یہ اپّن پروگرام ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار میں دیہاتی خواتین نے خبروں کا ایک پروگرام شروع کیا ہے جو پندرہ دنوں میں ایک بار ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔ ’اپّن سماچار‘ یعنی ہماری خبریں نامی اس پروگرام کو اس ماہ دسمبر میں ہی پہلی بار ٹیلی وژن پر دکھایا گیا تھا اور تبھی سے یہ مظفر پور ضلع کے ایک درجن سے زائد گاؤں میں کافی مقبول ہورہا ہے۔ چینل کے پروگرام گنڈکھ ندی کے کنارے واقع رام لیلا گاچی گاؤں کے ایک اندھیرے کمرے میں کیے جاتے ہیں جس میں ایک میز، دو کرسی اور ایک پرانہ ٹیلی وژن موجود ہے۔ اس پروگرام میں خبریں کبھی پروجکیٹرتو کبھی کرائے کے ویڈیو پلیئر اور بڑے ٹی وی سیٹ پر ناظرین کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ پروگرام جیسے ہی شروع ہوتا ہے تو سب خریداری چھوڑ کر وہاں جمع ہو جاتے ہیں اور پھر شروع ہوتی ہیں آس پاس کے علاقے کی خبریں۔کہاں کھاد کی قلت ہے اور کہاں صحت کا کیمپ لگا ہے، اسکی جانکاری آدھے گھنٹے میں مل جاتی ہے۔ اس چینل کی خاصیت شاید یہ بھی ہے کہ فی الحال چینل کا سارا کام لڑکیاں کرتی ہیں۔’اپن چینل’ کے اسٹاف کو کسی او بی وین کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی کیبل کنکشن کی۔ سائیکل پر چل کر ہی یہ شوٹنگ کی جگہ پہنچ جاتی ہیں اور ہٹ میں پروجکٹر لگاکر نشریات شروع ہو جاتی ہے۔ یہ چینل در اصل ’مشن آئی‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے مقامی لوگوں کے درمیان علاقائی خبروں کو عوام تک پہنچانے کی غرض سے شروع کیا گیا ہے۔ اس تنظیم کے اہلکار جۓ چندر نے بتایا کہ چینلوں اور اخباروں کی بھیڑ کے باوجود مقامی اطلاعات لوگوں تک نہیں پہنچ پاتیں، اس لیے یہ چینل شروع کرنے کا خیال دماغ میں آیا۔
مسٹر جۓ چندر نے بتایا ’سرکاری اسکیم ہوں یا کسی تنظیم کی جانب سے لگایا جانے والا صحت کیمپ، پنچایت کے عام لوگوں تک یہ اطلاع پہنچ نہیں پاتی تھی مگر ہماری کوشش ہے کہ اب مقامی اطلاعات لوگوں تک بنا پیسا خرچ کیے پہنچے۔‘ بقول جۓ چندر ’ہمارے پاس کیمرہ تو پہلے سے تھا، بس ایک پروجکٹر کا انتظام کیا اور مقامی لڑکیوں کی مدد سے یہ کام شروع کر دیا۔‘ جۓ چندر کہتے ہیں کہ لڑکیوں کا انتخاب اسلیے کیا کہ ان سے بات کرنے میں کوئ ہچکچاتا نہیں اور اس سے عورتوں کو مقتدر بنانے کی مہم میں بھی مدد ملے گی۔ ’اپّن چینل‘ کی ٹیم میں شامل انیتا کماری کا کہنا ہے کہ مشن آئ کے اہل کار سنتوش جی نے ہمیں جو تربیت دی ہے اسکے مطابق ہم مقامی مسائل مثلاً بجلی کی قلت اور اسکول میں ٹیچر کی کمی وغیرہ کے بارے میں خبریں دکھاتے ہیں۔ سنتوش نارنگ نے بتایا کہ فی الحال اس چینل کے ذریعہ جمعرات اور اتوار کے دن خبریں دکھائی جا رہی ہیں لیکن اسکی مقبولیت کو دیکھ کر اسے وسعت دینے کا پروگرام بنایا جائے گا۔ |
اسی بارے میں خاتون کی بے حرمتی پر غم و غصہ 27 November, 2007 | انڈیا صدارت: خاتون امیدوار کا خیرمقدم15 June, 2007 | انڈیا انڈیا: ورکنگ وومن کی تعداد میں اضافہ10 March, 2007 | انڈیا پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا کشمیری خواتین کا کردار بدل رہا ہے25 October, 2006 | انڈیا بھارت: عورت کو ہل جوتنے کی سزا 14 September, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||