گجرات: مشکلات اور سیاسی جنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 11 اور دوسرے کے لیے 16 دسمبر کو ووٹنگ ہونا ہے اور فی الوقت ریاست کی دو بڑی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ جہاں ایک طرف بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی جنگ جاری ہے وہیں بی جے پی کو اندرونی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما اور گجرات کے سابق وزیر اعلی سریش مہتا نے پارٹی سے استعفی دے دیا ہے۔ احمدآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار صلاح الدین سے بات کرتے ہوئے سریش مہتا نے کہا کہ وہ کئی دنوں سے استعفی دینے پر غور کر رہے تھے۔ استعفی دینے کی وجوہات بتاتے ہوئے سریش مہتا نے کہا’ پارٹی کی مرکزی قیادت صرف ایک شخص کو بڑھوا دے رہی ہے اور یہ مجھے قبول نہیں تھا۔‘ سریش مہتا اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے درمیان گزشتہ کئی دنوں سے رسا کشی جاری تھی اور گزشتہ کئی روز سے ان کے بی جے پی چھوڑنے کی بات ذرائع ابلاغ میں شائع ہو رہی تھی۔ سریش مہتا نے مزید کہا کہ وہ اب مودی کے خلاف اسمبلی انتخابات میں جم کر کیمپینگ کریں گے۔ اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے انتخابی کمیشن سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس طرح کمیشن نے گجرات کے وویر اعلی نریندر مودی کے خلاف کی ہے۔ انتخابی ریلی کے دوران کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا تھا’ جو لوگ گجرات میں حکمرانی کر رہے ہیں وہ موت کے سوداگر ہیں‘۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو انتخابی کمیشن نے اس وقت نوٹس جاری کیا تھا جب انہوں نے ایک انتخابی ریلی کے دوران سہراب الدین کی فرضی پولیس تصادم میں ہلاکت کو صحیح قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں کمیشن نے انہیں سنیچر کی صبح تک جواب دینے کا حکم دیا تھا۔ لیکن سنیچر کی صبح مودی نے جواب دینے کے لیے شام تک کا وقت مانگا تھا۔ سنیچر کی شام احمدآباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بے جی پی کے سیئنر رہنما ارن جیٹلی نے بتایا کا کمیشن کے لیے جواب رات میں ہی تیار ہو گیا تھا لیکن چونکہ نریندر مودی انتخابی مہم میں مصروف تھے اس لیے جواب پر ان کے دستخط نہیں لیے جا سکے تھے۔ اسی وجہ سے کمیشن سے جواب پیش کرنے کے لیے وقت مانگا گیا تھا۔ ارن جیٹلی نے کہا کہ جن الفاظ کو لیکر مودی پر الزمات عائد کیے گئے تھے وہ اس سی ڈی میں موجود ہی نہیں ہے جو انتخابی کمیشن نے بھیجی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مودی کے بیان کو ذرائع ابلاغ نے توڑ مروڑ کے پیش کیا ہے۔ جمعہ کو بی جے پی کے سینئر رہنما ارن جیٹلی کا کہنا تھا ’میں نے مودی کا خطاب سنا ہے اور ان کے ہر ہر لفظ کانگریس کے رہنماؤں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کا جواب ہے۔انتخابی کمیشن کو کانگریس کے رہنماؤں کے خطاب طلب کروانے چاہیں اور ان سے جواب طلب کرنا چاہیے۔‘ سیاسی جنگ میں وزير اعظم منموہن سنگھ نے بھی گجرات میں انتخابی ریلی سے خطاب کیا اور کہا ’ فرقہ واریت کو بنیاد بنا کر ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔ کانگریس کے سیئنر رہنما کپل سبل کا کہنا ہے کہ ’ سونيا گاندھی کا بیان ریاستی انتظامیہ کے بارے میں تھا۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا‘۔ خبر رساں ایجنسیوں کےمطابق نریندر مودی اپنے خطاب میں بار بار کہہ رہے ہیں کہ’ سونیا نے مجھے موت کا سوداگر کہا ہے۔ کیا یہ ریاست کے عوام کی توہین نہیں ہے؟ اس کا آپ لوگوں کو بدلہ لینا ہے اور ووٹنگ کے دن آپ سب لوگ اس کا بدلہ ضرور لیں‘۔ | اسی بارے میں مودی کو انتخابی کمیشن کا نوٹس 07 December, 2007 | انڈیا ’مودی کےنام پر2002 یاد آتاہے‘07 December, 2007 | انڈیا نریندر مودی کے بیان پر کڑی تنقید06 December, 2007 | انڈیا مودی: وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا 05 December, 2007 | انڈیا گجرات: مودی کے خلاف محاذ آرائی06 November, 2007 | انڈیا مودی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ31 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||