BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 December, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ اپّن پروگرام ہے
اپن چینل کی رپورٹر کام پر
چینل ’ مشن آئ‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے مقامی لوگوں کے درمیان علاقائ خبروں کو عوام تک پہنچانےکے لیے شروع کیا گیا ہے۔
ریاست بہار میں دیہاتی خواتین نے خبروں کا ایک پروگرام شروع کیا ہے جو پندرہ دنوں میں ایک بار ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔

’اپّن سماچار‘ یعنی ہماری خبریں نامی اس پروگرام کو اس ماہ دسمبر میں ہی پہلی بار ٹیلی وژن پر دکھایا گیا تھا اور تبھی سے یہ مظفر پور ضلع کے ایک درجن سے زائد گاؤں میں کافی مقبول ہورہا ہے۔

چینل کے پروگرام گنڈکھ ندی کے کنارے واقع رام لیلا گاچی گاؤں کے ایک اندھیرے کمرے میں کیے جاتے ہیں جس میں ایک میز، دو کرسی اور ایک پرانہ ٹیلی وژن موجود ہے۔

اس پروگرام میں خبریں کبھی پروجکیٹرتو کبھی کرائے کے ویڈیو پلیئر اور بڑے ٹی وی سیٹ پر ناظرین کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔

پروگرام جیسے ہی شروع ہوتا ہے تو سب خریداری چھوڑ کر وہاں جمع ہو جاتے ہیں اور پھر شروع ہوتی ہیں آس پاس کے علاقے کی خبریں۔کہاں کھاد کی قلت ہے اور کہاں صحت کا کیمپ لگا ہے، اسکی جانکاری آدھے گھنٹے میں مل جاتی ہے۔

اس چینل کی خاصیت شاید یہ بھی ہے کہ فی الحال چینل کا سارا کام لڑکیاں کرتی ہیں۔’اپن چینل’ کے اسٹاف کو کسی او بی وین کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی کیبل کنکشن کی۔ سائیکل پر چل کر ہی یہ شوٹنگ کی جگہ پہنچ جاتی ہیں اور ہٹ میں پروجکٹر لگاکر نشریات شروع ہو جاتی ہے۔

یہ چینل در اصل ’مشن آئی‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے مقامی لوگوں کے درمیان علاقائی خبروں کو عوام تک پہنچانے کی غرض سے شروع کیا گیا ہے۔

اس تنظیم کے اہلکار جۓ چندر نے بتایا کہ چینلوں اور اخباروں کی بھیڑ کے باوجود مقامی اطلاعات لوگوں تک نہیں پہنچ پاتیں، اس لیے یہ چینل شروع کرنے کا خیال دماغ میں آیا۔

اپن چینل میں علاقائی خبریں نشر کی جاتی ہیں۔

مسٹر جۓ چندر نے بتایا ’سرکاری اسکیم ہوں یا کسی تنظیم کی جانب سے لگایا جانے والا صحت کیمپ، پنچایت کے عام لوگوں تک یہ اطلاع پہنچ نہیں پاتی تھی مگر ہماری کوشش ہے کہ اب مقامی اطلاعات لوگوں تک بنا پیسا خرچ کیے پہنچے۔‘

بقول جۓ چندر ’ہمارے پاس کیمرہ تو پہلے سے تھا، بس ایک پروجکٹر کا انتظام کیا اور مقامی لڑکیوں کی مدد سے یہ کام شروع کر دیا۔‘

جۓ چندر کہتے ہیں کہ لڑکیوں کا انتخاب اسلیے کیا کہ ان سے بات کرنے میں کوئ ہچکچاتا نہیں اور اس سے عورتوں کو مقتدر بنانے کی مہم میں بھی مدد ملے گی۔

’اپّن چینل‘ کی ٹیم میں شامل انیتا کماری کا کہنا ہے کہ مشن آئ کے اہل کار سنتوش جی نے ہمیں جو تربیت دی ہے اسکے مطابق ہم مقامی مسائل مثلاً بجلی کی قلت اور اسکول میں ٹیچر کی کمی وغیرہ کے بارے میں خبریں دکھاتے ہیں۔

سنتوش نارنگ نے بتایا کہ فی الحال اس چینل کے ذریعہ جمعرات اور اتوار کے دن خبریں دکھائی جا رہی ہیں لیکن اسکی مقبولیت کو دیکھ کر اسے وسعت دینے کا پروگرام بنایا جائے گا۔

سعیدہ شکور کشمیرکی’مدر ٹریسا‘
سعیدہ شکور غریبی کے خلاف جہاد کی علم بردار
زچگی اور اموات
انڈیا میں 300 عورتیں روزانہ ہلاک
ہندوستانی خواتین’ایڈلٹری‘ قانون
مردوں کو پانچ برس قید، خواتین سزاسے مستثنیٰ
خواتین آگے ہی آگے
ورکنگ وومن کی تعداد میں اضافہ: سروے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد