اندرا گاندھی کی دوبارہ واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو اسی کی سات جنوری کو یعنی آج ہی کے دن ہندوستان کے عوام نے اندرا گاندھی کو ایک مرتبہ پھر منتخب کر لیا تھا۔ تین سال قبل انیس سو ستتر میں اندرا گاندھی کے ملک میں ایمرجنسی لگانے کی وجہ سے انہوں نے عوام کا اعتماد
ان کی کانگریس پارٹی نے عام انتخابات میں لوک سبھا یعنی ایوانِ زیریں کی 525 نشستوں میں سے 351 نشستیں حاصل کیں۔ محترمہ گاندھی کی جیت نے ان کی مخالف جماعتوں کا تقریباً صفایا کر دیا اور نہ جنتا دل اور نہ ہی لوک دل جماعت سرکاری طور پر حزبِ مخالف بننے کے لیے ضروری 54 نشستیں جیت پائیں۔ محترمہ گاندھی نے اس سے قبل انیس سو ستتر تک ہندوستان پر 11 برس تک حکومت کی۔ انتخابات کے دوران ان کا نعرہ تھا ’غربت ہٹاؤ‘ اور ’امن و امان بہتر کرو‘۔ انہوں نے اپنی 63 دن کی انتخابی مہم میں ہر دن بیس کے قریب تقاریر کیں اور 40000 میل تک پھیلے ہوئے 384 انتخابی حلقوں کا دورہ کیا۔ ان کے دورِ اقتدار کے دوران انیس ماہ ایمرجنسی لگی رہی اور اس دوران حزبِ مخالف کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور زبردستی خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام نافذ کرایا گیا۔ اس وقت جب انہوں نے اپنے اقتدار کو قانونی بنانے کے لیے انتخابات کا سہارا لیا تو مورار جی ڈیسائی کی جنتا دل نے انہیں شکست دی۔ اندرا گاندھی کو انیس سو چوراسی میں ان کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کر دیا تھا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے راجیو وزیرِ اعظم بنے لیکن انہیں بھی تامل خودکش بمباروں نے قتل کر دیا۔ |
اسی بارے میں سونیا کی جیت یا کانگریس کا عروج11 May, 2006 | انڈیا سونیا گاندھی کی زندگی پر فلم 05 September, 2005 | انڈیا سکھوں سے منموہن سنگھ کی معافی11 August, 2005 | انڈیا ’مذہبی فسادات سیاستدانوں کا کام‘08 August, 2005 | انڈیا سکھوں کی رہائی کے خلاف اپیل نہیں05 May, 2005 | انڈیا اندرا گاندھی: تاریخ کے اتار چڑھاؤ29 October, 2004 | انڈیا گاندھی۔بچن خاندانوں کی سرد جنگ18 October, 2004 | انڈیا آپریشن بلوسٹار کی تحقیقات کا مطالبہ06 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||