’اعتماد کا ووٹ مل جائے گا‘منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ہند امریکہ جوہری معاہدے پر زبردست سیاسی گہما گہمی کے درمیان وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کے مقتدر اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے مدیران سے ملاقات میں کہا ہے کہ ان کی حکومت 22 جولائی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کر لےگي۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس معاہدے کی افادیت کو سمجھتے ہیں اس لیے وہ اس کی حمایت کریں گے۔ منگل کو دلی میں مدیروں سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کے لیے مہنگائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افراط زر کی شرح میں بہت جلد کمی آجائے گی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہند امریکہ جوہری معاہدہ پائے تکمیل تک پہنچےگا۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ جوہری معاہدہ ملک کے مفاد میں ہے اور اس سے نہ صرف توانائي حاصل ہوگی بلکہ اس معاہدے سے جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی آسان ہوجائے گی اور جوہری معاہدے سے ملک کی خارجہ پالیسی متاثر نہيں ہوگی۔ اعلی مدیروں سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جنوبی ایشیاء میں اپنے پڑوسی ملکوں سے بہتر رشتوں کے خواہاں ہیں اوران ممالک سے اچھے رشتے قائم رکھیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ منگل کو جوہری معاہدے کی مخالفت میں بائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی جس سے حکومت اقلیت میں آگئی ہے۔ اکیس اور بائیس جولائي کو لوک سبھا کا خصوصی اجلاس طلب کیا گيا ہے۔ بائیس جولائی کو حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گي۔ |
اسی بارے میں بائیں محاذ کی ڈیل مخالف مہم 14 July, 2008 | انڈیا ’اعتماد کا ووٹ بائیس جولائی کو‘12 July, 2008 | انڈیا ایٹمی منصوبہ عالمی ادارے کو پیش10 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ: ہندو کا یا مسلمان کا 10 July, 2008 | انڈیا ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||