مہا پنچائیت کے اعلان سے کشیدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صورت حال کو دیکھتے ہوئے کئی دلتوں نے احتیاط کے طور پر دلی کا رخ کیا ہے۔ گوہانہ کے دلتوں کا کہنا ہے کہ’ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر ہم اپنی سلامتی چاہتے ہیں تو گوہانہ چھوڑ کر چلے جائیں‘۔ گوہانہ کے دلتوں کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کی وجہ سے انہیں گوہانہ چھوڑ کر دلی آنا پڑا ہے اور وہ تب تک واپس نہیں جائیں گے جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورت حال قابو میں ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔ محکمۂ پولیس کے ایک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ سولہ ستمبر کو مجوزہ مہاپنچایت کو روک دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے ہر باشندے کی حفاظت کے لیے پولیس نے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ اس سال 28 اگست کو گوہانہ میں دلتوں کے نوجوان رہنما راکیش کمار عرف لارا کو بعض نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اس وقت بھی ماحول مزید کشیدہ ہوگیا تھا جب لارا کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران پولیس اور دلت سماج کے باشندوں میں جھڑپ ہو گئی اور پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس وقت دلت افراد لارا کے قاتلوں کو سزا دلانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ گوہانہ کا شمار ملک کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں دلتوں کے خلاف تفریق کے واقعات ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ دلی میں موجود گوہانہ کی بعض خواتین کا کہنا ہے کہ’وہ مزيد تشدد نہیں جھیل سکتیں‘۔ گواہانہ کی آشا کہتی ہیں کہ جب ہم لوگ وہاں رہ رہے تھے تو تقریباً ہر روز دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔ وہاں تقریباً پچاس خاندان رہتے ہیں لیکن اب سبھی اپنی جان بچا کر دلی آ رہے ہیں۔ دوسری جانب گوہانہ سے آئی ہوئی بعض طالبات کا کہنا ہے کہ ذات کی بنیاد پر مقامی سکولوں میں بھی تفریق برتی جاتی ہے۔ کاجل بتاتی ہیں: ’ٹیچرز کہتی ہیں کہ تم پڑھ لکھ کر کیا کرو گی آخری میں کرنا تو وہی ہے جو تمہاری برادری کرتی آئی ہے‘۔
گولڈی بتاتی ہیں کہ ان دنوں ان کے امتحان ہونے والے ہیں اور وہاں کے ماحول کے سبب انہیں اپنی پڑھائی آدھی چھوڑ کر دلی آنا پڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برادری کے سب ہی افراد کے ذہنوں میں خوف ہے کوئی بھی باہر آ جا نہیں سکتا۔ دلتوں کے ایک رہنما درشن رتن راون کا کہنا ہے کہ لوگ گوہانہ سے مسلسل آ رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ کل تک پورا گوہانہ خالی ہو جائے گا۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انصاف حاصل کرنے کی کوشش میں آئندہ چودہ ستمبر کو وہ دلی میں ایک احتجاجی مظاہرہ کریں گے ۔ راون کے مطابق ’گزشتہ دو سال سے گوہانہ میں مختلف طریقوں سے ہم لوگوں کو دھمکایا جا رہا ہے۔ سرکار اونچی ذات کے لوگوں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ جب لارا کے قاتلوں کو پکڑنے کا مطالبہ کیا تو پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا‘۔ دلتوں کی جانب سے وکیل وجے پرکاش کا کہنا ہے:’ہمارا مطالبہ ہے کہ ہریانہ کی موجودہ پولیس میں تبدیلی لائی جائے اور جلد سے جلد ہم لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری کارروائی کی جائے۔ لارا کے خاندان کو مالی مدد فراہم کی جائے اور جن لوگوں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے، انہیں رہا کیا جائے‘۔ گوہانہ میں کچھ سال قبل جاٹ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا قتل ہوا تھا۔ مقامی جاٹ برادری کا الزام تھا کہ اس قتل کے ذمہ دار راکیش کمار اور دیگر دلت نوجوان ہیں لیکن بعد میں ذیلی عدالت نے راکیش کمار کو بری کر دیا تھا۔ اس معاملے میں جاٹ برادری نے پولیس پر کارروائی میں تاخیر کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور اگست 2005 میں گوہانہ میں تقریباً پچاس دلتوں کے گھر جلا دیےگئے تھے۔ |
اسی بارے میں ہریانہ: دلت نوجوان قتل، کشیدگی28 August, 2007 | انڈیا دلت ریلی میں لاکھوں شریک06 December, 2006 | انڈیا راجپوت کا قتل، دلتوں پر حملہ01 March, 2007 | انڈیا دلت حق پسندی کا ترجمان اخبار26 August, 2007 | انڈیا دلت لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا25 November, 2006 | انڈیا دلتوں سے امتیازی سلوک جاری ہے 06 December, 2005 | انڈیا دلت رہنما کانشی رام کا انتقال09 October, 2006 | انڈیا دلتوں کا قتل: چار پولیس اہلکار گرفتار08 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||