BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 August, 2007, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلت حق پسندی کا ترجمان اخبار

جھارکھنڈ
یہ اپنی نوعیت کا واحد اخبار ہے
اپنی سرحدوں میں حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنا زمانہ قدیم سے ہی حکمرانوں کی اہم ترین ضرورت رہی ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ حکمرانی کے طریقوں میں تبدیلی کے بعد جدید ہندوستان میں ذرائع ابلاغ صنعت کا درجہ اختیار کر گیا اور سرمایہ داروں کے قبضے میں آ گیا لیکن یہ ادھوری حقیقت ہے۔

کیوں کہ ہندوستان کی ریاست جھارکھنڈ میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے گوری شنکر رجک نے گزشتہ اکیس سالوں سے مسلسل ایک اخبار نکال کر تاریخ مرتب کی ہے۔

دمکا ضلع سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سالہ گوری شنکر رجک غریب دھوبی ہيں اور بمشکل کبھی سکول گئے ہوں گے۔ لیکن وہ اپنے اخبار ميں مسلسل غریبوں اور دلتوں کے ساتھ تفریق کو نمایاں طور پر جگہ دیتے ہیں اور مقامی بدعنوانی کے واقعات بھی اجاگر کرتے ہیں۔

مسٹر رجک کا چار صفحات پر مشتمل دستی اخبار’دن دلت‘ ایک رجسڑڈ اخبا رہے۔ اس اخبار کو ہاتھ سے لکھنے کے بعد فوٹو کاپی کرائی جاتی ہے اور پھر اسے فروخت کی جاتی ہے۔ مسٹر رجک کے مطابق اخبار کی کاپی کو دمکا کے اہم بازار، ٹریفک لیمپ پوسٹ اور بس اڈے اور سڑکوں پر چسپاں کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ’دن دلت‘ دمکا شہر کا صرف ایک نیوز شیٹ یا دیواری اخبار نہيں ہے بلکہ یہ ایک رجسٹرڈ اخبار ہے۔ اور یہ اخبار انڈین نیوز پیپر کے رجسٹرار کے دفتر سے رجسٹرڈ ہے۔ لیکن اس اخبار کو تب رجسٹرڈ کیا گيا جب مسٹر رجک نے پہلے دلت صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر اس ضمن میں درخواست کی تھی۔

بغیر مالی وسائل کے اخبار کی اشاعت حیران کن ہے

اکتوبر انیس سو چھیاسی میں پہلے شمارے کے ساتھ ہی اس اخبار نےمقامی لوگوں کی زندگی میں تبدیلی کی ہوا کا پیغام دیا۔اس اخبار میں ظلم کے خلاف خبریں شائع ہونے کے بعد حکام نے متاثرہ افراد کی مدد کی۔

مسٹر رجک کا کہنا ہےکہ اس نے اخبار نکالے کا فیصلہ اس وقت کیا جب حکام کے ذریعہ اسے بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ بعض افراد کے سمیت سرکاری اسیکم کے تحت ایک دفتر میں بعض افراد کا نام درج کرانے کے لیے گیے تو حکام نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔

ان کا کہنا ’مجھے بہت دکھ ہوا، میں مقامی میڈیا کے پاس گيا اور اس معاملے کوعوام کے سامنے لانے کے لیے کہا لیکن اس نے ایسا نہيں کیا۔اس لیے ہم نے اپنا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور میں نے اپنا اخبار نکالا۔‘

وقت کے ساتھ دن دلت نے مختلف قسموں کے خبروں کو ترجیح دی۔ مقامی بدعنوانی، گھپلہ سمیت مٹی تیل اور مکان کے بٹوارے میں بدعنوانی کی خبروں کو شائع کیا۔

اپنی زندگی کو چلانے کے لیے ہفتہ بھر کپڑے دھونے کے بعد سنیچر کو مسٹر رجک خبروں کے انتخاب میں مشغول ہوتے ہیں۔ اور اتوار کو مکمل اخبار تیار کر لیا جاتا ہے۔

اب اخبار نے ایک پینتالیس سالہ روی شنکر کو رپورٹر کے طورپر رکھا لیا ہے جو ایک کریانے کی دکان میں کام کرتے ہیں اور کام کے بعد وہ خبریں لاتے ہیں۔

پیر کی صبح اخبار کے مدیر اور رپورٹر اخبار شائع کرتے ہیں اور اخبار کی سو فوٹو کاپی کراتے ہیں ۔ پچاس افراد اس اخبار کے مسلسل خریدار ہیں اور کچھ اخبارو ں کو جگہ جگہ پر چسپاں کیا جاتا ہے اور پچیس کاپیاں سرکاری محکمہ ميں بھیج دیا جاتا ہے۔

مسٹر رجک کاکہنا ہے کہ اخبار بنانے میں تین سے ساڑھے تین سوروپے کا خرچا ہوتا ہے۔

تاہم ان کی بیوی لکشمی دیوی اپنے شوہر کے اس کام سے متاثر نہیں ہے ان کا کہنا ہےکہ ’وہ ہر ہفتہ اپنا پیسہ اور وقت برباد کرتے ہیں میں نہیں جانتی کہ وہ اس سے کیا حاصل کرتے ہیں۔‘

رکشہ پولر دھورب رائے کا کہنا ہےکہ دن دلت سماجی مسائل کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ مسٹر رجک ’بدعنوانی اور سماجی برائی کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں۔‘

مسٹر رجک کے بڑے لڑکے راج شنکر رجک کا کہنا ہے ’ہمیں فخر ہوتا جب لوگ اس اخبار کی خبر پر بات کرتے ہیں۔‘

ایک مقامی انگریزی اخبار کے صافی برجیش برما اس اخبار کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے’اس اخبار کے وفادار قاری ہیں اور اس اخبار کے آنے تک اس کا انتظار کرتےہیں۔‘

دن دلت نے اب بڑے قومی مسائل پر بھی لکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس اخبار نے اپنے حالیہ شمارے میں اس بات کا ذکر کیا ہےکہ ’لائن آف کنٹرول‘ کو ’لائن آف پیس‘ میں بدل دینا چاہیے۔

انہوں نے کشمیر کے مسائل پر ایک ڈرامہ لکھا ہے اور مقامی نیوز چینل کو بھیجا ہے۔ تاکہ اس پر کوئی سیریل بنایا جا سکے اور انہيں چینل کے جواب کا انتظار ہے۔

بہرحال رجک کی خدمات اور ان کی کامیابی قابل تعریف ہیں اور ایک ایسے وقت جب اٹھارہ کروڑ دلت آج بھی حکام کے ذریعہ تفریق کے شکار ہيں اور ان پر خاطر خواہ دھیان نہيں دیا جاتا۔

خیال رہے کہ ہندوستان میں دلتوں کے ساتھ تفریق قانونی جرم ہے لیکن آج بھی ان کے خلاف تفریق کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
دلت ریلی میں لاکھوں شریک
06 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد