مہاراراشٹرمیں تین دلت ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ روز کانپورمیں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کی بے حرمتی کے خلاف ممبئی سمیت مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں پر تشدد احتجاج ہوا ہے۔ بدھ کے روز ہجوم نےایک دلت نوجوان کوہلاک کر دیا تھا اور بعد میں عثمان آباد میں پولس فائرنگ سے ایک بائیس سالہ لڑکے کی موت ہوگئی ہے۔ مظاہروں کے دوران ایک شخص زخمی ہوا تھا اور پولیس نے اب اسکی بھی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ عثمان آباد اور نانديڑ کے علاقوں میں کرفیو جاری ہے۔ مشتعل ہجوم کے پتھراؤ کی وجہ سے دس پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے سیکڑوں لوگوں کو فساد برپا کرنے کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔ ممبئی کےالہاس نگر میں بعض مظاہرین ایک ٹرین کے کچھ ڈبوں آگ لگا دی تھی لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق ممبئی میں ورلی کے علاوہ مضافاتی علاقے بھانڈوپ، کانجور مارگ چیمبور، ملاڈ اور تھانے میں بھی پتھراؤ ہوا ہے۔. ممبئي میں بہت سی بسوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس میں دو ڈرائیور اور ایک خاتون مسافر زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ماحول کشیدہ لیکن حالات قابو میں ہیں. ریلوے کنٹرول کے مطابق سینٹرل ریلوے کی پٹریوں پر ہجوم نے ریل روکو آندولن کیا تھا جس کے سبب کئی جگہوں پرٹرینیں کچھ وقت کے لئے بند کرنی پڑیں ہیں. پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہجوم نے ایک دلت نوجوان رنگ ناتھ شنکر ڈاھلے کو ہلاک کر دیا تھا۔ ریاستی پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے وزیر چھگن بھجبل نےمقتول نوجوان کے گھر والوں کو ایک لاکھ روپیہ معاوضہ دینے اور گھر کے ایک فرد کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ پونے شہر کے پمپری چنچوڑ علاقہ میں گزشتہ رات سے تشدد کی وارداتیں ہو رہی ہیں اور پولیس نے اس علاقے میں کئی جگہوں پر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ممبئی سمیت مہاراشٹر کے حالات پر قابو پانے کے لئے ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے اعلی پولس افسران کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کر لی ہے. | اسی بارے میں دلتوں کا قتل: چار پولیس اہلکار گرفتار08 November, 2006 | انڈیا دلتوں نے مذہب تبدیل کر لیا14 October, 2006 | انڈیا یہ بھی ہے انڈیا، دلتوں کا بائیکاٹ24 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||