BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 September, 2008, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار میں ہلاکتیں کتنی؟

بہار میں سیلاب
سیلاب کے سترہویں دن بھی لوگوں کی مشکلات میں کمی نہیں ہوئی ہے
اگست کے آخری ہفتے میں جب دریائے کوسی میں آنے والے سیلاب نے پانچ اضلاع کے لاکھوں افراد کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں کے متضاد دعوے کیے جانے لگے۔

کچھ دعوؤں کےمطابق سیلاب میں ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوگئے جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو سے زیادہ نہیں ہے۔


ہلاکتوں کے بارے میں اس قدر تضاد اس لیے ہے کہ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ کتنے افراد حقیقتاً کوسی کی دھار میں بہہ گئے ہیں۔

حکومت مرنے والوں کی تعداد لاشیں گن کرمتعین کرتی ہے۔

 ہلاکتوں کے بارے میں اس قدر تضاد اس لیے ہے کہ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ کتنے افراد حقیقتاً کوسی کی دھار میں بہہ کر اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں جن کی لاش نہیں مل سکی ان بارے میں کیا کہا جائے گمشدہ یا مردہ۔ جبکہ حکومت تو لاش گن کر ہلاکتوں کی تعداد متعین کرتی ہے

سیلاب میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع مدھے پورا کے گوکرن چودھری کی ماں آنندی دیوی محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیےگھر سے نکلی تھیں ۔کشتی پرسوار ہونے سے پہلے ان کا پاؤں پھسل گیا اور پھر ان کا پتہ نہ چلا۔

گوکرن چودھری کے گھر والوں نے آنندی کی لاش نہ ملنے کے بعد تسلیم کر لیا ہے کہ آنندی کی موت ہو چکی ہے۔ آنندی کی روح کی شانتی کے لیے ضروری تھا کہ ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔ اس لیے گوکرن اور ان کے بھائی شیوشنکر چودھری نے پتلا بنا کر اپنی ماں کو نذر آتش کیا۔

ہندو مذہب کو جاننے والوں کے مطابق لاش نہ ملنے کی صورت میں ایک قسم کے گھاس اور دھان کے لمبے تنکے سے پُتلا بنا کر اسے ہی لاش مان کر آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں

گو کرن کے مطابق بیس سے اکتیسں اگست تک وہ، ان کی ماں آنندی اور والد باسودیو چودھری اپنے گھر کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ اکتیس اگست کو دلی سے ان کا ماموں شیو شنکر چودھری جب اپنی بہن اور اس کے خاندان کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کی تواس کوشش میں آنندی کی جان چلی گئی۔

گوکرن نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا کہ ان کی ماں ندی کی دھار میں بہ گئی ہیں لیکن بہت سے افراد کسی کی نظر میں آئے بغیر بہہ گئے۔ ان کے عزیز و اقارب انہیں فی الحال مرا ہوا تصور کر رہے ہیں۔

سہرسہ کے ایک کالج میں پناہ لیے نیپال کی ارمیلا دیوی بھی کوسی کے سیلاب میں بہہ گئی تھیں۔ اس کے بعد وہ یہاں کیسے پہنچیں انہیں نہیں معلوم لیکن ان کے ساتھ بہہ جانے والے تین بچوں کا پتہ نہیں چلا۔ ارمیلا کے خدشے کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔

ایسے گوکرن اور ارمیلا ہر ریلیف کیمپ میں مل جائیں گے۔

فائل فوٹوقدرتی آفت۔۔۔
سیلاب قومی سطح کی کوششوں کا فقدان!
بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاںبہار میں سیلاب
بھارتی ریاست میں سیلاب کی تباہ کاریاں:تصاویر
جان لیوا بارشیں
انڈیا میں شدید بارشوں سے عام زندگی درہم برہم
بہار میں بارش
بہار میں مسلسل بارش نے زندگی تنگ کر دی
دکن ڈائری
آندھرا میں طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد