ایک نئے اتحاد کا جنم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاید اسی کو سیاست کہتے ہیں۔ سیاست میں کب کیا ہو جائے کوئی نہیں جانتا۔ ہند۔امریکہ جوہری معاہدے نے جہاں کئی اتحاد توڑے ہیں وہیں نئے اتحاد پیدا بھی کیے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بائیں محاذ اور کانگریس کا ساتھ چھوٹا تو ماضی میں ایک دوسرے کے حریف سماج وادی پارٹی اور کانگریس ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ وہیں بائیں محاذ نے بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر حکومت کو اقتدار سے دستبردار کرنے کے لیے مورچہ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ مارکسی کیمونسٹ پارٹی کے رہنما پرکاش کارت کا کہنا ہے ’ بائيں محاذ اور بہوجن سماج پارٹی نے حکومت سے علیحدگی کے بعد ایک ساتھ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ ریاست اتر پردیش کی وزیراعلی مایاوتی ہند- امریکہ جوہری معاہدے کے سبب پیدا ہونے والی جوڑ توڑ کی سیاست کا بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مایاوتی کی جماعت بہوجن سماج پارٹی کے 17 اراکین پارلیمان مرکزی حکومت کو باہر سے حمایت فراہم کر رہے تھے۔ لیکن انہوں نے حکومت پر ان کی ریاست کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ مایاوتی کی جانب سے حمایت واپسی کی ایک وجہ تجزیہ کار کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی نزدیکیاں بھی بتاتے ہیں۔ کیونکہ ایک زمانے ميں سماجوادی پارٹی کے رہمنا ملائم سنگھ یادو کے اثر والی ریاست اتر پردیش میں آج مایاوتی کا راج ہے۔ مایاوتی کی جانب سے حمایت واپسی کے اعلان کے چند روز بعد ہی بائيں محاذ نے حکومت سے حمایت واپس لے لی۔ ان کی حمایت واپس لینے کی وجہ تھی ہند امریکہ جوہری معاہدہ۔ جہاں ایک طرف حکمراں کانگریس اقلیت میں آئی ہوئی حکومت کو بچانے کے لیے اتحادیوں کو جمع کرنے میں مصروف تھی وہيں دوسری جانب اس دوران مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نےسپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ ان کے پاس وہ تمام ثبوت موجود ہیں جس کی مدد سے مایاوتی پر آمندنی سے زيادہ اثاثے ہونے کا مقدمہ چلایا جا سکے۔
مایاوتی نے اس عمل کو کانگریس اور بی جے پی کی سازش بتایا اور کہاکہ ’مقدمہ تو پچھلے پانچ برس سے چلے آ رہے ہیں تو سی بی آئی نے ان کی حانب سے مرکزي حکومت سے حمایت واپس لینے کے بعد ہی یہ قدم کیوں اٹھایا۔‘ مایاوتی کی حمایت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور بایاں محاذ دونوں ہی سامنے آئے۔ بی جے پی نے کہا کہ’ کانگریس کو اگر سماجوادی پارٹی حمایت فراہم کر رہی ہوتی ہے تو وہ سی بی آئی سے بہوجن سماج پارٹی کے خلاف معاملات کھولنے کا حکم جاری کرتی ہے اور جب کانگریس کو بہو جن سماج پارٹی کی حمایت حاصل ہو تی ہے تو سماجوادی پارٹی کے تمام مقدمات دوبارہ سے کھول دیے جاتے ہیں۔‘ لیکن بظاہر طور پر یہ نظر آ رہا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی تین مرتبہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر نے کے بعد اب اس موڈ میں نہيں ہے کہ وہ پھر سے وہی غلطی دوہرائے۔ شاید اسی لیے انہوں نے بایاں محاذ کا رخ کیا اور ہند امریکہ جوہری معاہدے کے خلاف حکومت مخالف جدوجہد میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ |
اسی بارے میں ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا بایاں بازو حکومت سے الگ ہوگیا08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا کیا بائیں محاذ سے غلطی سرزد ہوئی ہے؟08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||