ایرانی فلم ڈائریکٹر لاہور میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی ہدایتکار مجید مجیدی کی لاہور آمد یہاں کے فلم بیں حلقوں کےلئے ایک خوشگوار حیرت کا سبب بنی۔ یوں تو لاہور دنیا بھر میں ایک جانا پہچانا ثقافتی مرکز ہے اور یہاں امریکہ، برطانیہ، یورپ حتٰی کہ جاپان کے ماہرینِ فن بھی اپنے شہکار لے کر آتے رہتے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ ایرانی سنیما کی ایک اتنی اہم شخصیت لاہور آئی۔ مجید مجیدی کو خانہ فرہنگِ ایران اور نیشنل کالج آف آرٹس نے مشترکہ طور پر مدعو کیا تھا۔ ایرانی فلموں کا ذوق رکھنے والوں کے لئے جعفر پناہی، عباس کے رستمی، محسن مخمل باف اور مجید مجیدی کے نام اُسی طرح جانے پہچانے ہیں جیسے انڈین فلمیں دیکھنے والوں کےلئے یش چوپڑا، لیلا بھنسالی اور رام گوپال ورما۔ 47 سالہ مجید مجیدی نے انقلابِ اسلامی کے دِنوں میں ایک سٹیج اداکار کے طور پر اپنے فن کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں محسن مخمل باف کی ایک فلم میں کام کرنے کا اتفاق ہوا تو انھیں محسوس ہوا کہ فلم ہی اُن کے لئے بہترین ذریعۂ اظہار ہے۔ 1992 میں اُن کی پہلی فلم ٰ بابکٰ منظرِ عام پر آئی جسکا سکرپٹ بھی انھوں نے خود لکھا تھا۔ 1997 میں اُن کی فلم ٰ بچّہ ہائے آسمانٰ نے ساری دُنیا میں دھُوم مچادی۔ یہ عالمی سطح پر تمام بڑے بڑے فلمی میلوں میں دکھائی گئی اور بہترین غیرملکی فلم کے طور پر آسکر ایوارڈ کےلئے نامزد ہوئی۔ اس سے پہلے بننے والی فلم بچّہ ہائے آسمان بھی بچّوں ہی کے بارے میں تھی اور ایک انتہائی غریب گھر کا نقشہ پیش کرتی تھی جس میں دو بچّے ہیں لیکن اُن کے پہننے کےلِئے صرف ایک جوڑا جُوتیوں کا ہے۔ نئے جوتے حاصل کرنے کےلِئے بچّہ کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے، فلم اسی بھاگ دوڑ کی کہانی ہے۔ لاہور میں آمد کے موقع پر مجید مجیدی نے اپنی نئی فلم بھی دکھائی جوکہ سن 2006 میں تیار ہوئی ہے اور ابھی عام نمائش کےلئے پیش نہیں کی گئی۔ اس فلم کا نام ہے ٰ بیدِ مجنوں ٰ اور یہ بھی ایک نابینا پروفیسر کی کہانی ہے جو کہ بچپن میں بینائی سے محروم ہو گیا تھا لیکن جس نے بریل سسٹم کے ذریعے تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور اب ادھیڑ عمر میں پہنچنے کے بعد وہ ایک معزز پروفیسر بن چکا ہے۔ اسی دوران میں فرانس سے خبر ملتی ہے کہ آنکھوں کی پُتلی کا ایک ایسا آپریشن، نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوگیا ہے جس سے پروفیسر کی بینائی واپس آسکتی ہے۔ پروفیسر کو بینائی دوبارہ حاصل کرنے کا کوئی خاص شوق نہیں ہے کیونکہ وہ تین عشروں میں اسکا عادی ہوچکا ہے اور اپنی موجودہ زندگی سے مطمئن ہے۔ لیکن عزیزوں رشتہ داروں کے کہنے پر وہ فرانس چلا جاتا ہے اور اسکا آپریشن کامیاب رہتا ہے۔
جو دنیا اُس نے بچپن میں دیکھی تھی وہ بالکل بدل چکی ہے اور اپنے گردوپیش کاجو تصور اُس نے ذہن میں سجا رکھا تھا، حقیقت کا منظر اُس سے اتنا مختلف ہے کہ پروفیسر غم و اندوہ کی گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ ’ بیدِ مجنوں‘ٰ پروفیسر کے اسی ردِّ افسوں کی کہانی ہے جس میں تخیلات و تصورات کے رنگ محل چکناچور ہوتے ہیں اور حقائق کی بدنما چٹانیں ڈائنوں اور چڑیلوں کی طرح دانت نکوستی پروفیسر کی طرف بڑھتی ہیں۔ اہلِ لاہور اس فلم کے اوّلین ناظرین میں سے تھے اور انھیں یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ سامنے بیٹھے ہوئے ایرانی ڈائریکٹر سے اُس کے فن پر بات چیت کر سکیں۔ نیشنل کالج آف آرٹس کے کھچا کھچ بھرے ہوئے لیکچر ہال میں ہدایتکار مجید مجیدی سے انکی سبھی فلموں کے بارے میں سوالات کئے گئے جسکے مناسب جوابات وہ مترجم کی مدد سے دیتے رہے (مجید مجیدی فارسی کے علاوہ کوئی زبان نہیں بولتے)۔ فلموں کی عام نمائش کے بعد کالج کی پرنسپل مسز ساجدہ ونڈل نے پاکستانی فلم سازوں اور ہدایتکاروں کےلئے ایک خصوصی نشست کا اہتمام اپنے کمرے میں کیا جس میں ہدایتکار حسن عسکری، ہدایتکار شہزاد رفیق، سلمان شاہد، عثمان پیر زادہ، فریال گوہر، خالد غیاث، خالد بٹ، تنویر فاطمہ اور میڈیا کی دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
مجید مجیدی نے اس موقع پر پیشکش کی کہ وہ اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے چار ہفتے نکال کر لاہور آنے کےلئے تیار ہیں تاکہ یہاں کے نوجوان فلم سازوں اور فلم کے طالب علموں کےلئے ایک ورکشاپ کر سکیں۔ عثمان پیر زادہ نےسوال کیا کہ ایرانی فلموں میں عورتیں ہر وقت سکارف اوڑھے کیوں نظر آتی ہیں۔ مجید مجیدی نے فوراً جواب دیا کہ یہ ہمارا کلچر ہے اور ہمیں اپنی ثقافتی روایات کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ ہدایتکار شہزاد رفیق (سلاخیں) نے پوچھا کہ جس طرح فرانس نے فلم سازی کے شعبے میں ایران کی مدد کی تھی کیا اُس طرح ایران بھی پاکستان کی کوئی مدد کر سکتا ہے؟ مجید مجیدی نے جواب دیا کہ فرانس نے ایران کو کسی طرح کی کوئی مدد فراہم نہیں کی تھی اور ایران کی فلم انڈسٹری شروع سے اپنے پیروں پہ کھڑی ہے لیکن اب وہ اس پوزیشن میں ہے کہ کسی بھی ملک کو فنّی یا تکنیکی مدد فراہم کر سکتی ہے۔ اگر پاکستان چاہے تو نوجوان فلم سازوں کو تربیت کےلئے ایرن بھیج سکتا ہے یا وہاں سے فلمی ماہرین کو تربیتی مقاصد کےلئے پاکستان بُلا سکتا ہے۔ فریال گوہر کا سوال تھا کہ فلم سازوں کو ایران میں کہاں تک سیاسی آزادی حاصل ہے اور کیا ہر طبقے اور نظریئے کے آدمی کو فلم سازی کی اجازت ہے۔ مجید مجیدی نے کوئی معذرت خواہانہ انداز اختیار کئے بغیر ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ ایران ایک جدید اسلامی ملک ہے جسکا اپنا ایک کلچر ہے اور ایرانی فلمیں اِن تمام اقدار کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سیاسی آزادی کے ضمن میں مجید مجیدی نے کئی کُرد فلم سازوں کا نام لیا جوکہ ایران میں فلمیں بنا چُکے ہیں اور اب بھی بنارہے ہیں۔ سلمان شاہد کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایرانی ہدایتکار نے کہا کہ عالمی سطح پر ایرانی فلموں کی مقبولیت کا راز صرف یہ ہے کہ ایرانی سنیما اپنی زمین، اپنی تہذیب اور اپنے کلچر سے جُڑا ہوا ہےاور پاکستانی فلم سازوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے کہ مغرب کی نّقالی کبھی ہمیں ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتی۔ |
اسی بارے میں عوام پُرامن رہیں: خاتمی کی اپیل12 January, 2004 | فن فنکار ایران میں کوئین ایلبم25 August, 2004 | فن فنکار عراق پر ایرانی فلم کو ایوارڈ 25 September, 2004 | فن فنکار ایرانی وکیل کا امریکہ پر مقدمہ02 November, 2004 | فن فنکار ایرانی ہدایتکار: بھارت میں شوٹنگ19 November, 2004 | فن فنکار ایرانی فلمیں لاہور میں08 December, 2005 | فن فنکار چرنجیوی سیاست میں جائیں گے؟23 September, 2006 | فن فنکار کرن دِسائی نے بُکر پرائز جیت لیا10 October, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||