کانگریس’سافٹ ہندوتو‘ کی راہ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست گجرات میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی تو بڑے فخر سے ہندوتو کے ایجنڈے پر قائم ہے اوراس نے سماج کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم کانگریس پارٹی بھی گجرات میں اس کا کھل کر جواب دینے میں کامیاب نہیں رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہےگجرات کی موجودہ صورت حال میں کانگریس بھی سیاسی مفاد کے لیے’سافٹ ہندوتو‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہے اور اسے ڈر ہے کہ اگر وہ کھل کر بولےگی تو اسے نقصان ہوسکتا ہے۔ سینئر صحافی یوگیندر شرما کہتے ہیں کہ’گزشتہ چند برسوں میں بی جے پی نے ایک خاص طبقے میں ایسا ماحول پیدا کیا ہے کہ کانگریس کے موجودہ رہنما اس کا منہ توڑ جواب دینے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کتنا بھی کوئی باہوش کیوں نہ ہو اگر آپ کچھ کہیں اور آپ کو فون پر گالیاں ملنے لگیں تو کتنے لوگ اس کو برداشت کر پائیں گے، بی جے پی نے ہندوؤں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ کانگریس اور مسلمانوں سے ان کا وجود خطرے میں پڑ جائےگا تو اس کا جواب کس کے پاس ہے‘۔ یوگیندر شرما کے مطابق بعض مسائل ایسے ہیں کہ کانگریس دفاعی رخ اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ بقول ان کے ایسے لیڈر بھی کم ہیں جو سخت رویہ اپناسکیں کیونکہ ہندو نظریاتی تنظمیں اس کا جینا مشکل کر دیں گی۔
مسلم دانشور ڈاکٹر جوزر صالح بندوق والا کہتے ہیں’ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے ذہن میں مسلمانوں کے خلاف کچھ نہیں ہے لیکن مقامی سطح پر یہ بات دیکھنے کو نہیں ملتی۔ انہیں پتہ ہے کہ مسلمان تو کانگریس کو ووٹ دے گا ہی تو پھر ان کے لیے محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے، مودی اور بی جے پی تو مسلمانوں پر حملہ کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اگر کانگریس کے مقامی لیڈر ہمارا ساتھ دیں تو ہم اس کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں‘۔ پروفیسر محی الدین بمبئی والا آزادی کے بعد سے گجرات کی سیاست دیکھتے آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’ کانگریس بہت بدل چکی ہے۔ سنہ پچاسی میں کانگریس کے بیس مسلم امید وار تھے اور اب صرف چھ، ظاہر ہے انہیں اکثریتی طبقے کے ووٹ کی زیادہ پرواہ ہے۔ کسی زمانے میں کھل کر جو باتیں ہوتی تھیں وہ اب نہیں ہے، اب نہ وہ کانگریس ہے نہ وہ بزرگ لیڈر اور نہ ہی وہ ڈسپلن‘۔ صحافی یوگیندر شرما کہتے ہیں کہ کم مسلم امیدواروں کے لیے مسلم قیادت بھی ذمہ دار ہے۔’غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کانگریس کو کئی خواتین امیدوار کی ضرورت تھی اور وہ مسلم خواتین کو ٹکٹ دینا چاہتے تھے، یہ بات مسلم قیادت کو بھی اچھی طرح معلوم ہے لیکن مسلم لیڈروں نے گجرات بھون میں اس بات پر زبردست ہنگامہ کیا کہ وہ خواتین کو انتخابات میں نہیں اتارنا چاہتے، اگر ذرا سمجھداری سے کام لیتے تو دس بارہ مسلم امیدوار ہوتے۔‘
کانگریس کے سینئر رہنما اور گجرات کے سابق وزیر اعلی شنکر سنگھ واگھیلا سے جب اس بارے پوچھا گيا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی بی جے پی کے فرقہ وارانہ نظریات کی مذمت کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سختی سے جواب کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کے پیچھے ڈنڈا لے کرگھومتے پھریں، بی جے پی جذبات بھڑکانے کا کام کرتی ہے اور ہم ترقیاتی پروگرام کی بات کرتے ہیں اور ہم کیا کریں‘۔ اس حوالے سے بی جے پی کے رہنما اور انتخابی مہم کے کوارڈینیٹر ارن جیٹلی کا کہنا ہے کہ ’ہندؤوں کے مفاد کے لیے بی جے پی بات نہیں کرے گی تو اور کون کرے گا۔ یہ ہمارا نظریہ ہے اور ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے‘۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور دیگر جماعتوں نے ہمیشہ کانگریس کا استحصال کیا ہے اور انہیں اپنے قمصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ غیاث محمد احمدآباد میں شاہ پور نشست سے کانگریس کے امیدوار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ بی جے پی نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں خلیج گہری کردی ہے اس لیے کانگریس کو احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔’ سافٹ ہندوتو جیسی کوئی بات نہیں ہے، اب ماحول ہی ایسا ہے اس لیے کانگریس نے ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جو دونوں سماج میں مقبول ہوں۔‘ چند روز قبل وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ایک انتخابی ریلی سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ مذہبی خطوط پر منقسم ریاست گجرات میں خوف کا ماحول ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے مبینہ طور پر نریندر مودی کو موت کا سوداگر بتایا جبکہ دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ گجرات ہندو انتہا پسندوں کی گرفت میں ہے۔ گجرات میں ان باتوں کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن ہندوؤں اور مسلمانوں میں گہری ہوتی اس خلیج کو کم کیسے کیا جائے اس بارے کانگریس کے پاس بھی کوئی موثر فارمولہ نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی موجودہ روش سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں گجرات: انتخابی مہم کا اختتام09 December, 2007 | انڈیا فسادات کی کہانی بیان کرتی بیکری09 December, 2007 | انڈیا گجرات: مشکلات اور سیاسی جنگ08 December, 2007 | انڈیا مودی کو انتخابی کمیشن کا نوٹس 07 December, 2007 | انڈیا نریندر مودی کے بیان پر کڑی تنقید06 December, 2007 | انڈیا مودی: وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا 05 December, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||