آسکر دوڑ میں عراق کی فلمیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے بارے میں فلمیں بنانے والے دو فلمسازوں کو اس سال کی بہترین دستاویزی فلموں کی حتمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان دونوں فلموں میں عراق میں عام لوگوں کی روز مرہ کی زندگیوں کی کہانی دکھائی گئی ہے۔ ’عراق اِن فریگمنٹس‘ نامی فلم میں جیمز لانگلی نے اس جنگ زدہ ملک کے حالات کو مختلف افراد کے نکتہ نظر سے دکھایا ہے۔ ان افراد میں بغداد میں رہنے والا ایک گیارہ سالہ یتیم لڑکا، آزادی کے لیے لڑنے والے کچھ کرد اور نصریہ اور نجف میں مقتدی الصدر کے کئی حامی شامل ہیں۔ امریکہ کی ریاست اوریگون سے تعلق رکھنے والے فلمساز جیمز لانگلی نے اس ڈاکیومنٹری کو فلمانے کے لیے عراق میں دو سال گزارے۔ انہوں نے شعیہ، سنی اور کرد افراد کی فلم بنائی اور آخر میں ان کے پاس تین سو گھنٹوں سے زیادہ کی فلم فٹیج تھی۔
عراق کے بارے میں بنائی گئی دوسری فلم لاورا پوائتراس کی ’مائی کنٹری، مائی کنٹری‘ ہے۔ نیو یارک سے تعلق رکھنے والی لاؤرا پوائتراس نے فلم بنانے کے لیے عراق میں آٹھ ماہ گزارے۔ یہ فلم ایک ایسےسنی ڈاکٹر کے بارے میں ہے جو امریکیوں کے خلاف ہوتے ہوئے بھی جنوری 2005 کے انتخابات میں حصہ لیتا ہے۔ اگرچہ لانگلی اور پوائتراس کی فلموں میں عراق پر قابض افواج کے لیے ناراضگی دکھائی گئی ہے لیکن دونوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد حالات کو ریکارڈ کرنا ہے کسی قسم کی نئی بحث شروع کرنا نہیں ہے۔ لانگلی کا کہنا ہے کہ ’میں کوئی مائیکل مور نہیں ہوں۔ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔‘ پوائتراس کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ہماری فلمیں دیکھیں گے تو آپ کو اس ملک کے متعلق عام نیوز کوریج سے زیادہ سمجھ آئے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امریکہ میں بیٹھے ہوئے یہ پتہ نہیں چلتا کہ عام عراقی اپنے ملک کے متعلق کیا چاہتے ہیں اور انہیں کس قسم کے حالات درپیش ہیں۔‘ |
اسی بارے میں فونڈا جنگِ عراق کی مخالفت میں26 July, 2005 | فن فنکار عراق پر ایرانی فلم کو ایوارڈ 25 September, 2004 | فن فنکار بنینی کی عراق پر ’مزاحیہ‘ فلم02 October, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||