کیرالہ: چکن گونیا سے 60 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین ریاست کیرالہ میں ہزاروں افراد خطرناک چکن گونیا بیماری سے متاثر ہیں۔ خبر رساں ایجنیسیوں کے مطابق ریاست میں اس بیماری سے کم از کم 60 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم ان اموات کی تصدیق کسی اور ذریعے سے نہیں ہو سکی۔ ریاست کےوزیر صحت پی کے شرمتی کے مطابق ریاست کا آلاپور ضلع میں سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے اور وہاں کم از کم 15ہزار افراد اس بیماری کی گرفت میں ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس بیماری کا سامنا کرنے کے لیئے مرکزی حکومت کی مدد مانگی ہے۔ بدھ کو عالمی تنظیم صحت یعنی ڈبلو ایچ او کے متعدی بیماریوں کی شاخ کے ڈائریکٹر جے پی نارائن اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ریاست کا دورہ کریں گی اور حالات کا جائزہ لیں گی۔ آلا پور کے علاوہ کوٹایم، ترشور اور ارناکولم ضلع بھی اس بیماری کی زد میں ہیں۔ ہندوستان کی کچھ اور ریاستوں میں بھی یہ بیماری پھیل رہی ہے اور صحت کے مرکزی وزیر انمبونی رامادوس نے اس بیماری سے متاثرہ ریاستوں کے وزراء کی گیارہ اکتوبر کو ایک میٹنگ بلائی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چکن گونیا قابل علاج بیماری ہے۔ بیماری پھیلانے والے مچھر کے کاٹنے کے بعد چار سے سات دنوں کے درمیان مریض میں اس بیماری کی علامتیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔
ملیریا کی بیماری میں تو مچھر رات میں کاٹتے ہیں اور اس سے بچنے کے لیئے لوگ مچھر دانی کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے چکن گونیا بیماری دن میں کاٹنے والے مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری میں مریض کی ہڈیا کمزور ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کا نام سواہلی زبان سے لیا گیا ہے جس کا مطلب رکی ہوئی چال ہے ۔ مریض کو تیز بخار، سردرد کے علاوہ جوڑوں میں بے حد درد ہوجاتا ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ بیماری پر قابو پانے کے لیئے صحت کے وزير امبومنی رامادوس عوام کو اس سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں انڈیا: ڈینگو بخار سے پچیس ہلاک03 October, 2006 | انڈیا دماغی بخار سے آٹھ سو افراد ہلاک17 September, 2005 | انڈیا اترپردیش: دماغی بخار سے630ہلاک09 September, 2005 | انڈیا اتر پردیش: دماغی بخار 151 ہلاک23 August, 2005 | انڈیا ممبئی وبائی بخار کی لپیٹ میں11 August, 2005 | انڈیا بہار میں دماغی بخار کا قہر17 June, 2005 | انڈیا دلی میں گردن توڑ بخار کا قہر06 May, 2005 | انڈیا امام بخاری: بی جے پی کی حمایت25 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||