BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہارسیلاب، امدادی کارروائیاں جاری
فائل فوٹو
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسلسل بارش نے امدادی کام میں روکاوٹ ڈالی ہے

ہندوستان کی ریاست بہار میں کئی لاکھ لوگ اب بھی سیلاب میں پھنسے ہیں جبکہ کئی اہم راستوں میں پانی بھر جانے سے امدادی کارروائیوں میں پریشانیوں کا سامنا ہے۔

ریاستی انتظامیہ کے مطابق کئی لاکھ لوگ اب بھی سیلاب میں پھنسے ہیں جن کے لیے فوج کے تینوں شعبے، فضائیہ، بحریہ اور ملٹری امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ اور پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔

ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں پہلے سے مشکلیں آرہی تھیں۔ لیکن اب سہرسا، سپویل اور مدھ پورہ کو جوڑنے والے نیشنل ہائی وے پر بھی کئی جگہ پانی بھر گیا ہے جس سے امدادی کاموں میں مزید مشکلیں پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ امدادی کاموں کے لیے اب تک سب سے مناسب یہی راستہ تھا جس پر پانی بڑھ رہا ہے۔

حکام کے مطابق اب بھی پانچ لاکھ سے زیادہ متاثرین ایسے ہیں جنہیں خوراک یا صاف پانی میسر نہیں ہے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ دریائے کوسی ميں آنے والے سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی سیلاب زدہ علاقوں ميں بھاری بارش اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے امداد پہنچانے میں انتظامیہ کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔

سیلاب سے لاکھوں لوگ بےگھر ہوگئے ہیں

بہار میں سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد قریباً تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز ایک امدادی کشتی الٹنے سے بیس افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اب تک سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا نوے ہوگئی ہے۔ تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

بہار میں آفات سے نمٹنے کے وزیر نتیش مشرا کے مطابق بھاری بارش کی وجہ سے متاثرین تک امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نتیش کمار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’بارش کی وجہ سے ہمیں امدادی کارروائی انجام دینے میں دقت کا سامنا ہے۔ بارش کی وجہ سے ہیلی کاپٹر بھی وقت پر کام نہیں کر پا رہے ہیں‘۔

سیلاب سے مجموعی طور پر بہار کے پندرہ اضلاع کے ایک ہزار چھ سو دیہات متاثر ہوئے ہيں لیکن چار اضلاع سوپول، آرریہ، مدھیہ پورا اور سہرسہ میں صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔ بی بی سی کی ٹیم جب ان علاقوں میں پہنچی تو بیشتر متاثرین کا یہی کہنا تھا کہ ان تک امدادی اشیاء نہیں پہنچی ہیں۔

سیلاب کا پانی مدھیہ پورا کے قریب بن منکھی بہاری گنج ریلوے لائن کے اوپر بہہ رہا ہے۔ یہ ریلوے لائن مدھیہ پورا کے افراد کو محفوظ مقامات پہنچانے میں بے حد مدد گار ثابت ہو رہی تھی لیکن اب اس روٹ پر بھی ٹرینیں چلانا ممکن نہیں رہا ہے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقے میں ائیرفورس کے چار ہیلی کاپٹر، 840 کشتیاں اور فوج کی تین دستے امدادی کام کر رہے ہیں۔

 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے اب تک مجموعی طور پر تقریبا سترافراد ہلاک ہوئے ہيں جبکہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے ميں امدادی کام بڑے پیمانے پر جاری ہے اور اب تک تقریباً ڈھائي لاکھ لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ہے۔ تاہم مدھیہ پورا جیسے مقامات پر سیلاب میں پھنسے افراد تاحال امداد کے منتظر ہیں۔مدھیہ پورا سے بی بی سی نامہ نگار موہن لال شرما کا کہنا ہے کہ مدھیہ پورا اور پورینہ کے درمیان سڑکوں پر دس دس فٹ پانی موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ سیلاب کے بعد ہزاروں افراد اپنےگھر بار چھوڑ کر شہروں کی طرف چل پڑے ہيں۔گاؤں والے اپنی پوری دنیا کو بیل گاڑی پر ڈال کر سیلاب سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے ہيں‘۔

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق سیلاب سے متاثرہ افراد نے اونچی سڑکوں، جگہوں اور ریلوے سٹیشنز پر پناہ لے رکھی ہے۔متعدد دیہات میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک کھانے پینے کا کوئی سامان نہيں ملا ہے۔ ایک متاثرہ بملیش یادو نے بتایا کہ ’ہمارا سب کچھ لٹ گیا ہے، ہمارا سبھی سامان پانی میں ڈوب گيا ہے۔ اب ہم لوگ یہاں سے باہر محفوظ مقام پر جا رہے ہيں تاکہ اپنے بچوں کو بچا سکیں‘۔

یاد رہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائی کے لیے فوج کو پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے۔ تاہم سیلاب نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے کہ تاحال تمام متاثرہ افراد کو خاطر خواہ امداد پہنچانا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

سب کچھ لٹ گیا
 ہمارا سب کچھ لٹ گیا ہے، ہمارا سبھی سامان پانی میں ڈوب گيا ہے ہم لوگ یہاں سے باہر محفوظ مقام پر جارہے ہيں تاکہ اپنے بچوں کو بچا سکیں۔
متاثر

صوبائي حکومت کے مطابق متاثرہ افراد کے لیے ایک سو چھیالیس امدادی اور تہتر طبی کیمپ بنائے گئے ہيں جبکہ جانوروں کے لیے بھی انسٹھ کیمپ بنائے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کے مطابق دریائے کوسی نیپال کے پشتے سے لے کر کورسیلا میں دریائے گنگا میں گرنے تک سوا سو کلومیٹر کی لمبائی میں بہار میں بہتی ہے۔ تام اب سیلاب کی وجہ سے دریا کا پانی کناروں کے دونوں جانب بارہ سے پندرہ کلومیٹر علاقے میں پھیل گیا ہے جس وجہ سے نقصان غیر متوقع رہا ہے۔

یاد رہے کہ اٹھارہ اگست کو نیپال کی سرحد کے نزدیک کوسی دریا پر بندھا ہوا بند ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے سیلاب آیا جبکہ حکام کا کہنا ہے کوسی دریا نے اپنا راستہ بدل دیا ہے اور اب وہ اس راستے پر بہہ رہا ہے جہاں دو سو برس پہلے بہا کرتا تھا۔

بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاںبہار میں سیلاب
بھارتی ریاست میں سیلاب کی تباہ کاریاں:تصاویر
جان لیوا بارشیں
انڈیا میں شدید بارشوں سے عام زندگی درہم برہم
بہار میں بارش
بہار میں مسلسل بارش نے زندگی تنگ کر دی
دکن ڈائری
آندھرا میں طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد