میدان جنگ کے دشمن سے دوستی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنگ میں فوجی اپنے مخالف کو ختم کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ زک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن قتل و خون کی اس سفاکی میں بھی کبھی کبھی ایسے لمحے آتے ہیں جب جنگ و جدل پر انسانی پہلو غالب آجاتاہے۔ ایسی ہی ایک داستان ہے بھارت کے ایک میجر راج موہن کی ہے جو امن و دوستی کے پیغام کے ساتھ پاکستان جارہے ہیں۔ ہندوستان کی طرف سے پیارو محبت کے پیغام کے ساتھ کسی بھی فوجی کا یہ پہلا پاکستانی دورہ ہے۔ 1971 کی ہند پاک جنگ کے دوران میجر موہن اور پاکستان کے کیپٹن امتیاز علی شاہ ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن محاذ جنگ میں میجرموہن نے انکی آنکھوں میں پیار کی ایسی جھلک دیکھی کہ آج تک اسکی یادیں سمیٹے ہوئے ہیں ۔ اب وہ اور انکی اہلیہ لاہور جانے کی تیاری کر رہے ہیں جہاں وہ کیپٹن امتیازعلی شاہ کی بیوی اور انکی والدہ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امتیاز علی کتنے بہادر اورجرات مند تھے اور کس طرح انہوں نے اپنی جان ملک کی خدمت کے لیے قربان کردی۔ راج موہن نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی کے دوران کیپٹن امتیازعلی کے سر میں گولی لگی تھی اور انکا انتقال انکی گود میں ہوا تھا۔ ’یہ درد کاایک عجیب رشتہ ہے جو پیار میں بدل گیا۔ زخمی امتیازنے تھوڑی دیربعد جب آنکھیں کھولیں تو میں نے ان میں دشمنی کے بجائے انسانیت دیکھی اور دیکھتے دیکھتے ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔ میں اپنےخاندان کے ساتھ لاہور جارہا ہوں اور کیپٹن امتیازعلی کی فیملی کے ساتھ اس درد کو بانٹنا چاہتا ہوں‘۔
میجرموہن کا کہنا ہے کہ وہ کیولری یونٹ میں تھے جبکہ امتیاز انفنٹری میں تھےاور ایک ایسے وقت جب جنگ اپنے پورے شباب پر تھی ملاقات میدان جنگ میں ہوئی اورچند لمحوں کی ملاقات آج تک یاد ہے۔ ’گزشہ 35 برسوں سے امتیاز علی کا بیج اور بٹوا میرے پاس ہے۔ بڑی مدت سے انتظارتھا کہ کاش میں یہ امانت انکے خاندان کو سونپ سکتا اور اب یہ وقت آپہنچاہے‘۔ میجر موہن اسی ہفتے پاکستان جارہے ہیں۔ لڑائی کے دوران میجر موہن بھی زخمی ہوگئے تھے اور محاذ جنگ سے واپس آئے تو کیپٹن امتیاز علی کی تصویراور چھوٹا ہوا سامان اپنے ساتھ لائے ۔ ’ہم دونوں کی عمرتقدیباً بیس بائیس برس رہی ہوگی میرے والدین مجھ سے اکثر یہ پوچھتے تھے کہ یہ کس کا بیٹا ہوگا؟ کاش یہ سوغات واپس کی جاسکتیں لیکن چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات خراب تھے اس لیے یہ ممکن نا تھا‘۔ مسٹر موہن نے کہا اب دونوں ملکوں میں تعلقات اچھے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ملک سدا امن و محبت سے رہیں۔ میجرراج کی اہلیہ دیپ مالا ایک کلاسیقی گلوکارہ ہیں اوراپنے پاکستان دورے سے قبل وہ وموسیقی اور خاص اودھی گیتوں کی مشق کررہی ہیں جو وہ پاکستان میں پیش کرنا چاہتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کیپٹن امتیاز کی ماں اور انکی بیوی سے جب فون پر پہلی بار بات ہوئی توانہوں نے یہی پوچھا کہ ’انکے بیٹے کی موت کیسے ہوئی تھی‘۔ چونکہ پاکستان میں انہیں گم شدہ بتایا گیا تھا اس لیے وہ پر امید تھیں کہ ممکن ہے انکا بیٹا زندہ ہو’میں تو انکی باتیں سن کر زاروقطار روپڑی تھی‘۔ انہوں نے کہا انہیں خوشی ہے کہ انکے شوہرکا 30 برس کا انتظار ختم ہو رہا ہے۔ میجرراج اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ واگہ بارڈرکے راستے سے پہلے لاہور جائیں گے اور وہاں چند روز امتیاز علی کے گھر پرقیام کرینگے۔ اس کے بعد وہ اسلام آباد روانہ ہونگے جہاں پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملنے کا پروگرام ہے۔ واپسی سے قبل کراچی یونیورسٹی کے طلباء سے میجر موہن خطاب کرینگے اور انکی اہلیہ وہاں صوفیانہ کلام پیش کریں گی۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ’ہم محبت امن اور بھائی چارے کے پیغام کے ساتھ جارہے ہیں۔ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے‘۔ |
اسی بارے میں ہند پاک تفتیشی اداروں کے مذاکرات 22 March, 2006 | انڈیا پاک بھارت مذاکرت 27 جون سے01 June, 2004 | انڈیا پاک بھارت پنجاب کی مہک ایک ہے11 February, 2005 | انڈیا ہند پاک سیریز کےخلاف سازش 11 February, 2005 | انڈیا ہند پاک سرحدی اہلکاروں کی ملاقات 12 October, 2004 | انڈیا جسم فروشی میں پاک بھارت تعاون22 June, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||