BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 09:33 GMT 14:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کابینہ کا اہم اجلاس جاری
زائرین
جموں میں شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے
ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں منگل کو صوبائی کابینہ کی میٹنگ ہو رہی ہے جس میں امرناتھ شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین کی واپسی کے بارے میں باضابطہ فیصلہ متوقع ہے۔

دوسری طرف جموں خطے میں زمین کی واپسی کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے جموں شہر میں دفعہ 144 نفاذ کر دی ہے ۔اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کو ایسے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ اگر حالات معمول پر نہ آئیں تو متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا جائے۔

سرینگر میں تمام علحیدگی پسند رہنماؤں کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا ہے اور وادی میں عمومی طور لوگوں کے موبائل فون جام کر دیئےگئے ہیں۔ سرینگر میں علیحدگی پسند رہنماؤں نے اس معاملے پر احتجاج کے لیے لوگوں کو جامعہ میں جمع ہونے کے لیے کہا تھا جہاں تقریباً سات آٹھ ہزار لوگ جمع ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کیےجانےاور پھر واپس کیے جانے کا معاملہ صوبے ميں کشیدگی کا سبب بن گيا ہے۔ زمین منتقل کرنے کےخلاف گزشتہ آٹھ دنوں سے جاری مظاہروں میں چار افراد ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کشمیر میں علیحدگي پسند اور ہند نواز سیاسی جماعتیں امرناتھ شرائن بورڈ سے زمین واپسی کے حق میں مظاہرہ کر رہی ہیں جبکہ جموں میں ہندو نواز سیاسی جماعتیں زمین واپسی کی مخالفت میں جموں میں احتجاج کر رہی ہیں۔

پیر کے روز ہندو نواز سیاسی جماعتوں کی ہڑتال کے سبب عام زندگی معطل رہی جبکہ منگل کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان چھڑپوں میں دو درجن افراد زخمی ہوگئے جس میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق اسے جموں خطے کے متھی علاقے میں اس وقت گولی چلانی پڑی جب مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کرنے لگے۔ اس واقعہ میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جموں شہر کے علاوہ جموں خطے میں کتھوا، ادھم پور، سمبا اور کود جیسے شہروں ميں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی تصادم ہوا ہے۔

پولیس نےمظاہروں پر قابو پانے کے لیے جموں خطے کے مختلف حصوں سے تقریباً سو مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

سیاسی مسئلہ
 شرائن کو زمین منتقلی کا قضیہ ایک سیاسی معاملہ بن گيا ہے اور اس سوال پر صوبائی حکومت کے اتحادی پیپیلز ڈیموٹک پارٹی یعنی پی ڈی پی حکومت سے علیحدہ اختیار کر چکی ہے۔

جموں ہڑتال کا اعلان ہندو نواز سیاسی جماعتیں بھاریتہ جنتا پارٹی، شیوسینا اور وشو ہندؤ پریشد کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور سیاسی تنظیموں نے کیا ہے۔

شرائن کو زمین منتقلی کا قضیہ ایک سیاسی معاملہ بن گيا ہے اور اس سوال پر صوبائی حکومت کے اتحادی پیپیلز ڈیموٹک پارٹی یعنی پی ڈی پی حکومت سے علیحدہ اختیار کر چکی ہے۔

پی ڈی پی کی علیحدگی کے سبب صوبائی حکومت اقلیت میں آگئی ہے اور گورنر نے حکومت کو سات جولائی سے قبل اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہا ہے۔ کانگریس پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ جیت لےگی۔

فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
ہندو سادھو’شِو کہاں ہے؟‘
امرناتھ یاترا تنازعہ کا باعث بن گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد