تحریکِ اعتماد پر سیاسی تناسب واضح نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان ميں ہند-امریکہ جوہری معاہدے پر سیاسی اختلافات کی وجہ سے حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک اعتماد پر ووٹنگ منگل کو ہونے والی ہے۔ اس کے پیش نظر ملک میں سیاسی سرگرمیان تیز ہوگئی ہيں، میٹنگوں کا سلسلہ وسیع ہوگیا ہے اورسیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کی سربراہی والا حکمراں اتحاد یو پی اے اعتماد کی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا؟ اس بارے میں سبھی سیاسی جماعتوں کی نظریں ابھی بھی تین ارکان پارلیمان والے جنتا دل (ایس) اور متعدد آزاد ارکان پارلیمان پر مرکوز ہيں۔ 545 رکنی لوک سبھا یعنی ایوان زریریں میں دو سیٹیں خالی ہیں، جبکہ ایک رکن کی اہلیت رد کی جا چکی ہے، ایسے میں 542 ارکان پر مشتمل لوک سبھا میں حکومت کو مطلوبہ اکثریت کے لیے 272 ووٹوں کی حمایت درکار ہے۔
حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی طاقتیں اور حکمراں اتحاد دونوں اپنی زور آزمائش میں لگے ہوئے ہيں۔ دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہيں۔ لیکن فی الوقت جو ’سیاسی ایکویشن‘ہے کسی کے حق یا مخالف میں واضح نہیں ہے۔ حکمراں اتحاد اور اس کی مخالف جماعتیں اپنی اپنی فتح یقینی بنانے کے لیے گزشتہ ایک ہفتے سے سیاسی ملاقاتوں، میٹنگوں اور توڑ جوڑ کی سیاست میں مشغول ہیں۔ سیاسی ملاقاتوں کے پس پردہ حکمراں اتحاد کو کچھ کامیابی ملی ہے۔ اتوار کو پانچ لوک سبھا ارکان والے جھارکھنڈ مکتی مورچہ، ایک رکن والے مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی اور دراوڈ منتر گژگم کے ناراض رہنما دیاندھی مارن نے حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ تین ارکان والے راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ نے حکومت کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا۔ جنتا دل (ایس) کے صدر سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے ابھی بھی واضح نہیں کیا ہے کہ ان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اتوار کو وہ بہوجن سماج وادی پارٹی کی سربراہ مایاوتی سے ملاقات کر رہے ہيں۔
اگر حکومت گر جاتی ہے تو سب سے زیادہ فائدہ حزب اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہوگا کیوں کہ کانگریس کے بعد وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ ایسی صورت میں پارٹی کا سرگرم ہونا یقینی ہے۔ اور وہ اپنے بیمار ارکان پارلمیان کو بھی اتوار کو ہر حال میں دلی میں حاضر دیکھنا چاہتی ہے۔ اور وہ حکومت کو گرانے کے لیے کمر بستہ ہے۔ مبصرین اس بات پر متفق ہيں کہ 22 جولائی کو جیت اور ہار محض چند ووٹوں سے ہی ہوگی، اس لیے اقتدار حاصل کرنے یا اقتدار سے باہر کرنے کے لیے سیاسی پارٹیاں ایک دوسری جماعتوں کو توڑنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہيں۔اور اسی سبب بعض ارکان پارلیمان کھل کر اپنی پارٹی کے وہپ (حکم نامہ) کی خلاف ورزی کرنے پر آمادہ ہيں۔ دوسری جانب حزب اختلاف اور حکمراں اتحاد ارکان پارلمان کو اپنی طرف راغب کرنے، ان کی حمایت دکھانے اور بظاہر سودے بازی کے لیے’ ڈینر پارٹی‘ کا بھی اہمتام کر رہی ہیں۔ اتوار کو حکمراں اتحاد یو پی اے کی جانب سے اعشائیہ کا پروگرام ہے تو پیر کو بی جے پی کی’ ڈینر پارٹی‘ ہے۔ ان ملاقاتوں کے قطع نظر مبصرین کی رائے ميں حکومت کو بچانے اور گرانے کے لیے خرید و فروخت، وزارت کی پیشکش اور ارکان پارلمیان کے دیرینہ مطالبات پورے کرنے جیسے کھیل کھل کر کھیلے جارہے ہيں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جس پارٹی میں سیاست کے ’جدید تقاضوں کا جوہر‘ زیادہ ہوگا وہ اس کھیل میں فاتح رہے گی۔یعنی حکومت بچالے گي یا گرادے گی۔
تقریبا دس بارہ لوک سبھا ارکان نے اپنا موقف واضح نہيں کیا ہے کہ وہ حکومت کے حق میں یا خلاف میں ووٹ دیں گے۔ یہی راز داری حکمراں اتحاد اور حزب اختلاف کے لیے سب سے بڑی ’چنوتی‘ بناہوئی ہے۔ حزب اختلاف اور حکمراں اتحاد دونوں انہيں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کوشاں ہيں۔ لیکن ارکان پارلمیان اس تذبذب ميں مبتلا ہوگئے ہیں کہ وہ کیا کریں۔ابھی وہ طے نہيں کر پا رہے ہيں کہ کدھر جائیں اور کس کے ساتھ جانا زیادہ سود مند ہوگا۔ واضح رہے کہ اب تک لوک سبھا ميں 26 بار عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی۔ اور اس سبب محض ایک بار حکومت کو اقتدار سے جانا پڑا جبکہ خود حکومت کے ذریعہ گيارہ بار اعتماد کی تحریک لائی گئی اور پانچ بار حکومت اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو 1999 ميں اٹل بہاری واجپیئي کی حکومت محض ایک ووٹ سے شکست کھا گئی تھی اور اس لیے تجزیہ کاروں کی رائے واضح نہیں ہے اور جس طرح سیاسی بساط بدل رہی ہے کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ |
اسی بارے میں ’اعتماد کا ووٹ مل جائے گا‘منموہن 15 July, 2008 | انڈیا ’جوہری معاہدے کو افشا کیا جائے‘09 July, 2008 | انڈیا حمایت واپسی سے جیوتی بسو ناخوش09 July, 2008 | انڈیا ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا کیا بائیں محاذ سے غلطی سرزد ہوئی ہے؟08 July, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||