BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 October, 2004, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اندرا گاندھی: تاریخ کے اتار چڑھاؤ

اندرا گاندھی
اندرا گاندھی 1977 میں اپنی بہو سونیا گاندھی کے ہمراہ
اندرا گاندھی کے قتل کی بیسویں برسی کے موقع پر بھارت کے عوام نہایت پرجوش ہیں اور یہ جوش پانچ ماہ پہلے ان کے والد جواہر لعل نہرو کی چالیسویں برسی سے کہیں زیادہ ہے۔

اندرا گاندھی 1966 میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد اتنی با اثر نہیں سمجھی جاتی تھیں لیکن چار سال بعد پاکستان کے خلاف 1971 کی جنگ جیتنے کے بعد انہیں اہم رہنما تسلیم کرلیا گیا۔

تاہم اس کے بعد کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی۔ اس وقت کے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی نے اندرا گاندھی کو ’ماضی کی کہانی‘ قرار دیا لیکن ان کا یہ خیال غلط نکلا۔ اگلے انتخابات میں گاندھی پھر سے اقتدار میں آگئیں۔

ان کی سیاسی زندگی اسی طرح کے اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔

سن 1970 میں انہوں نے ملک میں جو ایمرجنسی نافذ کی اس کے زیادہ اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے اور اس سے ملک کی جمہوریت کو جھٹکا لگا۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے بھارتی سیاسی نظام میں آنے والی چند تبدیلیاں ابھی تک دور نہیں کی جاسکی ہیں۔

ایک طرف تو کچھ لوگوں کے حلقے میں وہ اپنی زندگی کی نسبت اب زیادہ مقبولیت حاصل کرچکی ہیں تو دوسری طرف ایک حلقے میں ان کےخلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ایمر جنسی نافذ کرنے کے علاوہ بھی اندرا گاندھی کے چند اقدامات ایسے تھے جو ان کی مقبولیت میں کمی کا باعث بنے۔اپنی وزارت کے دور میں انہوں نے بیشتر اختیارات اپنے ہی پاس رکھے۔

تاہم جن لوگوں نے اس اقدام پر ان کی مخالفت کی انہوں نے خود بھی اقتدار میں آنے کے بعد یہی کیا۔

بدعنوانی تو بھارت کی تاریخ میں شروع ہی سے شامل ہے لیکن اندرا گاندھی کے دور میں اس میں بھی اضافہ ہوا۔

اگرچہ گاندھی کے ناپسندیدہ اقدامات کی فہرست طویل ہے، ان کی کامیابیاں بھی کئی ہیں۔

ان کے بار ے میں کہا جاتا ہے کہ اختیارات کی اہمیت اور انہیں استعمال کرنے کا ہنر اندرا گاندھی میں ان کے والد سے کہیں زیادہ تھا۔

انہوں نے ملک میں ’سبز انقلاب‘ کی داغ بیل ڈالی تاکہ بھارت اشیائے خوردو نوش میں خود کفیل ہوسکے۔

انہیں کے دور میں بھارت سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین رکھنے والا تیسرا بڑا ملک ، دنیا کی پانچویں بڑی فوجی طاقت، جوہری صلاحیت رکھنے والا چھٹا، خلائی دوڑ میں ساتواں اور صنعتی ترقی کے لحاظ سے دسواں بڑا ملک بنا۔

چندحلقے بیشک ان کی مخالفت کریں لیکن ملک کا غریب طبقہ جانتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ غرباء کا بہت خیال رکھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد