’رام گوپال ورما کی آگ‘ فلاپ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم کی باکس آفس پر بدتر حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے ہفتے ہی ریلیز ہونے والی اس فلم کے ڈسٹری بیوٹرز نے فلم کو آئندہ جمعہ تک سنیما گھروں سے اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلموں کے مالی معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فلم کو بنانے والوں کو تقریبا تیس لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ 1978 میں بنی ’شعلے‘ بالی ووڈ کی سب سے بڑی ہٹ فلم مانی جاتی ہے اور اس فلم کے ڈائیلاگ نے اب محاروں کی شکل اختیار کرلی ہے۔ شعلے کے ’گبر‘ اور ’ٹھاکر‘ کے کردار سے لے کر ہر چھوٹا بڑا کردار اداکاری کی مثال مانا جاتا ہے۔ فلم نے بے پناہ شہرت حاصل کی تھی لیکن جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اسے صرف اس کی ایڈیٹنگ کے لیے فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا تھا تاہم بعد میں یہ فلم ایک تاریخ بن گئی۔ ہدایت کار رام گوپال ورما نے ’شعلے‘ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے فلم
لیکن جب شعلے کا ریمیک منظر عام پر آیا تو فلمی شائقین کو اس ’آگ‘ میں کوئی شعلہ نظر نہیں آیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پورے ملک کے بیشتر سنیماگھر تقریباً خالی جا رہے ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ شعلے کے ری میک سے دوسری کسی بھی فلم سے زیادہ توقع کی گئی تھی اور وہ اس توقع پر پورا نہیں اتری ہے۔ اقتصادی ماہر امول مہرا کا کہنا ہے کہ’یہ ہماری نسل کی سب سے بڑی فلاپ فلم ہے‘۔ فلم ناقد کومل نہاٹا کا کہنا ہے کہ ’ڈسٹری بیوٹرز کا فیصلہ کوئی غیر متوقع نہیں ہے۔ اتنی بڑی فلم کو دوسرے ہفتے ہی سنیماگھروں سے اتارا جا رہا ہے۔ ایسے میں کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ ڈسٹری بیوٹرز سنیما گھروں کا کرایہ دیتے رہیں اور انہیں واپس کچھ نہ ملے‘۔ اتوار کو میں خود ممبئی کے ایک ملٹی پلیکس میں یہ فلم دیکھنے گیا تھا جو دو دن پہلے ہی فلم ریلیز ہوئی تھی لیکن اس وقت ہال میں صرف پندرہ لوگ تھے۔ حالانکہ ہفتے کے آخر میں ان سنیماگھروں میں کافی بھیڑ ہوتی ہے۔
میرے جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فلم میں سپر سٹار امیتابھ بچن ’ولن‘ یعنی شعلے کے ’گبر‘ کا کردار ادا کر رہے تھے۔ اس فلم وہ ببن بنے ہوئے ہیں۔ امیتابھ بچن فلم ’شعلے‘ میں بھی تھے لیکن اس میں وہ دو ہیروز میں سے ایک تھے۔ میرے ساتھی ناظرین نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ فلم ’رام گوپال ورما کی آگ‘ میں امیتابھ بچن اپنے شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نصف فلم تک کئی شائقین ہال سے جا چکے تھے۔ ان میں سے ایک شائق کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اصل کہانی کا قتل کر دیا گیا ہو۔ رام گوپال ورما نے جیسے ہی یہ فلم بنانے کا اعلان کیا تھا اس وقت ہی یہ فلم تنازعہ کا شکار ہو گئی تھی۔ فلم کے کاپی رائٹس کے معاملے پر مسٹر ورما اور شعلے کے فلم ساز رمیش سپی کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔ سپّی نے فلم کا نام بدلنے کے لیے رام گوپال ورما کو عدالت تک کھینچا اور بعد میں رام گوپال ورما کو صرف فلم کا نام ہی نہیں بلکہ کرداروں کے نام بھی بدلنے پڑے۔ حال میں کئی فلم سازوں نے پرانی فلموں کی ری میک بنائی ہے جن میں سے بعض ہٹ رہیں تو بعض فلاپ۔ ان میں ’دیوداس‘، ’ڈان‘ اور ’امراؤ جان‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں ڈان اور شعلے دوبارہ بنیں گی10 July, 2005 | فن فنکار رامو کی ’شعلے‘ تنازعہ کا شکار04 July, 2007 | فن فنکار فلم شعلے کی دھوم ایک بار پھر19 August, 2004 | انڈیا ’شعلے‘ اور ’ڈان‘ ہو بہو اور مختلف 08 July, 2005 | فن فنکار اب ’شعلے‘ بھوجپوری میں بھی23 October, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||