BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرضی تصادم، CBI کی تفتیش نہیں
سہراب الدین اور ان کی اہلیہ دونوں ہی فرضی مقابلوں میں مارے گئے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پولیس مقابلے میں سہراب الدین کی ہلاکت کے معاملے میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے تفتیش کرانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ وہ گجرات سی آئی ڈی کی جانچ سے مطمئن ہے۔ تاہم اس نے سی آئی ڈی انسپکٹر گیتا جوہری کو حکم دیا ہے کہ وہ تفتیش کی رپورٹ براہ راست عدالت کو دیں گي۔

ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفتیش کے عمل میں وہ کسی بھی اعلی افسر کو جوابدہ نہیں ہیں اور اس معاملے کی پوری آزادی کے ساتھ تفتیش کرسکے گیں۔

فرضی تصادم کا یہ واقعہ نومبر 2005 میں پیش آیا تھا جس میں گجرات اور راجستھان پولیس کے تین اعلیٰ افسران نے سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ایک فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا۔

گجرات حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کی بیوی کوثر بی کو بھی چند دن کے بعد جلا کر قتل کر دیا تھا۔ سی آئی ڈی نے تمام متعلقہ پولیس افسروں کے بیانات ویڈیو ٹیپ کیے ہیں۔

تصادم کا واقعہ 2005 میں پیش آیا
 فرضی تصادم کا یہ واقعہ نومبر 2005 میں پیش آیا تھا جس میں گجرات اور راجستھان پولیس کے تین اعلیٰ افسران نے سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ایک فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا۔
اس معاملے میں تین پولیس افسران ڈی آئی جی ڈی جی ونجارہ، پانڈین اور الور کے سپرٹینڈینٹ ایم این دنیش کمار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں ان افسران کو ان کے عہدے سے معطل کردیا گیا تھا۔

سہراب الدین کے بھائي رباب الدین نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست کی تھی کہ فرضی تصادم کے اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کرائی جائے کیونکہ انہیں گجرات پولیس پر بھروسہ نہیں ہے۔

گجرات حکومت نے سی بی آئی سے جانچ کرانے کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ سی آئی ڈی کی تفتیش اطمینان بخش طریقے سے چل رہی ہے اس لۓ سی بی آئی سے تفتیش کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے گجرات حکومت نے راحت کی سانس لی ہے کیونکہ سی بی آئی کی تفتیش سے اس کے لئے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی تھیں ۔ اس معاملے میں سیاسی رہنما‎ؤں کے ملوث ہونے کی بھی خبریں ہیں۔

اب تک سی آئی ڈی کی تفتیش میں نہ تو کوثر بی کی لاش کی باقیات برآمد کی جاسکی ہیں اور نہ ہی ملزمان کے بیانات مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیے گۓ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد