بہار: سیلاب سے قریباً 30 لاکھ متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں دریائے کوسی ميں آنے والے سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد قریباً تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک امدادی کشتی الٹنے سے بیس افراد کی ہلاکت کے بعد اب تک سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سّتر ہو گئی ہے۔ تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ صوبائي حکومت کے مطابق گذشتہ دو دنوں میں پورنیا اور کٹیہار اضلاع کے نئے علاقوں میں سیلاب کا پانی داخل ہوا ہے اور اس طرح ریاست میں مزید دس لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہيں جبکہ دریائے کوسی کے ڈیلٹا میں بیس لاکھ افراد پہلے ہی سیلاب کے نتیجے میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ سیلاب سے مجموعی طور پر بہار کے پندرہ اضلاع کے ایک ہزار چھ سو دیہات متاثر ہوئے ہيں لیکن چار اضلاع سوپول، آرریہ، مدھیہ پورا اور سہرسہ میں صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔ کشتی الٹنے کا واقعہ جمعہ کو مدھیہ پورا میں پیش آیا۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق ڈوبنے والی کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے اور اس حادثے میں چالیس افراد کو بچایا بھی گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے ميں امدادی کام بڑے پیمانے پر جاری ہے اور اب تک تقریباً ڈھائي لاکھ لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ہے۔ تاہم مدھیہ پورا جیسے مقامات پر سیلاب میں پھنسے افراد تاحال امداد کے منتظر ہیں۔مدھیہ پورا سے بی بی سی نامہ نگار موہن لال شرما کا کہنا ہے کہ مدھیہ پورا اور پورینہ کے درمیان سڑکوں پر دس دس فٹ پانی موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ سیلاب کے بعد ہزاروں افراد اپنےگھر بار چھوڑ کر شہروں کی طرف چل پڑے ہيں۔گاؤں والے اپنی پوری دنیا کو بیل گاڑی پر ڈال کر سیلاب سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے ہيں‘۔ ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق سیلاب سے متاثرہ افراد نے اونچی سڑکوں، جگہوں اور ریلوے سٹیشنز پر پناہ لے رکھی ہے۔متعدد دیہات میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک کھانے پینے کا کوئی سامان نہيں ملا ہے۔ ایک متاثرہ بملیش یادو نے بتایا کہ ’ہمارا سب کچھ لٹ گیا ہے، ہمارا سبھی سامان پانی میں ڈوب گيا ہے۔ اب ہم لوگ یہاں سے باہر محفوظ مقام پر جا رہے ہيں تاکہ اپنے بچوں کو بچا سکیں‘۔ یاد رہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائی کے لیے فوج کو پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے۔ تاہم سیلاب نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے کہ تاحال تمام متاثرہ افراد کو خاطر خواہ امداد پہنچانا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
امدادی کاموں کی نگرانی کرنے والے ایڈیشنل کمشنر امرت نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹر اور بحریہ کی موٹر بوٹس بچاؤ کے کام میں لگی ہوئي ہیں جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کے دو ہزار جوان بھی بچاؤ کے کام پر مامور ہیں۔ مسٹر امرت کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ فوج کے دو ہزار جوان بھی امدادی کاموں کے لیے طلب کیے گئے ہیں۔ صوبائي حکومت کے مطابق متاثرہ افراد کے لیے ایک سو چھیالیس امدادی اور تہتر طبی کیمپ بنائے گئے ہيں جبکہ جانوروں کے لیے بھی انسٹھ کیمپ بنائے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کے مطابق دریائے کوسی نیپال کے پشتے سے لے کر کورسیلا میں دریائے گنگا میں گرنے تک سوا سو کلومیٹر کی لمبائی میں بہار میں بہتی ہے۔ تام اب سیلاب کی وجہ سے دریا کا پانی کناروں کے دونوں جانب بارہ سے پندرہ کلومیٹر علاقے میں پھیل گیا ہے جس وجہ سے نقصان غیر متوقع رہا ہے۔ یاد رہے کہ اٹھارہ اگست کو نیپال کی سرحد کے نزدیک کوسی دریا پر بندھا ہوا بند ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے سیلاب آیا جبکہ حکام کا کہنا ہے کوسی دریا نے اپنا راستہ بدل دیا ہے اور اب وہ اس راستے پر بہہ رہا ہے جہاں دو سو برس پہلے بہا کرتا تھا۔ |
اسی بارے میں بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں27 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے درجنوں ہلاک26 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے لاکھوں متاثر25 August, 2008 | انڈیا ممبئی: طوفانی بارش سے2 ہلاک01 July, 2008 | انڈیا انڈیا، سیلاب سے پچاس لوگ ہلاک21 June, 2008 | انڈیا سیلاب: کئی صوبوں میں ہلاکتیں 18 June, 2008 | انڈیا بھارت:بارش کا قہر جاری، 140 ہلاک25 June, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||