قرۃ العین کا غم، مصوری پر تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال دو ہزار سات کے اختتام پر ادب، صحافت اور فن پر نظر ثانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے ادب و صحافت میں نئے تجربات اور ملکی اور عالمی سیاست کی عکاسی پر زور دیا گیا ہے۔ جہاں ایک طرف بعض کتابوں، مصوروں اور فن کاروں نے بعض بولڈ موضوعات کے سبب تنقید جھیلی وہیں نئے اور نوجوان فن کاروں نے اپنے فن سے لوگوں کو متاثر کیا۔ اسی طرح عالمی سطح پر شہرت یافتہ آرٹسٹ نے قومی اور عالمی سطح پر اپنے فن کا جوہر دکھایا اور ساتھ ہی بر صغیر کے بعض بڑے فن کار اس دنیا کو الوداع کر گئے۔ سب سے پہلے بات اردو ادب کی نامور شخصیت قرۃالعین حیدر کی۔ قرۃ العین حیدر جنہیں ادب کی دنیا اور ان کے گھر والے پیار سے’عینی آپا‘ کے نام پکارتے تھے اس برس اگست میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں بالترتیب: میرے بھی صنم خانے، سفینۂ غمِ دل، آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، گردشِ رنگِ چمن، کارِ جہاں دراز ہے اور چاندنی بیگم شامل ہیں۔ قرۃالعین حیدر 1927 میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرۃالعین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا لیکن بعد میں انہوں نے ہندوستان واپس رہنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے آخری سانس ہندوستان کی زمین پر لی اور یہیں ان کا مزار بنا۔ ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف دکھتا ہے اوران کے دو ناولوں’آگ کا دریا‘ اور ’آخر شب کے ہم سفر‘ کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ ہندی زبان میں مقبول ناول ’ کتنے پاکستان‘ لکھنے والے ہندی کے معروف ادیب کملیشور 2007 کے اؤائل میں انتقال کرگئے ہیں۔انہوں نے تقریباً دس ناول، کئی مختصر کہانیاں اور کتابیں تصنیف کیں۔ان کی تصانیف میں موضوع سے لے کر لکھنے کے انداز میں تنوع پایا جاتا تھا۔ انہوں نے کئ فلموں کے سکرین پلے اور سکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے مشہور ادبی کارناموں میں ' آندھی‘، ’لوٹے ہوئے مسافر‘، ’تیسرا آدمی‘، ’کہرا‘ اور ’ماس کا دریا‘ شامل ہے۔ ہندی کے مشہور شاعر ترلوچن شاستری بھی اس برس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔اس کے علاوہ ہندی کے مشہور مزاحیہ شاعر اور ٹی وی اداکار شیل چترویدی بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔
ادب میں اعزازات کی بات کی جائے تو ہندوستان میں ادبی دنیا کا سب سے بڑا ادبی اعزاز 40واں گیان پیھٹ اعزاز کشیمر کے مشہور شاعر اور ناقد رحمان راہی کو دیا گیا۔ سال دوہزار چار اور پانچ کا گیان پیٹھ ایوارڈ 2007 میں دیا گیا۔ یہ اعزاز پانے والے رحمان راہی پہلے کشیمری لکھاری ہیں۔ رحمان کو 1961 میں ساہتیہ اکاڈمی اعزاز مل چکا ہے۔ انہیں اعلی شہری ایوارڈ پدم شری اعزاز سے بھی نوازہ جاچکا ہے۔ اس برس ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ کے اردو زمرے میں وہاب اشرفی کی کتاب’ تاریخ اردو ادب ‘کومنتخب کیا گيا وہیں ہندی ادب میں یہ ایوارڈ امرکانت کی کتاب ’ انہیں ہتھیاروں ‘ کو دیا گیا۔ وحاب اشرفی بتاتے ہیں’ مجھے خوشی ہے کہ میری کتاب کو ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ سے نوازہ گیا۔ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے۔‘ انکر، منتھن، نشانت، سرداری بیگم، زبیدہ، سورج کا ساتواں گھوڑا، دا میکنگ آف مہاتما جیسی معنی خیز اور مقبول فلمیں بنانے والے فلم ہدایت کار شیام بنيگل کو دادا صاحب پھالکے اعزاز سے نوازہ گیا۔گزشتہ دوبرس کا دادا صاحب پھالکے اعزاز ہدایت کار ادور گوپالن کرشنا کو دیا گیا ہے۔ شاعر اور لکھاری ہری ونش رائے بچن اور شاعرہ مہادویوی ورما کی سویوں سالگرہ مانی گئی۔ وہیں صوفی شاعر رومی کی بھی 800ویں سالگرہ منائی گئی۔
وہیں گجرات کے شہر بروڈہ کے آرٹ کالج کے ایک طالب کو ہندو نظریاتی تنظیموں کے ہاتھوں اس وقت نہ صرف تشدد کا شکار ہونا پڑا بلکہ جیل بھی جانا پڑا جب ان پر انکی پینٹنگز میں ہندوں دیوی دیوتاؤں کی توہین کا الزام لگایا گیا۔ بات اگر بالی ووڈ سے الگ سنیما کی بات کریں تو گوا میں منعقد انڈین انٹرنیشنل فلم فیسٹول(یعنی اففی 2007) میں 50 سے زائد ممالک کی فلمیں دکھائی گئیں۔ اففی کا مقصد مینسٹریم فلموں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے ان فلموں کو دکھانا ہے جو کمرشیل نہ ہونے کی وجہ سے سنیما گھروں میں نہیں دکھائی جاتی ہیں۔ اس بار اففی میں نہ صرف نون کمرشیل فلمیں بلکہ بالی ووڈ کا بھی جلوہ رہا۔ فیسٹول میں تائوان کے ہدایت کار لن چن جو کی فلم’ دا وال‘ کو بیسٹ فلم کے اعزاز سے نوازہ گیا۔ بیس سے انتیس جولائی تک دلی میں منعقد نویں اوسیان سینے فین میں ایشیا، عرب ممالک اور ہندوستانی سنیما کی فلموں کو فسٹیول کا خاص فوکس بنایا گیا۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کی 200 سے زائد فلمیں دکھائی گئیں۔ فیسٹول میں تھائی فلم ’پلوئے‘ کو بہترین فلم کے اعزاز سے نوازہ گیا۔ مصوری کی دنیا میں جھانکنے پر پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کے مصور، نیو میڈیا آرٹسٹس نے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر اپنا نام کام کمایا۔ پیرس کے ایک آرٹ ہاؤس میں ہندوستانی مصوروں 102 پینٹگز کی نمائش ہوئی۔ اس نمائش میں ایس ایچ رضا کی 1984 کی ایک پینٹنگ سب سے زیادہ ستائش حاصل کی۔ ڈاکومنٹری فلموں ميں دلی میں مقیم سنجے کاک کی فلم ’ جشن آزادی‘ سال سے سب سے بہترین ڈکیومنٹری کے طور پر سامنے آئی۔ اس فلم کو دنیا بھر کے فلم فسٹیولز میں دکھایا گیا۔ فلم کو دلی میں ہوئے اوسیان فلم فسٹیول میں زبردست ستائش ملی۔
ہدایت کار کرتی جین کا ڈرامہ ’ بغداد برننگ ‘ کافی مقبول رہا۔ اس کے علاوہ مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہروں کے ایک دوسرے کو لکھے گئے خطوط پر مبنی موہن مہارشی کا ڈرامہ ’ڈئیر باپو ‘ زبردست مقبول ہوا۔ |
اسی بارے میں کملیشور انتقال کر گئے28 January, 2007 | انڈیا آسکر دوڑ میں عراق کی فلمیں08 February, 2007 | فن فنکار صدام کے بعد کی عراقی فلم10 January, 2005 | فن فنکار عراق پر ایرانی فلم کو ایوارڈ 25 September, 2004 | فن فنکار ’بغداد بلاگ‘ پر فلم13 May, 2004 | فن فنکار شیکسپیئر لاہور میں28 January, 2007 | فن فنکار اشفاق احمد: بلیک اینڈ وائٹ یادیں 06 September, 2005 | فن فنکار بچوں کا کھیل ’بارڈر بارڈر‘14 September, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||