہلا کر رکھ دیا ہے تو دوسری طرف بی جے پی جیسی جماعتوں اور اور ان کے ہم خیال نطریات کے حامل لوگوں کو زبر دست تقویت حاصل ہو ئی ہے۔ نانا وتی کمیشن نے جو رپور ٹ پیش کی ہے وہ مجموعی رپورٹ کا پہلا حصہ ہے ۔ گودھرا کے واقعہ کے بعد ہونے والے مسلم مخالف فسادات کی رپورٹ بعد میں آئےگی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گجرات فسادات کے تقریبا تمام کیسیز ابتدائی تفتیش کے بعد ، ناکافی ثبوتوں اور گواہوں کے سامنے نہ آنے کے سببب بند کر دیے گئے تھے لیکن حقوق انسانی کی تنظیموں اور کارکنوں کی زبر دست جد وجہد کے بعد تمام اہم کیسز دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ کئی مقدمات میں پہلے ہی سزا ہو چکی ہے ۔ بعض مقدمات صوبے سے باہر منتقل کر دیے گئے ہیں ۔ کئی معاملوں کی دوبارہ تفتیش ہو رہی ہے۔ جسٹس ناناوتی نے چھہ برس کی محنت اور کئی توسیع کے بعد اپنی جو تحقیقاتی رپورٹ کا پہلا حصہ پیش کیا ہے اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ دوسرا حصہ کیسا ہو گا۔ ناناوتی کے علاوہ گودھرا کے واقعہ کی کم از کم پانچ اور الگ الگ تحقیقات ہوئی ہیں اور ان سبھی میں یہ بایا گیا ہے یہ واقعہ کسی سازش کا حصہ نہیں تھا۔ سوال اس وقت یہ ہے کہ ان کمیشنوں اور کمیٹیوں کی رپورٹوں سے کیا ہو گا ۔ تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹیں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں ۔ اگر رپورٹ حکمراں جماعت کے لیے موزوں ہے تو وہ اسےنافز کرتی ہے اگر یہ اس کے مفاد کے خلاف جاتی ہے تو ایسی رپورٹ کو مسترد کر دیتی ہیں جیس طرح شیو سینا نے شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ رد کی تھی ۔ شری کرشنا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر اور ایک ایک نام لیکر سیاسی رہنماؤں اور قصور وارپولیس افسروں کی نشاندہی کی تھی۔ 1992-93 کے فسادات میں چودہ سو مسلمان مارے گئے تھے ۔ لیکن کمیشنوں کے قیام اور طرح طرح کی انکوائری کے باوجود ایک شخص کو بھی سزا نہیں ہو ئی ہے ۔ اس کے بر عکس ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں نوے سے زیادہ مسلمانوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ گجرات میں شاید ممبئی کی تاریخ کو دہرانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔گودھرا کے معا ملےمیں تو سو سے زیادہ مسلمان کسی ٹرائل کے بغیر پانچ برس سے زیادہ عرصےسے قید میں ہیں جبکہ اس واقعہ کے بعد فسادات میں ہلاک ہونے والے تقریبا دو ہزار مسلمانوں کے قاتل آزاد ہیں ۔ ان سوالوں کا جواب کمیشنوں سے نہیں قانون کی حکمرانی سے ہی مل سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں انڈیا: مذہبی تنظیموں کی جمہوریت10 August, 2008 | انڈیا ہندو پاک: پھر پرانی ڈگر پر؟03 August, 2008 | انڈیا دھماکے: خفیہ اداروں کی بے بسی27 July, 2008 | انڈیا سیاسی افرا تفری اور کشمیر پربدلتا رجحان20 July, 2008 | انڈیا بائیں محاذ، بی جے پی اور بی ایس پی ساتھ ساتھ13 July, 2008 | انڈیا منموہن ناکام وزیراعظم، بدعنوانی میں کمی06 July, 2008 | انڈیا پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||