چکن گونیا: جنوب تا دلی پھیل گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری چکن گونیا پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ایک اہم میٹنگ کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چکن گونیا لاعلاج بیماری نہیں ہے اور یہ بیماری فضائی آلودگی سے پھیل رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے حکومت متاثرہ ریاستوں کو ہر ممکنہ مدد دے رہی ہے۔ مچھروں سے پھیلنے والی بیماری چکن گونیا شروعات میں صرف جنوبی بھارت تک محدود تھی لیکن اب یہ بیماری دھیرے دھیرے گجرات، راجستھان اور دلی کے آس پاس کی ریاستوں میں بھی پھیل رہی ہے۔ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے مرکزی وزیر صحت انمبونی رامادوس نے چکن گونیا سے متاثرہ 14ریاستوں کے وزراء صحت کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں چکن گونیا سے نمٹنے کے طریقوں پر غور فکر کیا گیا اور متاثرہ افراد کو بہتر سے بہتر سہولتیں دینے پر غور کیا گیا۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں اب تک چکن گونیا کے لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کی اطلاع ہے لیکن زیادہ متاثر ہونے والوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کے 165 اضلاع چکن گونیا سے متاثر ہیں لیکن اس سے ڈرنے کے کوئی بات نہیں ہے کیونکہ چکن گونیا لا علاج بیماری نہیں ہے اور یہ بیماری فضائی آلودگی کے سبب مچھروں کے پیدا ہونے کی وجہ
مسٹر رامادوس نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت تمام متاثرہ ریاستوں کو نہ صرف دوائیاں اور اسپرے کی مشینیں مہیا کر رہی ہے بلکہ اس کے لیے وہ سبھی ریاستوں کو ان کی ضرورتوں کے مطابق مالی امداد بھی دے رہی ہے۔ مسٹر رامادوس کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ میں حکومت اس بیماری پر قابو پانے کے لیے متاثرہ ریاستوں کو تقریبا 20 کروڑ روپے کی امداد دے چکی ہے اور آنے والے دنوں میں ان ریاستوں کو اور امداد مہیا کرائی جائیگی‘۔ مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی دو سری بیماری ڈینگو سے دلی جیسا شہر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مسٹر رامادوس نے بتایا کہ رفتہ رفتہ ڈینگو کے واقعات میں کمی آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈینگو اور چکن گونیا کے ٹیسٹ کے لیے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کا اعلان کیا ہے۔ اور جو شخص اس بیماری میں مبتلا پایا گیا اس کا مفت علاج کیا اور کرایا جائیگا۔ |
اسی بارے میں انڈیا: ڈینگو بخار سے پچیس ہلاک03 October, 2006 | انڈیا دماغی بخار سے آٹھ سو افراد ہلاک17 September, 2005 | انڈیا اترپردیش: دماغی بخار سے630ہلاک09 September, 2005 | انڈیا اتر پردیش: دماغی بخار 151 ہلاک23 August, 2005 | انڈیا ممبئی وبائی بخار کی لپیٹ میں11 August, 2005 | انڈیا بہار میں دماغی بخار کا قہر17 June, 2005 | انڈیا دلی میں گردن توڑ بخار کا قہر06 May, 2005 | انڈیا امام بخاری: بی جے پی کی حمایت25 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||