BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 12:47 GMT 17:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برہنہ تصاویر نہ دکھائی جائیں‘
مائیکل جیکسن
مائیکل جیکسن کے وکیل نے کہا کہ یہ تصاویر ان کمپیوٹروں پر دانستہ طور پر ڈاؤن لوڈ نہیں کی گئی تھیں
مائیکل جیکسن پر عائد مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے استغاثہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جیوری کو مائیکل جیکسن کے کمپیوٹر میں محفوظ برہنہ تصاویر نہ دکھائے۔

عدالت کے جج روڈنی ملول کا کہنا تھا کہ یہ مواد مقدمے کے موجودہ وقت سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ کہ اس بات کا پتہ لگانا ناممکن ہے کہ یہ مواد کس شخص نے دیکھا ہے۔

اس سے قبل استغاثہ نے عدالتی کارروائی کے آغاز کے بعد جج سے برہنہ تصاویر پر مشتمل نئے ثبوتوں کو پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ ثبوت ان کے مقدمے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

مائیکل جیکسن کے وکیل نے کہا کہ یہ تصاویر ان کمپیوٹروں پر دانستہ طور پر ڈاؤن لوڈ نہیں کی گئی تھیں بلکہ معمول کی ویب براؤزنگ کے دوران کمپیوٹر پر محفوظ ہوگئی تھیں۔

گیون آرویزو نامی پندرہ سالہ بچے نے مائیکل جیکسن پر الزام لگایا تھا کہ 2003 میں مائیکل جیکسن کی رہائشگاہ نیورلینڈ میں رہائش کے دوران مائیکل نے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

مائیکل جیکسن اپنے اوپر عائد دس الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔ ان الزامات میں بچوں سے بدفعلی اور انہیں حبسِ بےجا میں رکھنے کا الزام بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد