سنجے کی شادی تنازعہ کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ سٹار سنجے دت اور مانیتا کی شادی کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے کہ یہ شادی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ ایک طرف جہاں گوا میں ان کی جانب سے کورٹ میرج کے لیے داخل کردہ کاغذات کو سب رجسٹرار نے فرضی بتایا ہے وہیں سنجے کی بیوی کے سابقہ شوہر معراج الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا مانیتا کے ساتھ باقاعدہ طلاق نہیں ہوا ہے۔ دت نے پیر کے روز ممبئی میں ہندو رسم و رواج کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے گوا میں سات فروری کو رجسٹرڈ شادی کی تھی اور اس کے لیے انہوں نے جو کاغذات پیش کیے تھے انہیں فرضی قرار دے دیا گیا ہے۔ گوا کے کلکٹر نے اس تلاٹھی (تحصیل دار) کو معطل کر دیا ہے جس نے رہائش کے فرضی کاغذات بنائے تھے۔ گوا کے پرتگیز شہری قانون کے مطابق اگر شادی رجسٹر کرانی ہے تو اس کے لیے شرط ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک فرد گوا میں کم سے کم چھ ماہ سے رہائش پذیر ہو۔اس کے لیے مانیتا نے جنوبی گوا کے مڈگاؤں علاقے میں ایک گھر کا پتہ دیا تھا۔ جنوبی گوا مڈگاؤں کے کلکٹر جی پی نائیک نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے تلاٹھی پرشانت کونکولیکر کو معطل کر دیا ہے کیونکہ رہائش کی عرضی دینے کے چوبیس گھنٹہ کے اندر رہائشی دستاویز کو قبولیت دے دی گئی تھی، جبکہ اس کے لیے کم سے کم پندرہ دنوں کا وقت لگتا ہے۔ مانیتا نے جو دستاویزات پیش کیے ہیں ان میں انہوں نے اپنا نام دلنشیں عامر احمد شیخ بیکری والا لکھا ہے۔ معراج جنہوں نے دلنشیں کے ساتھ اپنی شادی کا دعویٰ کیا ہے گزشتہ روز باندرہ میں واقع ایک عدالت کے باہر صحافیوں سے کہا کہ دلنشیں عرف مانیتا کی ان سے شادی سن دو ہزار تین میں ہوئی تھی اور ان سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے، جو حیدر آباد میں مانیتا کی والدہ کے پاس ہے۔ معراج اس وقت ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں ہیں۔ ان پر بالی وڈ کی ہیروئین کرینہ کپور، پونم ڈھلون سمیت کم سے کم پندرہ ہیروئینوں کو فحش ایس ایم ایس اور تصاویر بھیجنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔
سنجے نے شادی سے قبل اپنی سابقہ بیوی ریہا پلئی سے بھی طلاق حاصل کیا، لیکن یہ طلاق بھی متنازعہ بتایا جا رہا ہے۔ ہندو میرج قانون کے مطابق طلاق کے لیے کاغذات عدالت میں داخل کرنے کے بعد چھ ماہ کا وقت دیا جاتا ہے، لیکن باندرہ میں فیملی کورٹ کے جج نے صرف ایک ماہ کے نوٹس پر طلاق کی منظوری دے دی۔ فیملی معاملات کی وکیل نیلوفر سعید اختر کے مطابق ابھی تک ممبئی کی کسی بھی عدالت میں ایسا نہیں ہوا ہے۔البتہ دہلی کے عدالت میں بالی وڈ سٹار رشی کپور کے چھوٹے بھائی کے معاملہ میں چھ ماہ کی مدت کو کم کر کے طلاق کی منظوری دی گئی تھی۔ نیلوفر اختر کا کہنا ہے کہ اگر دلنشیں نے معراج سے باقاعدہ طلاق نہیں لی ہے تو یہ شادی مسلم میرج قانون کے تحت غلط ہو گی۔’دلنشیں کو اپنے شوہر سے خلع یا مبرا نامہ کے تحت طلاق لے لینا چاہئے تھا۔‘ سنجے اور مانیتا نے آخر گوا میں شادی رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیوں کیا اس پر نیلوفر اختر کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریقین علیحدہ مذاہب سے ہیں تو ان کی شادی سپیشل میریج ایکٹ کے تحت رجسٹر کی جاتی ہے اور اس کے لیے کم سے کم ایک ماہ پہلے نوٹس دینا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے شاید دونوں نے گوا میں شادی رجسٹر کی۔ |
اسی بارے میں سنجےسپریم کورٹ میں اپیل کرینگے01 August, 2007 | فن فنکار سنجے دت، زندگی کے نشیب و فراز31 July, 2007 | فن فنکار اب سنجے دت کی زندگی پر کتاب12 April, 2007 | فن فنکار بالی وڈ ڈائری: نوجوان عامر اور سنجو کا پیار26 June, 2007 | انڈیا سنجے دت کی رحم کی درخواست 16 January, 2007 | انڈیا سنجے دت کو مجرم قرار دے دیا گیا28 November, 2006 | انڈیا بالی وڈ ڈائری: خان کاموبائل، سنجو پریشان13 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||