’برہنہ تصاویر نہ دکھائی جائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن پر عائد مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے استغاثہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جیوری کو مائیکل جیکسن کے کمپیوٹر میں محفوظ برہنہ تصاویر نہ دکھائے۔ عدالت کے جج روڈنی ملول کا کہنا تھا کہ یہ مواد مقدمے کے موجودہ وقت سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ کہ اس بات کا پتہ لگانا ناممکن ہے کہ یہ مواد کس شخص نے دیکھا ہے۔ اس سے قبل استغاثہ نے عدالتی کارروائی کے آغاز کے بعد جج سے برہنہ تصاویر پر مشتمل نئے ثبوتوں کو پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ ثبوت ان کے مقدمے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ مائیکل جیکسن کے وکیل نے کہا کہ یہ تصاویر ان کمپیوٹروں پر دانستہ طور پر ڈاؤن لوڈ نہیں کی گئی تھیں بلکہ معمول کی ویب براؤزنگ کے دوران کمپیوٹر پر محفوظ ہوگئی تھیں۔ گیون آرویزو نامی پندرہ سالہ بچے نے مائیکل جیکسن پر الزام لگایا تھا کہ 2003 میں مائیکل جیکسن کی رہائشگاہ نیورلینڈ میں رہائش کے دوران مائیکل نے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ مائیکل جیکسن اپنے اوپر عائد دس الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔ ان الزامات میں بچوں سے بدفعلی اور انہیں حبسِ بےجا میں رکھنے کا الزام بھی شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||