’جیکسن نےدنیا کو بےوقوف بنایا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن کے کیس سے تعلق رکھنے والے بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ جیکسن نے بچوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں دنیا کو بے وقوف بنایا ہے۔ جینیٹ آروزو نے اپنے بیان درج کرانے کے چوتھے روز کہا کہ ’جیکسن نے بچوں کی کبھی پرواہ نہیں کی اسے اگر پرواہ تھی تو اس بات کی کہ وہ بچوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے‘۔ مائیکل جیکسن پر محترمہ آروزو کے بیٹے کیون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے لیکن جیکسن تمام دس الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ کیلیفورنیا میں جاری اس مقدمے کو آٹھ ہفتے ہو گئے ہیں۔ اگر مائیکل جیکسن پر الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں 20 برس قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ محترمہ آروزو کےاس دعوے پر جیکسن کے وکیل کے ساتھ ان کی بحث ہوئی کہ انہیں اور ان کے بیٹے کو جیکسن کے نیور لینڈ کے بنگلے میں قید رکھا گیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں ان کے بچوں کے ساتھ قید کر کے رکھا گیا اور کرائے کے قاتل ان کا اور ان کے بچوں کا پیچھا کر رہے تھے۔ جیکسن کے وکیل نے ان کی اس کہانی کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ’پیشہ وارانہ مدعی‘ ہیں اور ان الزامات کے سہارے جیکسن سے رقم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ محترمہ آروزو نے عدالت سے کہا کہ انہوں نے پولیس میں شکایت کی تھی کہ مسٹر جیکسن کے پاس ہمیں غائب کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ مائیکل جیکسن نے اس وقت ان کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی جب ان کے بیٹے کو کینسر بتایا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انہوں نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولا تھا تاکہ لوگ ان کے بیٹے کے علاج میں ان کی مدد کے لئے رقم جمع کراسکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان لوگوں کو علاج کے لئے کوئی رقم خرچ نہیں کرنی پڑی کیونکہ علاج ان کے شوہر کی ہیلتھ انشورنس کے تحت کیا گیا۔ عدالت نے محترمہ آروزو کو ایک بار پھر وارننگ دی کہ وہ عدالت میں تقریر کرنے کے بجائے سولوں کا جواب دینے پر توجہ دیں۔ سانتا ماریا میں موجود نامہ نگار بی بی سی کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ ایسا لگا کے گواہ کی دلچسپی سوالوں کے جواب دینے کے بجائے جیوری کواپنی بات بتانے میں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||