BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 October, 2006, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالہ: چکن گونیا سے 60 ہلاک
چکن گونیا
مچھر کے کاٹنے کے بعد چار سے سات دنوں کے درمیان مریض میں اس بیماری کی علامتیں دکھائی دینے لگتی ہیں
انڈین ریاست کیرالہ میں ہزاروں افراد خطرناک چکن گونیا بیماری سے متاثر ہیں۔ خبر رساں ایجنیسیوں کے مطابق ریاست میں اس بیماری سے کم از کم 60 افراد کی موت ہوچکی ہے۔

انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم ان اموات کی تصدیق کسی اور ذریعے سے نہیں ہو سکی۔

ریاست کےوزیر صحت پی کے شرمتی کے مطابق ریاست کا آلاپور ضلع میں سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے اور وہاں کم از کم 15ہزار افراد اس بیماری کی گرفت میں ہیں۔

ریاستی حکومت نے اس بیماری کا سامنا کرنے کے لیئے مرکزی حکومت کی مدد مانگی ہے۔

بدھ کو عالمی تنظیم صحت یعنی ڈبلو ایچ او کے متعدی بیماریوں کی شاخ کے ڈائریکٹر جے پی نارائن اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ریاست کا دورہ کریں گی اور حالات کا جائزہ لیں گی۔

آلا پور کے علاوہ کوٹایم، ترشور اور ارناکولم ضلع بھی اس بیماری کی زد میں ہیں۔

ہندوستان کی کچھ اور ریاستوں میں بھی یہ بیماری پھیل رہی ہے اور صحت کے مرکزی وزیر انمبونی رامادوس نے اس بیماری سے متاثرہ ریاستوں کے وزراء کی گیارہ اکتوبر کو ایک میٹنگ بلائی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چکن گونیا قابل علاج بیماری ہے۔ بیماری پھیلانے والے مچھر کے کاٹنے کے بعد چار سے سات دنوں کے درمیان مریض میں اس بیماری کی علامتیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔

صرف ایک ضلع میں 15 ہزار
 کےوزیر صحت پی کے شرمتی کے مطابق ریاست کا آلاپور ضلع میں سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے اور وہاں کم از کم 15ہزار افراد اس بیماری کی گرفت میں ہیں

ملیریا کی بیماری میں تو مچھر رات میں کاٹتے ہیں اور اس سے بچنے کے لیئے لوگ مچھر دانی کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے چکن گونیا بیماری دن میں کاٹنے والے مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔

اس بیماری میں مریض کی ہڈیا کمزور ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کا نام سواہلی زبان سے لیا گیا ہے جس کا مطلب رکی ہوئی چال ہے ۔

مریض کو تیز بخار، سردرد کے علاوہ جوڑوں میں بے حد درد ہوجاتا ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔

بیماری پر قابو پانے کے لیئے صحت کے وزير امبومنی رامادوس عوام کو اس سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فٹبال جیسی کاردکن ڈائری
فٹبال کے بخار کے ساتھ ماضی کی یادیں
انکفلائٹس کا قہر
بہار میں انکفلائٹس سے متعدد بچے ہلاک
 تپِ دق کے جراثیمٹی بی کا عالمی دن
تپِ دق آج بھی ایک مہلک بیماری ہے
معذورں کا گاؤں
جھاڑکنڈ کے قریب ایک گاؤں میں ہر شخص معذور
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد