’کوہلی نے پاکستان کو مایوس کر دیا‘: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
نہ تو حد سے چڑھی خود اعتمادی کسی کو مددگار ہو سکتی ہے اور نہ ہی حد سے بڑھی خود احتیاطی گہرے پانیوں میں کوئی سہارا فراہم کر سکتی ہے۔ انڈیا اپنی بے جا خود اعتمادی کے ہاتھوں زیر ہوا جبکہ پاکستان نے اپنی بے پناہ احتیاط سے ایک آسان سا ہدف بھی کافی جوکھم اٹھا کر عبور کیا۔
ورلڈ کپ کے اس سپر ویکنڈ پہ تین ایشیائی ٹیمیں تین غیر ایشیائی ٹیموں کے مدِ مقابل تھیں اور ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ایشیائی ٹیموں میں سب سے عمدہ کھیل بنگلہ دیش نے پیش کیا۔ زمبابوے جس خود اعتمادی سے میچ کو کھینچے چلا جا رہا تھا، بنگلہ دیشی بولنگ نے عین آخری لمحے پہ اسے مبہوت کر چھوڑا۔
پاکستان کے لیے نیدرلینڈز سے مقابلہ محض ٹورنامنٹ میں بقا کے سوال پر ہی موقوف نہیں تھا اور رہی سہی لاج داؤ پہ لگ جانے کا ڈر ایسا تھا کہ رن ریٹ میں بہتری کے خیالات کو قریب تک پھٹکنے نہیں دیا۔ حالانکہ گمان یہ کیا جا رہا تھا کہ جیسی جارحیت پاکستانی بولرز نے دکھائی تھی، بلے باز بھی اسی کی کچھ جھلک دکھائیں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد۔
کہاں رن ریٹ میں بہتری کی سوچ اور کہاں ایک حقیر ترین ہدف کے تعاقب میں آخری تیس رنز ہی ایک معمہ سا بن گئے۔ بہرطور یہ جیت بھی اس ٹیم کے لیے یادگار رہے گی کہ پاکستان نے پہلی بار آسٹریلوی سرزمین پہ کوئی ٹی ٹونٹی میچ جیتا۔
محمد رضوان نے فارم میں واپسی کا عندیہ دیا ہے اور فخر زمان کی شمولیت سے بھی پاکستان کسی حد تک بابر اعظم کی فارم کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ ٹورنامنٹ میں آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کے مڈل آرڈر میں زیادہ استحکام کی توقع باندھی جا سکتی ہے کیونکہ تجربے کا بہرحال کوئی بدل نہیں اور اب وہ تجربہ اس مڈل آرڈر کو میسر ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر پاکستانی کیمپ میں یہ احساس پختہ ہے کہ بہتری کے یہ درست آید آثار ایونٹ کی رفتار کے لحاظ سے خاصے دیر آید ہیں۔ پاکستان کی سبھی امیدیں انڈیا کی جنوبی افریقہ پہ فتح سے جڑی تھیں مگر وراٹ کوہلی کی جلد بازی نے امکانات کا نقشہ ہی بدل دیا۔
جب سے وراٹ کوہلی نے اپنی روٹھی ہوئی فارم بحال کی ہے، ان کے گیم پلان میں ایک واضح تبدیلی دکھائی دی ہے۔ جیسے عمر ڈھلتے پیسرز اپنی رفتار کم ہونے کے بعد ورائٹی اور تجربے کی آمیزش سے کام چلانے کی کوئی سبیل نکال لیتے ہیں، ویسے ہی وراٹ نے بھی اپنی اننگز کا ٹیمپو بدل لیا ہے۔
اب وراٹ کوہلی آتے ہی مار دھاڑ کی کوشش نہیں کرتے بلکہ شروع میں کچھ وقت لیتے ہیں اور پچ کی پیس، باؤنس سے شناسائی حاصل ہونے کے بعد اپنی اصل گیم پہ آتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف ان کی اننگز اس پلان کا خوبصورت ترین نمونہ تھی جہاں انھوں نے ایک دفن ہوئے میچ کو پھر سے زندہ کر ڈالا اور پاکستان کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جس طرح کی فارم کوہلی نے پہلے دو میچز میں دکھائی تھی، اگر یہاں بھی اس کی کچھ جھلک دکھلا جاتے تو شاید بابر اعظم کی امیدوں کو کچھ تقویت مل جاتی۔ مگر جو کام انھوں نے پاکستانی بولنگ کے خلاف میلبرن کی پچ پہ پندرہویں اوور کے بعد کیا تھا، یہاں انہوں نے وہی کام پاور پلے کے فوری بعد کرنے کا سوچا۔
اس شاٹ کے لئے کوہلی کی تکنیک بالکل بجا تھی اور ان کے بلے نے بھی بھرپور ساتھ دیا مگر تب تک کوہلی پچ اور گراؤنڈ کے احوال سے پوری طرح آشنا نہیں ہوئے تھے اور اپنے تئیں ایک متوقع چھکا ان کی اننگز کی ناگہانی میں بدل گیا۔
سوریا کمار یادیو نے ایک بار پھر مشکل ترین سٹیج پہ ثابت کیا کہ ان کی تکنیک سدا بہار ہے مگر دوسرے کنارے سے انھیں اپنی کاوش کا عشرِ عشیر بھی میسر نہ ہو پایا۔ انڈین فاسٹ بولنگ بہرحال لائق تحسین ہے کہ ڈیوڈ ملر کی ایسی فارم کے باوجود میچ آخری اوور تک جمائے رکھا۔
لیکن انڈین مڈل آرڈر پرتھ کے چیلنج سے نبٹنے کے لئے جو حد سے چڑھی خود اعتمادی لے کر آیا تھا اور آگ کا مقابلہ آگ سے کرنے کی کوشش کی، وہ کامیابی کی راہ نہ دیکھ سکی۔ انڈیا کو ابھی بھی مزید دو میچز میسر ہیں جہاں وہ سیمی فائنل تک رسائی کا مقدمہ لڑ سکتا ہے مگر پاکستان کے لئے کوئی انہونی ہی یہاں امید جگا سکتی ہے۔
پچھلے اتوار میلبرن میں پاکستانی شائقین کی دعائیں کوہلی کے ہمراہ نہیں تھیں مگر انھوں نے اپنی یادگار اننگز سے پاکستان کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا۔ اگرچہ پرتھ میں انڈین شائقین سے کہیں زیادہ دعائیں پاکستان کی طرف سے کوہلی کے ہمراہ تھیں مگر ان کی جلد بازی نے ایک بار پھر پاکستان کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا۔۔۔ کوہلی نے پاکستان کو مایوس کر دیا۔








