قومی سطح کی کوششوں کا فقدان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سر، میرا نام سورو ہے۔ مدھیپورا ضلع کے گوال پاڑہ علاقے کے ویر چترہ گاؤں سے بول رہا ہوں۔ بارہ دنوں سے سیلاب میں پھنسا ہوں، ہمارے ساتھ تین درجن افراد ہیں۔ ہمارے علاقے میں روزانہ ہیلی کاپٹر آ رہے ہیں، ہمیں ان ہیلی کاپٹر سے نکالا نہیں جا۔‘ سورو کی یہ منت ان لاکھوں افراد کی نمائندگی کرتی ہے جو دریائے کوسی میں آئے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ باندھ ٹوٹے پندرہ دن ہو گئے۔ اس سیلاب کو قومی آفت قرار دیکر وزیر اعظم من موہن سنگھ اٹھائس اگست کو ہی لوٹے تھے۔ ہر علاقے اور شعبے سے امدادی کا اعلان کیا جا رہا ہے لیکن سیلاب زدگان کے لیے اب بھی سب سے بنیادی ضرورت محفوظ مقام کی تلاش ہے۔ اور اس ضرورت کے لیے کی جا رہی تمام کوششیس ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ مقامی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے ہیلپ لائن نمبر پر سب سے زیادہ ایسی گزارشیں سننے کو ملتی ہیں ’راشن نہیں ، جلدی ناؤ بھیجوئیو سر‘۔ سیلاب زدہ علاقے میں موجود صحافی کمار پربودھ کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے سیلاب کو قومی آفت تو قرار دے دیا لیکن اس سے نمٹنے کے لیے جس سطح کی کوشش نظر آنی چاہیے وہ نہیں ہے۔ پربودھ کہتے ہیں ’اتنے بڑے ملک کے پاس کیا سو دو سو ہیلی کاپٹر نہیں جو لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں لگایا جا سکے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ پوری کوشش بہار ’سٹائل‘ کی ہے اور زیادہ تر کوششیں کشتیوں پر منحصر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سیلاب اب بھی ’بہار کا سیلاب‘ ہی ہے اور بچاؤ کی وہ سطح سامنے نہیں نظر آتی جو ہندوستان جیسے ملک کی ہونی چاہیئے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں صرف فوج کی موجودگی ہی ایسی بات ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس قومی آفت سے نمٹنے کے لیے قومی سطح کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق امدادی کاراوئی کے کام میں فوج کی بیس کالم لگائی گئ ہیں۔ ریاست کے ڈزاسٹر مینجمنٹ محکمے کے ایک اعلیٰ افسر پرتے امرت کا کہنا ہے کہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکلانے کے لیے ڈیڑھ سو موٹر بوٹ اور تقریبا چودہ سو کشتیاں لگائی گئی ہیں۔ امرت کے مطابق قریب سات لاکھ افراد کو ان علاقوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ دو ایک دنوں میں سیلاب سے گھرے بقیہ افراد کو بھی نکال لیا جائےگا۔ اس قدرتی آفت سے نجات کی صورت بھی قدرت کی جانب سے ہی سامنے آ رہی ہے۔ سیلاب زدہ مدھے پورہ، سپول، سہرسہ، ارریہ اور پورنیہ ضلع کے افراد کے لیے سکون کی بات یہ ہے کہ کوسی کی آبی سطح کم ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں27 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے درجنوں ہلاک26 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے لاکھوں متاثر25 August, 2008 | انڈیا ممبئی: طوفانی بارش سے2 ہلاک01 July, 2008 | انڈیا انڈیا، سیلاب سے پچاس لوگ ہلاک21 June, 2008 | انڈیا سیلاب: کئی صوبوں میں ہلاکتیں 18 June, 2008 | انڈیا بھارت:بارش کا قہر جاری، 140 ہلاک25 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||