پاکستان کا لٹن داس کون ہو گا؟ سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کے ایل راہول نے بنگلہ دیش کا اس قدر نقصان شاید اپنی بیٹنگ سے نہیں کیا جتنا ان کی اس ایک تھرو نے کر دیا۔ اس ایک تھرو نے بنگلہ دیش کو میچ سے باہر کر دیا اور انڈیا کی سیمی فائنل تک رسائی کو مزید ممکن کر دیا۔
شانتو کریز سے باہر نکلنا چاہ رہے تھے، ایشون نے لینتھ بدلی اور شانتو کو مجبوراً اپنا شاٹ بدلنا پڑا۔ مڈ وکٹ پہ کھڑے کے ایل راہول پوری طرح اس لمحے میں مرتکز تھے اور جونہی گیند ان کے پاس آئی، ایک میکانکی عمل کے تحت نہایت درستی سے ان کا تھرو سٹمپس سے جا ٹکرایا اور لٹن داس کی سر توڑ ڈائیو بھی کم پڑ گئی۔
جب بارش نے کھیل کو معطل کیا، بنگلہ دیشی ڈریسنگ روم یک گونہ اطمینان کی تصویر بنا ہوا تھا جبکہ دوسری جانب راہول ڈریوڈ کے ڈریسنگ روم میں خاصے مضمحل چہرے نظر آتے تھے۔ اگر بارش بروقت نہ تھمتی اور مزید کھیل ممکن نہ ہو پاتا تو بنگلہ دیش فاتح ٹھہرتا۔
لٹن داس اگرچہ عموماً شہ سرخیاں بنانے والے بلے باز نہیں ہیں مگر بڑے مواقع پہ تگڑے حریفوں کے خلاف گویا خود ہی سے کوئی شرط سی باندھ لیتے ہیں اور پھر بسا اوقات ایسی کرکٹ کھیلتے ہیں کہ حریف کیمپ کی ساری دانشوری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اگر بارش ان کی اننگز کے بہاؤ میں خلل نہ ڈالتی تو مقررہ وقت سے کہیں پہلے ہی وہ میچ ختم کر جاتے۔
مگر بارش نے صرف ان کا ارتکاز ہی متاثر نہیں کیا بلکہ کنڈیشنز میں بھی ذرا سا بدلاؤ آ گیا۔ فاسٹ بولرز کو پچ سے وہ اضافی مدد ملنے لگی جو بارش سے پہلے ویسی میسر نہ تھی۔ اور پھر اننگز کا دورانیہ مختصر کرنے سے ڈیتھ اوورز کا خسارہ بھی ہو گیا جو روٹین کے میچ میں بلے بازوں کو سولہ اوور پرانی گیند سے کھیلنا پڑتے ہیں مگر یہاں مقابلہ بارہ اوور پرانی گیند کو دھڑلے سے باؤنڈری پار پھینکنے کا تھا۔
روہت شرما اور ان کے ساتھی اوپنر کے ایل راہول اس ٹورنامنٹ میں ابھی تک اپنے ٹیلنٹ سے انصاف نہیں کر پائے تھے مگر یہاں راہول اپنے زون میں واپس آتے نظر آئے۔ ان کی اننگز میں روانی تھی اور ایڈیلیڈ کی وکٹ نے بھی ان کی گیم کی تائید کی۔ آسٹریلیا کی تمام پچز میں سے ایڈیلیڈ اور سڈنی ہی دو ایسی پچز ہیں جہاں ایشین بلے بازوں کو کچھ سانس لینے کا موقع ملتا ہے۔
سمیع چوہدری کے دیگر کالم
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگر یہ کہا جائے کہ انڈیا کی ورلڈ کپ کیمپین کے روحِ رواں ورات کوہلی ہیں جو چھ ماہ پہلے کسی پلان کا بھی حصہ نہیں تھے مگر ایشیا کپ میں جس طرح سے انھوں نے واپسی کی، اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اوپر تلے کئی بڑی اننگز کھیلتے چلے آ رہے ہیں۔
جبکہ ان کے موازنے میں لائے جانے والے بابر اعظم اپنے چار سالہ پرائم کے پست ترین مقام پہ کھڑے ہیں اور ان جیسے مصدقہ بلے باز کی فارم بگڑنا کوئی ناقابلِ یقین سا امر محسوس ہوتا ہے۔ ان کی اس فارم نے پاکستان کی مہم جوئی کو شدید زک پہنچائی ہے۔
مگر کل سڈنی میں انھیں میلبرن اور پرتھ جیسے باؤنس کا کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ سڈنی کی پچ عموماً سپنرز کو مدد فراہم کرتی رہی ہے اور ایشیائی بلے بازوں کی تکنیک کے لیے سہل ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان یہ امید رکھے گا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کل اپنی رینکنگ سے انصاف کریں گے اور جنوبی افریقہ کے اندازوں کو مات کریں گے۔
نورکیا کی پیس، ربادا کی جادوگری اور لنگی نگدی کی ورائٹی ہر طرح کی کنڈیشنز میں ہر طرح کی بیٹنگ لائن کے لیے چیلنج ہو سکتی ہیں مگر پاکستان کی خوش بختی ہے کہ اسے افریقی پیس اٹیک کا سامنا کرنے کے لیے پرتھ، میلبرن یا برسبین جیسے باؤنس کی اضافی مصیبت درپیش نہیں ہو گی۔
گذشتہ چند میچز میں فاتح ٹیموں پہ نظر دوڑائی جائے تو ہر جیت میں ایک زبردست انفرادی کاوش نظر آتی ہے۔ کل بٹلر نے جو کاوش کی، آج اسی کا عکس لٹن داس کی اننگز میں جھلک رہا تھا۔ ان کنڈیشنز میں حریف کو مات کرنے کے لیے ہر ٹیم کو ایک لٹن داس کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یہ سوچنا ہو گا کہ اس کا لٹن داس کون ہے؟











