انڈیا: سڑکوں پر سونے والے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فی الوقت ہندوستان تقریبا ہر شعبوں میں ترقی درج کرہا ہے۔ کبھی وزیراعظم تو کبھی غیرممالک کے بڑے بڑے رہنما سبھی تیزي سے کر رہی معیشت کے چرچےکرتے رہتے ہیں۔ اکثر ملک کی ترقی اور کامیابیوں سے عوام کو بھی روبرو کروایا جاتا ہے۔ اسی ترقی کا جائزہ لینے کے لیے جب میں رات میں ملک کے دارالحکومت دلی کی سڑکوں پر نکلی تو وہاں تو ایک عجیب منظر نظر آیا۔ اونچی اونچی عمارتوں، چمچماتی لائٹز، نئے نئے فلائی اورز اور تیز رفتار سے گزرتی ہوئی کاروں کے درمیان دلی بے حد خوبصوت نظر آ رہی تھی۔ لیکن انہیں فلائی اورز کے نيچے اور تیز رفتار گاڑیوں کے راستوں کے کنارے بعض لوگ سردی سے بچنے کے لیے آگ جلا کر بیٹھے ہوئے تھے اور بعض اسی فٹپاتھ پر سو رہے تھے۔ شاید ان افراد پر چمچماتی لائٹز ميں بھی ان لوگوں کی نظر نہيں پڑرہی جن کی نظروں میں ہندوستان جلد ہی ایک ’سوپر پاور‘ ملک بننے جارہا ہے۔ ملک کی پارلیمنٹ سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک فٹپاتھ کے نزدیک ایسے ہی بعض افراد نے مجھے بتایا کہ ان کا بچپن اسی فٹپاتھ پر گزرا ہے۔ ان میں سے بعض اپنے گاؤں کو چھوڑ کر کام کی تلاش میں شہر آئے اور اب یہاں سڑکوں پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان لوگوں کو شاید یہ بھی نہیں پتہ کہ ہندوستان کی معیشت کس رفتار سے ترقی کررہی ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ہندوستان کا موازنہ چین سے کیا جا رہا ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں پتہ ہے کہ جس میٹرو کے پل کے نیچے وہ روزانہ رات ميں سوتے ہیں اس پر حکومت نے کروڑوں روپيے خرچ کیے ہیں۔ ان کے لیے شاید یہ سب بے معنی ہیں کیوں کہ ان کے سامنے تو اس سے بڑی پریشانیاں کھڑی ہیں۔ ان لوگوں ميں سے ایک روبی نے بتایا: ’پولیس کے اہلکار سب سے زیادہ برا سلوک کرتے ہيں۔ انہیں اپنے گھر واپس جانے کو کہا جاتا ہے۔ ہر روز سامان کو کبھی ادھر تو کبھی ادھر پھینک دیا جاتا ہے اور عورتوں اور بچوں کو بھی معاف نہیں کیا جاتا ہے۔‘
ان لوگوں کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم آشریہ ادھیکار ابھییان کے سنجے کمار نے بتایا کہ صرف دارالحکومت دلی میں ہی فٹپاتھ پر رہنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور پورے ملک میں یہ تعداد ملک کی آبادی کا تقریبا دو فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا: ’یہ وہ لوگ ہیں جن کی شناخت کا کوئی دستاویز بھی موجود نہیں ہے۔ ان کے پاس نہ تو راشن کارڈ ہے اور نہ ہی ووٹر کارڈ۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے تئیں عوام کا رویہ کافی تفتیشناک ہے۔ سِول سوسائٹی ان لوگوں کو انسان نہیں سمجھتی اور ان کی موجودگی شہر کی خوبصورتی میں ایک داغ سے زیادہ اور کچھ نہیں سمجھی جاتی ہے۔‘ یہ حالات صرف دلی کے نہیں ہیں۔ سو کروڑ سے زيادہ کی آبادی والے اس ملک میں ان لوگوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ خواہ ترقی کے کتنے ہی پرچم لہرا لیے جائيں لیکن جب تک ہر ایک شہری کو روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جائيں گی اس وقت تک ملک حقیقت میں ترقی حاصل نہیں کر سکے گا۔ |
اسی بارے میں ’ممبئی کے بچے غذا کی کمی کا شکار‘17 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں سینتیس ہزار معذور بچے13 November, 2006 | انڈیا یونیسف کا پوسٹر تنازعے کا شکار24 November, 2006 | انڈیا انڈیا: چائلڈ ورکرز کی مشکلیں 10 December, 2006 | انڈیا مزید ڈھانچوں کی برآمدگی14 January, 2007 | انڈیا بھارت: معاشی ترقی اور غربت03 February, 2007 | انڈیا غریب لڑکیوں کی شادی یا’ فروخت‘14 October, 2006 | انڈیا چونم کومزدوری سےنجات مل گئی30 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||