منموہن حکومت کی مشکلات برقرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان ميں حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد یعنی یو پی اے کے لیے بائیس جولائی کو اکثریت ثابت کرنا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو رہا ہے اور اس حوالے سے سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ تیز ہوگيا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان ميں ہند۔امریکہ جوہری معاہدے پر اختلافات کی وجہ سے 8 جولائي کو بائیں محاذ کی جماعتوں نے حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی اور اس وجہ سے حکومت اقلیت میں آگئی تھی۔ حکومت کی جانب سے اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ 22 جولائی کو ہو رہی ہے۔ اتوار کو جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم ) کے صدر شیبو سورین نے یو پی اے کی سربراہ سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد حکومت کے حق ميں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر حکمراں اتحاد ميں شامل ڈراوڈ منیتر گژگم یعنی ڈی ایم کے کے ناراض رہنما دیانیدھی مارن نے بھی حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ مارن نے پہلے کہا تھا کہ وہ پارٹی کے فیصلے کی مخالفت کریں گے اور ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہیں گے۔ دوسری جانب راشٹریہ لوک دل یعنی آر ایل ڈی کے رہنما اجیت سنگھ نے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اترپردیش کی وزیراعلٰی مایاوتی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت میں ووٹ دیں گے۔ آر ایل ڈی کا یہ قدم حکومت کے لیے ایک دھچکا ہے کیوں کہ پہلے انہوں نے یو پی اے کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ادھر سماج وادی پارٹی یعنی ایس پی کے صدر ملائم سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ ان کی پارٹی متحد ہے اور پینتیس ارکان پارلیمان ان کے ساتھ ہيں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے چار ارکان پارلیمان پارٹی سے باغی ہوگئے ہیں۔ ایس پی کے پاس 39 ارکان پارلیمان ہيں اور پارٹی کو انتشار کا سامنا ہے۔ ایس پی جوہری معاملے پر یو پی اے کی حمایت کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ 545 رکنی لوک سبھا یعنی ایوان زیریں میں دو سیٹیں خالی ہیں، جبکہ ایک رکن کی اہلیت رد کی جا چکی ہے، ایسے میں 542 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ میں حکومت کو مطلوبہ اکثریت کے لیے 272 ووٹوں کی حمایت درکار ہے۔ حکمراں کانگریس 280 لوک سبھا ارکان کی حمایت کا دعوی کرتی ہے جبکہ تجزیہ کاروں کی رائے میں اسے ابھی بھی مطلو بہ اکثریت میں دو چار ووٹ کم ہیں۔ جبکہ ان کے مخالف جماعتوں کا بھی حال کم و بیش ایسا ہی ہے۔ سرکار کی بقاء کا دارو مدار دس بارہ ایسے ارکان پارلیمان پر ہے جنہوں نے ابھی بھی یہ طے نہيں کیا کہ ان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اس صورتحال میں سبھی سیاسی جماعتوں کی نظریں اب تین ارکان پارلیمان والے جنتا دل (ایس) اور متعدد آزاد ارکان پارلیمان پر ٹکی ہوئی ہيں۔ اسمبلی میں ایک نشست کی حامل جماعت ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ووٹنگ کے دوران ان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اتوار کو یو پی اے کی جانب سے’ ڈنر پارٹی‘ ہو رہی ہے تو پیر کو این ڈی اے کی جانب سے ڈنر پارٹی کی جانے والی ہے۔ اس ڈنر پارٹی میں کچھ حد تک یہ واضح ہو جائے گا کہ کون کس کے حق میں ووٹ ڈالے گا۔ تاہم مبصرین کی رائے ميں’ کراس ووٹنگ‘ کے امکانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ اور ممکنہ طور پر نتیجے ميں کراس ووٹنگ ہی سب سے اہم کردار ادا کرے گی۔ |
اسی بارے میں ’اعتماد کا ووٹ مل جائے گا‘منموہن 15 July, 2008 | انڈیا ’جوہری معاہدے کو افشا کیا جائے‘09 July, 2008 | انڈیا حمایت واپسی سے جیوتی بسو ناخوش09 July, 2008 | انڈیا ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا کیا بائیں محاذ سے غلطی سرزد ہوئی ہے؟08 July, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||