بہار میں ہلاکتیں کتنی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگست کے آخری ہفتے میں جب دریائے کوسی میں آنے والے سیلاب نے پانچ اضلاع کے لاکھوں افراد کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں کے متضاد دعوے کیے جانے لگے۔ کچھ دعوؤں کےمطابق سیلاب میں ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوگئے جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو سے زیادہ نہیں ہے۔ ہلاکتوں کے بارے میں اس قدر تضاد اس لیے ہے کہ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ کتنے افراد حقیقتاً کوسی کی دھار میں بہہ گئے ہیں۔ حکومت مرنے والوں کی تعداد لاشیں گن کرمتعین کرتی ہے۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع مدھے پورا کے گوکرن چودھری کی ماں آنندی دیوی محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیےگھر سے نکلی تھیں ۔کشتی پرسوار ہونے سے پہلے ان کا پاؤں پھسل گیا اور پھر ان کا پتہ نہ چلا۔ گوکرن چودھری کے گھر والوں نے آنندی کی لاش نہ ملنے کے بعد تسلیم کر لیا ہے کہ آنندی کی موت ہو چکی ہے۔ آنندی کی روح کی شانتی کے لیے ضروری تھا کہ ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔ اس لیے گوکرن اور ان کے بھائی شیوشنکر چودھری نے پتلا بنا کر اپنی ماں کو نذر آتش کیا۔ ہندو مذہب کو جاننے والوں کے مطابق لاش نہ ملنے کی صورت میں ایک قسم کے گھاس اور دھان کے لمبے تنکے سے پُتلا بنا کر اسے ہی لاش مان کر آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
گو کرن کے مطابق بیس سے اکتیسں اگست تک وہ، ان کی ماں آنندی اور والد باسودیو چودھری اپنے گھر کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ اکتیس اگست کو دلی سے ان کا ماموں شیو شنکر چودھری جب اپنی بہن اور اس کے خاندان کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کی تواس کوشش میں آنندی کی جان چلی گئی۔ گوکرن نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا کہ ان کی ماں ندی کی دھار میں بہ گئی ہیں لیکن بہت سے افراد کسی کی نظر میں آئے بغیر بہہ گئے۔ ان کے عزیز و اقارب انہیں فی الحال مرا ہوا تصور کر رہے ہیں۔ سہرسہ کے ایک کالج میں پناہ لیے نیپال کی ارمیلا دیوی بھی کوسی کے سیلاب میں بہہ گئی تھیں۔ اس کے بعد وہ یہاں کیسے پہنچیں انہیں نہیں معلوم لیکن ان کے ساتھ بہہ جانے والے تین بچوں کا پتہ نہیں چلا۔ ارمیلا کے خدشے کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے گوکرن اور ارمیلا ہر ریلیف کیمپ میں مل جائیں گے۔ |
اسی بارے میں بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں27 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے درجنوں ہلاک26 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے لاکھوں متاثر25 August, 2008 | انڈیا ممبئی: طوفانی بارش سے2 ہلاک01 July, 2008 | انڈیا انڈیا، سیلاب سے پچاس لوگ ہلاک21 June, 2008 | انڈیا سیلاب: کئی صوبوں میں ہلاکتیں 18 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||