بہارسیلاب، امدادی کارروائیاں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں کئی لاکھ لوگ اب بھی سیلاب میں پھنسے ہیں جبکہ کئی اہم راستوں میں پانی بھر جانے سے امدادی کارروائیوں میں پریشانیوں کا سامنا ہے۔ ریاستی انتظامیہ کے مطابق کئی لاکھ لوگ اب بھی سیلاب میں پھنسے ہیں جن کے لیے فوج کے تینوں شعبے، فضائیہ، بحریہ اور ملٹری امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ اور پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں پہلے سے مشکلیں آرہی تھیں۔ لیکن اب سہرسا، سپویل اور مدھ پورہ کو جوڑنے والے نیشنل ہائی وے پر بھی کئی جگہ پانی بھر گیا ہے جس سے امدادی کاموں میں مزید مشکلیں پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ امدادی کاموں کے لیے اب تک سب سے مناسب یہی راستہ تھا جس پر پانی بڑھ رہا ہے۔ حکام کے مطابق اب بھی پانچ لاکھ سے زیادہ متاثرین ایسے ہیں جنہیں خوراک یا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ دریائے کوسی ميں آنے والے سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی سیلاب زدہ علاقوں ميں بھاری بارش اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے امداد پہنچانے میں انتظامیہ کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔
بہار میں سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد قریباً تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز ایک امدادی کشتی الٹنے سے بیس افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اب تک سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا نوے ہوگئی ہے۔ تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ بہار میں آفات سے نمٹنے کے وزیر نتیش مشرا کے مطابق بھاری بارش کی وجہ سے متاثرین تک امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نتیش کمار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’بارش کی وجہ سے ہمیں امدادی کارروائی انجام دینے میں دقت کا سامنا ہے۔ بارش کی وجہ سے ہیلی کاپٹر بھی وقت پر کام نہیں کر پا رہے ہیں‘۔ سیلاب سے مجموعی طور پر بہار کے پندرہ اضلاع کے ایک ہزار چھ سو دیہات متاثر ہوئے ہيں لیکن چار اضلاع سوپول، آرریہ، مدھیہ پورا اور سہرسہ میں صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔ بی بی سی کی ٹیم جب ان علاقوں میں پہنچی تو بیشتر متاثرین کا یہی کہنا تھا کہ ان تک امدادی اشیاء نہیں پہنچی ہیں۔ سیلاب کا پانی مدھیہ پورا کے قریب بن منکھی بہاری گنج ریلوے لائن کے اوپر بہہ رہا ہے۔ یہ ریلوے لائن مدھیہ پورا کے افراد کو محفوظ مقامات پہنچانے میں بے حد مدد گار ثابت ہو رہی تھی لیکن اب اس روٹ پر بھی ٹرینیں چلانا ممکن نہیں رہا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقے میں ائیرفورس کے چار ہیلی کاپٹر، 840 کشتیاں اور فوج کی تین دستے امدادی کام کر رہے ہیں۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے ميں امدادی کام بڑے پیمانے پر جاری ہے اور اب تک تقریباً ڈھائي لاکھ لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ہے۔ تاہم مدھیہ پورا جیسے مقامات پر سیلاب میں پھنسے افراد تاحال امداد کے منتظر ہیں۔مدھیہ پورا سے بی بی سی نامہ نگار موہن لال شرما کا کہنا ہے کہ مدھیہ پورا اور پورینہ کے درمیان سڑکوں پر دس دس فٹ پانی موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ سیلاب کے بعد ہزاروں افراد اپنےگھر بار چھوڑ کر شہروں کی طرف چل پڑے ہيں۔گاؤں والے اپنی پوری دنیا کو بیل گاڑی پر ڈال کر سیلاب سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے ہيں‘۔ ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق سیلاب سے متاثرہ افراد نے اونچی سڑکوں، جگہوں اور ریلوے سٹیشنز پر پناہ لے رکھی ہے۔متعدد دیہات میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک کھانے پینے کا کوئی سامان نہيں ملا ہے۔ ایک متاثرہ بملیش یادو نے بتایا کہ ’ہمارا سب کچھ لٹ گیا ہے، ہمارا سبھی سامان پانی میں ڈوب گيا ہے۔ اب ہم لوگ یہاں سے باہر محفوظ مقام پر جا رہے ہيں تاکہ اپنے بچوں کو بچا سکیں‘۔ یاد رہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائی کے لیے فوج کو پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے۔ تاہم سیلاب نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے کہ تاحال تمام متاثرہ افراد کو خاطر خواہ امداد پہنچانا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
صوبائي حکومت کے مطابق متاثرہ افراد کے لیے ایک سو چھیالیس امدادی اور تہتر طبی کیمپ بنائے گئے ہيں جبکہ جانوروں کے لیے بھی انسٹھ کیمپ بنائے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کے مطابق دریائے کوسی نیپال کے پشتے سے لے کر کورسیلا میں دریائے گنگا میں گرنے تک سوا سو کلومیٹر کی لمبائی میں بہار میں بہتی ہے۔ تام اب سیلاب کی وجہ سے دریا کا پانی کناروں کے دونوں جانب بارہ سے پندرہ کلومیٹر علاقے میں پھیل گیا ہے جس وجہ سے نقصان غیر متوقع رہا ہے۔ یاد رہے کہ اٹھارہ اگست کو نیپال کی سرحد کے نزدیک کوسی دریا پر بندھا ہوا بند ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے سیلاب آیا جبکہ حکام کا کہنا ہے کوسی دریا نے اپنا راستہ بدل دیا ہے اور اب وہ اس راستے پر بہہ رہا ہے جہاں دو سو برس پہلے بہا کرتا تھا۔ |
اسی بارے میں بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں27 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے درجنوں ہلاک26 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے لاکھوں متاثر25 August, 2008 | انڈیا ممبئی: طوفانی بارش سے2 ہلاک01 July, 2008 | انڈیا انڈیا، سیلاب سے پچاس لوگ ہلاک21 June, 2008 | انڈیا سیلاب: کئی صوبوں میں ہلاکتیں 18 June, 2008 | انڈیا بھارت:بارش کا قہر جاری، 140 ہلاک25 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||