’مودی کےنام پر2002 یاد آتاہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی ریاست کے ایک طبقے کی اگر پسندیدہ شخصیت ہیں تو دوسری طرف بیشتر مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیر اعلی کا نام آتے ہی دو ہزار دو میں ہونے والے فسادات کا منظر یاد آ جاتا ہے۔ احمد آباد میں پیر محمد لائبریری اور ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر محی الدین بامبے والا کا کہنا ہے کہ گجرات میں کئی بار فسادات ہوئے ہیں اور اس وقت وزراء اعلی متاثرین کے ساتھ کم سے کم ہمدردی کا اظہار تو کیا کرتے تھے۔’ لیکن نریندر مودی پہلے شخص ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی تو کجا انہیں دہشت گرد بتاتے رہے ہیں۔ مسلم طبقے کے لیے ان کے بیانات اور ان کا کردار اس قدر نفرت انگیز رہا ہے کہ اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ یہ سب باتیں بہت چبھتی ہیں‘۔ پروفیسر بامبے والا کے مطابق نریندر مودی کی طرز سیاست نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے میں مدد کی ہے جو اس سماج کے لیے بہت مضر ثابت ہوگی۔’اب انتخابات میں ہی ان کے بیانات کو دیکھ لیں، کیا کسی چیف منسٹر کو یہ باتیں زیب دیتی ہیں، اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی قیادت کو بھی ایسی شخصیت کے بارے میں سوچنا چاہیے‘۔ ریٹائرڈ پروفیسر نثار انصاری کہتے ہیں کہ مسلم سماج اب سب کچھ بھلا کر آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن نریندر مودی کی پالیسیز اس میں رکاوٹیں بن رہی ہیں۔’دو ہزار دو میں جو ہوا اسے میں فسادات نہیں کہتا بلکہ میں اسے نسل کشی مانتا ہوں۔ مودی کے رول سے کون واقف نہیں ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ وہ اب بھی مسلمانوں کو ایک خطرے کے طور پر پیش کر کے اپنے آپ کو ایک خاص طبقے کا محافظ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی باتوں سے تو مسلمانوں میں غیر یقینی بڑھ جاتی ہے۔‘ نوجوان ریسرچ اسکالر شاہین قادری کہتی ہیں ’ نریندر مودی کا نام آتے ہی دو ہزار دو کے فسادات کا منظر، اور مسلمانوں کی خستہ حالت یاد آتی ہے، مسلمانوں کے ساتھ ان کا جو سلوک رہا ہے اسے ہم کیسے بھول سکتے ہیں بس یہی چاہتے ہیں کہ وہ دربارہ اقتدار میں نہ آئیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔‘ احمدآباد کی جامع مسجد کے پاس دکان پر کام کرنے والے منیر الدین کہتے ہیں کہ مودی کی حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئی ہیں اسے وہ کیسے بھول سکتے ہیں۔’گودھرا ہو یا فسادات سب نریندر مودی نے کروایا تھا اور نام مسلمانوں کا بدنام کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرد ہیں۔‘ طاہرہ بیگم کہتی کہ یہ سب سیاسی باتیں جس میں وہ پڑنا نہیں چاہتیں۔ بقول ان کے کئی بار فسادات ہوچکے ہیں اور آگے بھی ہوتے رہیں گے۔اس لیے وہ زیادہ نہیں سوچتی ہیں۔ عبد القادر کے ایک بھائی فسادات میں ہلاک ہوگئے تھے اور آج تک وہ انصاف کے لیے دوڑ رہے ہیں۔’پانچ برس ہوچکے ہیں اور ابھی کچھ بھی نہیں ہوا اب جس آدمی کو دن دہاڑے زندہ جلا دیا گیا ہو اگر اس کی شکایت درج نہ ہو پائے تو پھرسمجھا جاسکتا ہے کہ مودی کے راج میں انصاف پانا کتنا مشکل ہے۔‘
لیکن پرانے شہر احمدآباد میں لوہے کے دکاندار شیخ اختر حسین نریندر مودی سے کافی خوش ہیں۔’وہ گجرات کے بہت اچھے وزیر اعلی ہیں انہوں نے مسلم طبقے سے غنڈہ گردی ختم کردی ہے، اب مسلم لڑکے محنت مشقت کرتے ہیں اور روزگار پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ جہاں تک فساد کا تعلق ہے تو تالاب میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی تو نہیں کی جا سکتی۔ نریندر مودی سے فسادات کا کیا لینا دینا وہ تو پہلے بھی ہوتے اور کبھی بھی ہو سکتے ہیں۔‘ زیوارت کی دکان کے مالک واجد بھائی کہتے ہیں کہ وہ تاحیات مودی کو ایک ایسے وزیر اعلی کی حیثیت سے یاد رکھیں گے کہ جس نے مسلمانوں کے جان مال بچانے میں کافی کوتاہیاں برتی ہیں۔ ’ان کا نام آتے ہی فسادات کا خوف ذہن میں آتا ہے۔ ایک ایسا وزیر اعلی کہ اگر اس نے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہوتیں تو بڑی تعداد میں جان و مال کو بچایا جا سکتا تھا۔ مسلم طبقہ آج بھی اپنے آپ کو غیر محفوط محسوس کرتا ہے۔‘ گجرات کے مسلمانوں میں خوف ہراس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بیشتر اس معاملے پر بات چیت سے گریز کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ یہی کہتے ملے کہ نریندر مودی کے بارے میں بات چیت کر کے’ ہمیں کیوں پھنسوانا چاہتے ہو۔‘ کئی نے ان کے نام پر فوٹو دینے کے لیے منع کیا اور بعض نے کہا کہ آواز مت ریکارڈ کرو کیونکہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں مودی:برطانیہ آمدپراحتجاج17 August, 2003 | صفحۂ اول گجرات: مودی نے حلف اٹھا لیا22.12.2002 | صفحۂ اول گجرات سرکار ٹیپ حوالے کریگی19.09.2002 | صفحۂ اول ’ مودی کے خلاف قانونی کارروائی ہو‘17.09.2002 | صفحۂ اول مسلمانوں کے خلاف ہتک آمیز کلمات01.01.1970 | صفحۂ اول گجرات: وزیر اعلی کی استعفے پر آمادگی 12.04.2002 | صفحۂ اول مودی کےاستعفی کی پیشکش نا منظور12.04.2002 | صفحۂ اول گجرات: وزیر اعلیٰ کی برطرفی کا مطالبہ11.04.2002 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||