بنگلہ دیش کی شکست کے بعد کوہلی پر ’فیک فیلڈنگ‘ کا الزام: ’بس سیدھا انڈیا کو ٹرافی ہی دے دیں‘

انڈیا بمقابلہ بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بدھ کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں بنگلہ دیش کی انڈیا کے خلاف پانچ رنز سے شکست کے بعد بنگلہ دیشی کرکٹر نور الحسن نے وراٹ کوہلی پر ’فیک فیلڈنگ‘ کا الزام عائد کیا، جس سے ممکنہ طور پر بنگلہ دیش کو اہم پینلٹی رنز مل سکتے تھے۔

مبینہ فیک فیلڈنگ کا یہ واقعہ 185 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کی اننگز کے ساتویں اوور کے دوران پیش آیا جب ارشدیپ سنگھ نے باؤنڈری سے تھرو پھینکی مگر اسی دوران سرکل کے اندر موجود کوہلی نے تھرو پھینکنے کا اشارہ کیا۔

دونوں امپائرز مریز ایراسمس اور کرس براؤن نے اسے نہیں دیکھا اور نہ ہی دونوں بلے بازوں لٹن داس اور نجمل حسین شانتو نے اسے دیکھ کر کوئی ردعمل دیا۔

اس حوالے سے ان فیئر پلے پر کرکٹ کا قانون 41.5 کہتا ہے کہ ’جان بوجھ کر بلے باز کی توجہ بٹانا، اسے دھوکہ دینا یا اس کے راستے میں رکاوٹ بننے‘ پر امپائر ڈیڈ بال کا فیصلہ کر کے بیٹنگ سائیڈ کو پانچ رنز دے سکتا ہے۔

نور الحسن نے میچ کے بعد اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹرز کو بتایا کہ ’ہم سب نے دیکھا کہ گراؤنڈ گیلا تھا۔‘

’ایک فیک تھرو پھینکی گئی۔ اس کے پانچ پینلٹی رنز مل سکتے تھے۔ یہ بات ہمارے حق میں جا سکتی تھی۔ تاہم بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس واقعے کے ری پلے میں کوہلی کے برتاؤ کو جانے انجانے میں دھوکہ دہی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ارشدیپ کا تھرو اسی وقت پر کوہلی کے دائیں ہاتھ کے پاس سے گزرا تھا جب انھوں نے فیک تھرو پھینکنے کا اشارہ کیا۔

خیال رہے کہ اس حوالے سے امپائر موقع پر فیصلہ کرتا ہے کہ آیا بلے باز کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی نہ کہ اس بارے میں کہ کیا واقعی بلے باز نے دھوکہ کھایا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان اس میچ کے دوران ان تین واقعات میں سے ایک ہے جن میں امپائر کے فیصلے زیرِ بحث آئے ہیں۔

پہلا واقعہ انڈیا کی بیٹنگ کے دوران 16ویں اوور میں ہوا جب کوہلی نے یہ مانتے ہوئے کہ حسن محمود نے اپنے اوور میں دوسرا باؤنسر پھینکا ہے، سکوائر لیگ امپائر سے نو بال دینے کی اپیل کی جس پر امپائر ایرازمس نے کوہلی کی اپیل کو درست سمجھ کر نو بال دی۔

اس پر کوہلی اور کپتان شکیب الحسن کے درمیان بحث ہوئی اور آخر میں دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور اپنے اپنے راستے پر چلے گئے۔

بارش سے میچ رکنے کے بعد دوسرا واقعہ ہوا جس میں امپائرز نے وقفے کے بعد کھیل کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں ڈگ آؤٹ کے قریب شکیب سے رابطہ کیا۔ اس وقت بنگلہ دیش بغیر کسی نقصان کے 66 رنز بنا کر ڈی ایل ایس پر 17 رنز سے آگے تھا۔

میچ آفیشلز سے بات کرنے سے پہلے شکیب نے گیلے آؤٹ فیلڈ کا جائزہ لیا۔ روہت شرما بھی اس بحث میں شامل ہوئے لیکن شکیب کے متحرک اشاروں سے پتا چل رہا تھا کہ وہ حالات سے مطمئن نہیں۔ تاہم میچ کے بعد پریس کانفرنس میں شکیب نے اس حوالے سے زیادہ بات نہیں کی۔

انڈیا بمقابلہ بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہTwitter

یہ بھی پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

ایک صارف نے اس پر تبصرہ کیا کہ اس طرح کی چیزیں تو کرکٹ میں بہت دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بس یہ بلے بازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ دیکھے بغیر کریز تک پہنچیں کہ بال کس کے ہاتھ میں ہے۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کے لیے ایک انڈین کرکٹ کے مداح نے اس خاص لمحے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ رن آوٹ کی اصل تصویر ہے۔ اس میں کوہلی صرف کھڑے نظر آتے ہیں اور کیپر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الزام تراشی کے بجائے اپنی شکست تسلیم کر لیں۔

ایک صارف نے امپائرنگ کے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیدھا ٹرافی انڈیا کو ہی دے دیں، بارش کے وقفے کے بعد بنگلہ دیش کو گیلی وکٹ پر کھیلنے کی دعوت دی گئی، کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا تھا کہ بلے باز سکور نہیں کر پا رہے ہیں۔

کرکٹ کے اعدادوشمار پر گہری نظر رکھنے والوں کے خیال میں کوہلی جن کی ہر بات مان لی جاتی ہے اگر ان کے اس ایکشن پر ردعمل دیا جاتا تو بنگلہ دیش کو پانچ اضافی رنز مل سکتے تھے اور بنگلہ دیش اس میچ میں ہارا بھی پانچ رنز سے ہی ہے۔

کرکٹ میں ایسے تنازعات تو سر اٹھاتے رہتے ہیں مگر یہ پہلو بھی اہم ہے کہ یہ رنز میچ کے دوران کی بات تھی یعنی آخری اوور یا آخری بال سے اس تنازع کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وگرنہ بنگلہ دیش کا درد پاکستان سے زیادہ نہیں تو شاید برابر ضرور ہو جاتا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4