’جوہری معاہدے کو افشا کیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منموہن سنگھ حکومت سے حمایت واپس لینے کے بعد بائیں محاذ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے کے متن کو جاری کرے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سینئر لیڈر پرکاش کرات نے صدر مملکت کو حمایت واپسی کا خطوط سونپنے کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کا مسودہ قطعی طور پر خفیہ دستاویز نہیں ہے۔ ’حکومت اس دستاویز کو چھپا رہی ہے جس کے تحت ملک کے جوہری ری ایکٹر دائمی طور پر بین الاقوامی معائنے کے دائرے میں آ جائیں گے۔‘ ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی کے مقتدر رہمناء اور مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلی جیوتی باسو نے ہند امریکہ جوہری معاہدے پر جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس پر اپنی ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔
پچانوے سالہ جیوتی باسو نے بائیں بازو کو نہایت ہی احتیاط کے ساتھ کام لینا چاہیے کیونکہ ’ہماری کوئی بھی غلطی مذہبی سخت گیروں کے لیے فائدہ مند ثاہت ہوسکتی ہے۔‘ پرکاش کرات نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سیاسی بحران کےلیے حکومت ذمہ دار ہے’ ایسے وقت میں جب عوام زبردست مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت تھی یہ حکومت صدر بش کو خوش کرنے میں لگی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدہ کے خلاف جد و جہد ختم نہیں ہوئی ہے’ہم اس مجوزہ جوہری معاہدہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے اور ہمیں امید ہے کہ یہ معاہدہ نہیں ہو سکے گا۔‘ بائیں محاذ نے صدر مملکت پرتیبھا پاٹل کو دیئےگئے خط میں اپنی حمایت واپس لینے کی اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ ان سے درخواست کی ہے کہ وہ حکومت سے جلد سے جلد اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہیں۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||