نریندر مودی کی طرز سیاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے منگل کو پولنگ ختم ہوگئی ہے۔ ان انتخابات میں اگر کانگریس نے اپنی پوری طاقت لگا رکھی ہے تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست محور نریندر مودی ہیں اور تجزیہ کاروں کے مطابق وہاں بی جے پی کا مطلب نریندر مودی یا نریندر مودی کا مطلب بی جے پی ہے۔ مودی کے طریقہ کار سے کیشو بھائی پٹیل، سریش مہتا اور پرکاش رانا جیسے کئی سینئر رہنما ناراض ہیں اور ان کی اعلانیہ مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ سریشہ مہتا نے مودی سے ناراضگي کے سبب پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بی بی سی بات چیت میں انہوں نے کہا ’نریندر مودی کا رویہ تانا شاہوں والا ہے۔ اس کے خلاف پارٹی سے دو برس سے شکایت کرتا رہا ہوں لیکن جب کچھ نہیں کیا گيا تو بطور احتجاج میں نے یہ قدم اٹھایا۔‘ کیشو بھائی پٹیل نے نریندر مودی کے خلاف بارہا آواز اٹھائی ہے۔ لیکن نریندر مودی پر ان سب باتوں کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔گزشتہ چھ برسوں میں انہوں نے پارٹی کا ڈھانچہ کچھ اس طرح تیار کیا ہے کہ پوری طاقت خود ان کے ہاتھ میں ہے اور ان کا قد اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہندو نظریاتی تنظیم وی ایچ پی کی بھی وہ پروا نہیں کرتے جس کے بل بوتے وہ وہاں پیروں پر کھڑے ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ تجزیہ کار نیہا امین کہتی ہیں ’ نریندر مودی کی طرز سیاست ایسی ہے کہ سب کچھ انہیں کی ذات کے ارد گرد گھومتا ہے۔ بہت لوگ ان سے ناراض ہیں لیکن ان کے پاس اس قدر طاقت ہوگئی ہے کہ بہت کم میں ہمت ہے جو ان کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ بعض پارٹی کار کن تو انہیں خود بی جے پی کے لیے خطرہ بتاتے ہیں۔‘ سوال یہ ہے کہ اتنی طاقت ان کے پاس آئی کہاں سے؟ دو ہزار دو کے فسادات کے بعد انہوں نے ’ اسلامی دہشت گردی‘ کا نعرہ دیا اور صنعت کاروں سے قربت حاصل کرکے پہلے شہری علاقوں میں مقبولیت اور شہرت حاصل کی۔ بالکل انوکھی طرز پر ’گجرات کے وقار اور غیرت‘ کا نعرہ دیا اور اپنی مرضی کے نوجوان پارٹی کے ورکرز تیار کیے جو نا صرف ان کے وفادار ہیں بلکہ ان کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ ریاست کے قبائلی برادری میں بھی انہوں نے اپنی پکڑ مضبوط کی۔ خواتین کو لبھانے کے لیے انہوں نےخصوصی ریلیاں کیں اور اب ’خواتین مودی فین کلب‘ کے نام پر ہزاروں خواتین ان کے لیے کام کرتی ہیں۔ اتوار کو ایک انتخابی ریلی سے اپنے خطاب میں نریندر مودی نے کہا ’ دیکھیے مجھے سننے میری بہنیں آئی ہیں اس سے لگتا ہے کہ اب گجرات میں خواتین بھی سیاست میں دلچسپی رکھتی ہیں اور وہ اس کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔‘ ناراضی کے سبب اس بار وشو ہندو پریشد کے کار کن اور سادھو انتخابی مہم سے غائب ہیں تو کیا ہوا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مودی نے بہترین فلمیں تیار کی ہیں۔ انٹرنیٹ پر چوبیس گھنٹے ان کی تعریف ہورہی ہے اور یو ٹیوب پر ان کی حکومت کے ترقیاتی پروگرمز اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے خوشنما وعدوں کی ویڈیو فلمیں موجود ہیں۔ ایس ایم ایس کے ذریعے ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں تک ان کا پیغام پہنچ رہا ہے۔ نریندر مودی میں ایک بڑا فن یہ ہے کہ وہ کسی بھی اپوزیشن لیڈر کی نکتہ چینی کو اپنے حق میں کر لیتے ہیں۔ تقریبا سبھی تجزیہ کار اس بات سے متفق ہیں کہ تہلکہ سٹنگ آپریشن کے انکشافات وہ اپنے حق میں کر لیں گے۔ سونیا گاندھی نے انہیں’موت کا سوداگر‘ کہا تو انہوں نے خود کانگریس پر یہ کہہ کر حملہ کیا کہ ’مرکزی حکومت افضل گرو کو پھانسی نہیں دیتی جو پارلیمنٹ پر حملے کا مجرم ہے اور میں پانچ کروڑ گجراتیوں کا محافظ ہوں تو مجھے موت کا سودا گر کہا جارہا ہے۔‘ کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ نے جب یہ کہا کہ ’گجرات ہندو انتہا پسندی کی گرفت میں ہے‘ ۔تو نریندر مودی نے اسے بھی یہ کہہ کر اپنے حق میں کرلیا کہ مسٹر سنگھ کے بیان سے گجراتیوں کی توہین ہوئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں نریندر مودی ایک شاطر سیاست داں ہیں جو حالات کو پرکھنے میں ماہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی بڑے فخر سے کہتے ہیں’گجرات میں کانگریس کے پاس کو لیڈر ہی نہیں ہے‘۔ اگر نریندر مودی ان انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو تو یہ طے ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی قیادت میں ان کا اہم رول ہوگا اور قومی سطح پر وہ اہم رہنما بن کر ابھر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ہار گئے تو پارٹی کے ساتھ خود ان کی مشکلیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ |
اسی بارے میں نریندر مودی کے بیان پر کڑی تنقید06 December, 2007 | انڈیا مودی: وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا 05 December, 2007 | انڈیا مودی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ31 October, 2007 | انڈیا گجرات: متاثرین کے لیے معاوضہ23 March, 2007 | انڈیا وڈودرہ: کرفیو، فوج کو تیاری کا حکم04 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||