BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 July, 2008, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تحریکِ اعتماد پر سیاسی تناسب واضح نہیں

جس پارٹی میں سیاست کے جدید تقاضوں کا جوہر زیادہ ہوگا وہ اس کھیل میں فاتح رہے گی
ہندوستان ميں ہند-امریکہ جوہری معاہدے پر سیاسی اختلافات کی وجہ سے حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک اعتماد پر ووٹنگ منگل کو ہونے والی ہے۔ اس کے پیش نظر ملک میں سیاسی سرگرمیان تیز ہوگئی ہيں، میٹنگوں کا سلسلہ وسیع ہوگیا ہے اورسیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کی سربراہی والا حکمراں اتحاد یو پی اے اعتماد کی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا؟ اس بارے میں سبھی سیاسی جماعتوں کی نظریں ابھی بھی تین ارکان پارلیمان والے جنتا دل (ایس) اور متعدد آزاد ارکان پارلیمان پر مرکوز ہيں۔

545 رکنی لوک سبھا یعنی ایوان زریریں میں دو سیٹیں خالی ہیں، جبکہ ایک رکن کی اہلیت رد کی جا چکی ہے، ایسے میں 542 ارکان پر مشتمل لوک سبھا میں حکومت کو مطلوبہ اکثریت کے لیے 272 ووٹوں کی حمایت درکار ہے۔

وزیر اعظم کی کرسی پر نظر
 مایاوتی اس سیاسی کھیل ميں زور و شور سے حصلہ لے رہی ہیں۔ انہيں مستقبل کے وزير اعظم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مبصرین کی رائے میں اگر حکومت گر جاتی ہے تو وہ ممکنہ طور پر وزیر اعظم کی کرسی پر ’براجمان‘ ہوسکتی ہیں
حکمراں کانگریس 280 لوک سبھا ارکان کی حمایت کا دعوی کرتی ہے جبکہ تجزیہ کاروں کی رائے میں وہ ابھی بھی مطلوبہ اکثریت سے دو چارو ووٹ پیچھے ہے۔ جبکہ اس کی مخالف جماعتوں کی صورتحال بھی کم و بیش ایسی ہی ہے۔ سرکار کی بقا کا دار و مدار دس سے بارہ ایسے لوک سبھا کے ارکان پر ہے جو اس سیاسی طلاطم کی کشتی پر سوار نہيں ہوئے ہیں۔ اور باہر ہی سے سیاسی طغیانی کا نظارہ دیکھ رہے ہيں۔

حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی طاقتیں اور حکمراں اتحاد دونوں اپنی زور آزمائش میں لگے ہوئے ہيں۔ دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہيں۔ لیکن فی الوقت جو ’سیاسی ایکویشن‘ہے کسی کے حق یا مخالف میں واضح نہیں ہے۔

حکمراں اتحاد اور اس کی مخالف جماعتیں اپنی اپنی فتح یقینی بنانے کے لیے گزشتہ ایک ہفتے سے سیاسی ملاقاتوں، میٹنگوں اور توڑ جوڑ کی سیاست میں مشغول ہیں۔

سیاسی ملاقاتوں کے پس پردہ حکمراں اتحاد کو کچھ کامیابی ملی ہے۔ اتوار کو پانچ لوک سبھا ارکان والے جھارکھنڈ مکتی مورچہ، ایک رکن والے مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی اور دراوڈ منتر گژگم کے ناراض رہنما دیاندھی مارن نے حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ تین ارکان والے راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ نے حکومت کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا۔

جنتا دل (ایس) کے صدر سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے ابھی بھی واضح نہیں کیا ہے کہ ان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اتوار کو وہ بہوجن سماج وادی پارٹی کی سربراہ مایاوتی سے ملاقات کر رہے ہيں۔

’سیاسی ایکویشن‘ واضح نہيں
 حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی طاقتیں اور حکمراں اتحاد دونوں اپنی زور آزمائش میں لگے ہوئے ہيں۔ دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہيں۔لیکن فی الوقت جو ’سیاسی ایکویشن‘ہے کسی کے حق یا مخالف میں واضح نہیں ہے
مایاوتی اس سیاسی کھیل ميں زور و شور سے حصہ لے رہی ہیں۔ انہيں مستقبل کے وزير اعظم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کی رائے میں اگر حکومت گر جاتی ہے تو وہ ممکنہ طور پر وزیر اعظم کی کرسی پر ’براجمان‘ ہوسکتی ہیں۔

اگر حکومت گر جاتی ہے تو سب سے زیادہ فائدہ حزب اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہوگا کیوں کہ کانگریس کے بعد وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ ایسی صورت میں پارٹی کا سرگرم ہونا یقینی ہے۔ اور وہ اپنے بیمار ارکان پارلمیان کو بھی اتوار کو ہر حال میں دلی میں حاضر دیکھنا چاہتی ہے۔ اور وہ حکومت کو گرانے کے لیے کمر بستہ ہے۔

مبصرین اس بات پر متفق ہيں کہ 22 جولائی کو جیت اور ہار محض چند ووٹوں سے ہی ہوگی، اس لیے اقتدار حاصل کرنے یا اقتدار سے باہر کرنے کے لیے سیاسی پارٹیاں ایک دوسری جماعتوں کو توڑنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہيں۔اور اسی سبب بعض ارکان پارلیمان کھل کر اپنی پارٹی کے وہپ (حکم نامہ) کی خلاف ورزی کرنے پر آمادہ ہيں۔

دوسری جانب حزب اختلاف اور حکمراں اتحاد ارکان پارلمان کو اپنی طرف راغب کرنے، ان کی حمایت دکھانے اور بظاہر سودے بازی کے لیے’ ڈینر پارٹی‘ کا بھی اہمتام کر رہی ہیں۔ اتوار کو حکمراں اتحاد یو پی اے کی جانب سے اعشائیہ کا پروگرام ہے تو پیر کو بی جے پی کی’ ڈینر پارٹی‘ ہے۔

ان ملاقاتوں کے قطع نظر مبصرین کی رائے ميں حکومت کو بچانے اور گرانے کے لیے خرید و فروخت، وزارت کی پیشکش اور ارکان پارلمیان کے دیرینہ مطالبات پورے کرنے جیسے کھیل کھل کر کھیلے جارہے ہيں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جس پارٹی میں سیاست کے ’جدید تقاضوں کا جوہر‘ زیادہ ہوگا وہ اس کھیل میں فاتح رہے گی۔یعنی حکومت بچالے گي یا گرادے گی۔

حکمراں اتحاد اور ان کے مخالفین کی نظر چھوٹی چھوٹی جماعتوں اور متعدد آزاد لوک سبھا ارکان پر ہے
دونوں فریقین کے’ سنکٹ موچک‘ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ’جادوئی آنکڑا‘ یعنی اعداد و شمار ان کے پاس ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین ابھی بھی پس و پیش ميں ہيں اور وہ بھی یہ سمجھ نہيں پا رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ تاہم اس امر پر سبھی کا اتفاق ہے کہ حکمراں اتحاد کوایک غیرمعمولی چیلنج کا سامنا ہے۔

تقریبا دس بارہ لوک سبھا ارکان نے اپنا موقف واضح نہيں کیا ہے کہ وہ حکومت کے حق میں یا خلاف میں ووٹ دیں گے۔ یہی راز داری حکمراں اتحاد اور حزب اختلاف کے لیے سب سے بڑی ’چنوتی‘ بناہوئی ہے۔ حزب اختلاف اور حکمراں اتحاد دونوں انہيں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کوشاں ہيں۔ لیکن ارکان پارلمیان اس تذبذب ميں مبتلا ہوگئے ہیں کہ وہ کیا کریں۔ابھی وہ طے نہيں کر پا رہے ہيں کہ کدھر جائیں اور کس کے ساتھ جانا زیادہ سود مند ہوگا۔

واضح رہے کہ اب تک لوک سبھا ميں 26 بار عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی۔ اور اس سبب محض ایک بار حکومت کو اقتدار سے جانا پڑا جبکہ خود حکومت کے ذریعہ گيارہ بار اعتماد کی تحریک لائی گئی اور پانچ بار حکومت اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

ماضی پر نظر ڈالیں تو 1999 ميں اٹل بہاری واجپیئي کی حکومت محض ایک ووٹ سے شکست کھا گئی تھی اور اس لیے تجزیہ کاروں کی رائے واضح نہیں ہے اور جس طرح سیاسی بساط بدل رہی ہے کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔

فائل فوٹوبائیں محاذ کا فیصلہ
مہنگائی پر جوہری ڈیل کو ترجیح، صحیح فیصلہ؟

مایاوتی اور پرکاش کارت’نئے اتحاد کا جنم‘
بائيں محاذ اور مایاوتی حکومت کے خلاف ہم قدم
جیوتی باسوباسو کی ناراضگی
حکومت کی حمایت ختم کرنے پر باسو ناراض
منموہن سنگھ اور جارج ڈبلیو بشجوہری معاہدہ
ہند امریکی جوہری معاہدے کےنشیب و فراز
بھابھا اٹومک سنٹرمعاہدے کی تفصیلات
ہند-امریکہ جوہری معاہدے کے اہم نکات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد