بھارت بند: اندور میں 3 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کمشیر میں شری امرناتھ شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین کے حکم نامے کو کالعدم قرار دینے کے خلاف بھارت بند کے دوران مدھیہ پردیش کےشہر اندور میں تین افراد ہلاک ہوگیے ہيں۔ بھارت بند کا اعلان وشو ہندو پریشد یعنی وی ایچ پی نے کیا ہے اور اس ملک گیر بند کا اثر کئی صوبوں میں دیکھا جارہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے انسپکرٹر جنرل انل کمار کے مطابق اندور میں مظاہرے کے دوران ہونے والے تصادم میں تین افراد ہلاک ہوگیے ہيں۔جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد پانچ ہے۔ پولیس کے مطابق اندور ميں مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ کیا گيا جس کے جواب میں پولیس کو گولی چلانی پڑی۔اور پانچ تھانوں علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گيا ہے۔ ادھر جموں ميں کرفیو کے درمیان پرتشدد مظاہرے ہورہے ہيں۔ جموں خطے کے کٹھوا، موگا، ادھمپور، بھدیرواہ اور بعض دیگر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے جن میں کئی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہيں۔ جموں کے روپ نگر، ستواڑی، بخشی نگر، گاڑی گڈھ میں بھی پتھراؤ کی اطلاعات ہیں۔ جموں خطے میں عام زندگی پوری طرح معطل ہے اور حالات کشیدہ ہيں۔
جموں میں بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق صوبائي حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے فسادات مخالف ریپڈ ایکشن فورس طلب کی ہيں۔ واضح رہے کہ وی ایچ پی کی اس ہڑتال کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ، شیو سینا اور بعض دیگر ہندو نواز سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس لیے بی جے پی کی حکمرانی والے صوبوں میں ہڑتال کا اثر دیکھا جارہا ہے جبکہ غیر بی جے پی کی حکمرانی والے صوبوں میں بند کا اثر بہت کم ہے۔ کل ہند تجارتی یونین نے بھی بند کی حمایت میں دکانیں بند رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اطلاعات مطابق ملک کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی کے بعض علاقوں میں پتھراؤ اور سڑک بلاک کرنے کے واقعات رونما ہوئے ہيں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ وی ایچ پی حامیوں نے بعض بسوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم پتھراؤ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، پنجاب اور کرناٹک میں بھی بند کا کئی جگہوں پر اثر دیکھا گيا ہے۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں بعض دکانوں کو چھوڑ کر سبھی دکانیں بند ہيں جبکہ جھارکھنڈ میں بند کا پوری طرح اثر دیکھا جارہا ہے۔ صوبے بہار سے بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کے مطابق بعض مقامات پر ٹرینوں کو روکا جا رہا ہے لیکن ابھی تک کسی ناخشگوار واقعہ کی اطلاع نہيں ہے۔ کرناٹک کے کئی حصوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہيں۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی برا اثر پڑرہا ہے لیکن بنگالورو میں ہڑتال کا کوئي اثر نہيں ہے۔ راجستھان سے بی بی سی کے نامہ نگار نارائین باریٹھ کے مطابق جے پور میں دکانیں بند ہیں لیکن سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت جاری ہے۔
راجستھان میں بند کا سب سے زیادہ اثر اجمیر شہر میں ہے۔ لیکن وہاں کوئی ناخشگوار واقعہ پیش نہيں آیا ہے۔ اجیمر میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکن سڑکوں پر گھومتے دیکھے گیے ہيں۔ دوسری طرف مغربی صوبے گجرات کی حکمراں جماعت بی جے پی نے وی ایچ پی کے اس کال کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ صوبائی کابینہ نے منگل کو شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین کو علیحدگی پسند رہنماؤں کے دباؤ میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔ گزشتہ مئي میں صوبائی کابینہ نے امرناتھ یاترا کے منتظم ادارے شری امرناتھا شرائن بورڈ کو 800 کنال زمین منتقل کی تھی۔ واضح رہے کہ شرائن بورڈ کو پہلے زمین منتقل کرنے اور پھر واپس لینے کا فیصلہ سیاسی تنازع اختیار کر گیا ہے۔ جہاں ہند نواز اور علیحدگی پسند تنظیمیں زمین منتقل کرنے کے خلاف ہیں جبکہ ہندو نواز جماعتیں اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے خلاف ہيں۔ |
اسی بارے میں جموں میں مظاہرے، کشیدگی برقرار02 July, 2008 | انڈیا جموں میں حالات کشیدہ،کرفیو نافذ02 July, 2008 | انڈیا کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا کشمیر کابینہ کا اہم اجلاس جاری01 July, 2008 | انڈیا احتجاج آٹھویں روز بھی جاری30 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاتراصوبائی حکومت کے حوالے29 June, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||