صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، احمد آباد |  |
 | | | انتخابات کے نتائج وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے مستقبل کی سیاست کا رخ بھی طے کرینگے |
ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے لیے اتوار کی شام کو انتخابی مہم ختم ہوگئی ہے۔ پہلے مرحلے میں منگل کے روز ستاسی نشسستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے جس کے لیے کانگریس اور بی جے پی نے زبردست مہم چلائی ہے۔ آخری روز وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے احمدآباد کے قرب و جوار میں آٹھ عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اپنی حکومت کی کار کردگیوں کا ذکر تو ضرور کیا لیکن ہر جگہ وہ کانگریس پارٹی اور اس کی صدر سونیا گاندھی پر نکتہ چینی کرتے رہے۔ دیواگاؤں میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’سونیا بہن مجھے موت کا سوداگر کہتی ہیں جبکہ میں گجرات کی پانچ کروڑ عوام کا محافظ ہوں، موت کی سودا گر تو دلی کی حکومت ہے جس نے افضل گرو کو پناہ دی ہے جنہیں نے سپریم کورٹ نے پھانسی کا حکم دیا ہے، بہنوں بھائیوں اگر گجرات کو  | موت کا سوداگر  سونیا بہن مجھے موت کا سوداگر کہتی ہیں جبکہ میں گجرات کی پانچ کروڑ عوام کا محافظ ہوں، موت کی سودا گر تو دلی کی حکومت ہے جس نے افضل گرو کو پناہ دی ہے  نریندر مودی |
دہشت گردی سے محفوظ رکھنا ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی حفاظت اور خدمت کرتا رہا ہوں تو مجھے ووٹ دیجیے۔‘ نریندر مودی کا کہنا تھا کہ انہوں نےگزشتہ پانچ برسوں میں جو ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں وہ کانگریس کے چالیس سالہ دورِ اقتدار سے زیادہ ہیں۔ ادھر کانگریس کے نوجوان رہنما راہل گاندھی نے سورت کے علاقے میں ایک روڈ شو کیا۔ چالیس کلومیٹر کے طویل شو کے دوران راہل نے بھی کئی جگہ لوگوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے نریندر مودی کے ترقیاتی دعوؤں کو کھوکھلا بتایا اور کہا ’یہ حکومت سچائی کے راستے سے بھٹک گئی ہے، جبکہ گاندھی جی نے سچائی پر چلنے کی ہدایت کی تھی، کسانوں کا حال برا ہے اور نہ پانی اور نہ بجلی ہے۔‘ پہلے مرحلے کی پولنگ گیارہ اور دوسرے کی سولہ دسمبر کو ہوں گی جبکہ ووٹوں کی گنتی اس ماہ کی تئیس تاریخ کو کی جائے گی۔ انتخابی مہم کے دوران  | | | راہل گاندھی نے سورت کے علاقے میں ایک روڈ شو کیا | کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان کافی تو تو میں میں ہوتی رہی ہے۔ ان انتخابات پر ملک بھر کے ذرائع ابلاغ کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہبی خطوط پر منقسم ریاست میں انتخابات کے نتائج یہ طے کریں گے کہ مستقبل میں یہاں کو نسی روایات پروان چڑھیں گی۔ ماہرین کے مطابق ان کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ انتخابات کے نتائج وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے مستقبل کی سیاست کا رخ بھی طے کریں گے۔ |