ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ڈائری: پاکستان انڈیا میچ کے بعد ’کہیں خوشی تو کہیں غم‘

پاکستانی شائقین
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، میلبرن

میلبرن میں پیر کو دن کا آغاز ہوا تو کرکٹ شائقین کے لیے کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا کیونکہ جو کچھ تھا وہ اتوار کو ہو چکا تھا۔

اتوار کے روز صبح سے میلبرن میں نیلی اور سبز شرٹس کا سمندر پورے شہر میں نظر آ رہا تھا جس کی منزل میلبرن کرکٹ گراؤنڈ تھی۔

انڈیا اور پاکستان کی ٹیموں کا میچ کسی بھی ایونٹ میں آ جائے تو شائقین کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے۔

میچ شروع ہونے سے قبل دونوں ملکوں کے شائقین کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے اور جو بھی میڈیا ان کی طرف مائیک بڑھاتا جوشیلے نعرے اور الفاظ، جذبات کی عکاسی کرتے۔

کوئی بھی ہارنے کی بات نہیں کر رہا تھا، ہر کوئی یہی کہتا سنائی دیا کہ ’ہماری ٹیم جیتے گی، آج ہمارا دن ہے‘ لیکن جیت ایک کی ہی ہوتی ہے اور ایک کو ہارنا ہی ہوتا ہے۔

اس میچ میں پاکستان ہار گیا جبکہ انڈیا جیت گیا اور یہ نتیجہ شائقین کے موڈ پر بھی اثر انداز ہو چکا تھا۔

میچ کے بعد میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کے باہر پاکستانی شائقین مایوسی میں واپس جا رہے تھے اور ان کے چہرے اترے ہوئے تھے لیکن انڈین شائقین کی ٹولیاں گراؤنڈ کے باہر اب بھی موجود تھیں۔

کچھ میڈیا والوں سے بات کر کے اپنی اس خوشی کو مزید دوبالا کر رہے تھے کہ ’دیکھا ہم کہہ رہے تھے نہ کہ ہم جیتیں گے۔‘

انڈین شائقین

اس میچ کے نتیجے سے قطع نظر یہ بات بہت اہم ہے کہ میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں نوے ہزار سے زیادہ لوگ میچ دیکھنے کے لیے موجود تھے اور غالباً یہ آسٹریلیا کے قانون کا اثر ہے اور تہذیب یافتہ معاشرے کی خوبصورتی بھی کہ اس میچ کے بعد کسی نے غصے میں آ کر کسی کا گریبان پکڑا نہ شائستگی کا دامن چھوڑا، نہ کسی سٹینڈ میں توڑ پھوڑ ہوئی اور نہ ہی کرسیاں اکھاڑ کر مخالفوں کی طرف پھینکی گئیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم میلبرن سے اپنی اگلی منزل پرتھ کی طرف روانہ ہو گئی ہے لیکن اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئی ہے، جن کا تعلق انڈیا کے خلاف میچ سے ہے۔

میچ کے بعد جب بابر اعظم سے محمد نواز کو آخری اوور دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ درمیانی اوورز میں وکٹیں لینے کی غرض سے اپنے تیز بولرز کو بولنگ کے لیے لے کر آئے تھے لیکن انھیں وکٹیں نہ مل سکیں۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ میچ بہت کلوز گیا، یقیناً لوگوں نے کافی انجوائے کیا ہو گا۔

یہ میچ آخری گیند تک رہا تو خاصا دلچسپ لیکن نتیجہ پاکستانی شائقین کے لیے کافی تکلیف دہ رہا۔

ایک بڑا میچ اور وہ بھی پہلا میچ ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم پر دباؤ بڑھ گیا ہے تاہم اس کے اگلے دو میچ نسبتاً کم تجربہ کار ٹیموں زمبابوے اور ہالینڈ کے خلاف ہیں جس کے بعد اسے ایک اور مضبوط حریف جنوبی افریقہ کا سامنا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ گروپ 2 تین بڑی ٹیموں انڈیا، پاکستان اور جنوبی افریقہ میں سے ایک ٹیم کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کرے گا لہذا اگر پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچنا چاہتی ہے تواس کے پاس اب مزید کسی شکست کی گنجائش نہیں۔

پاکستان کے نقطہ نظر سے خوش آئند بات افتخار احمد کی عمدہ بیٹنگ تھی لیکن پاکستانی شائقین یہ سوال کر رہے ہیں کہ آصف علی کا بیٹ کب چلے گا؟

گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف میچ میں چار چھکوں والی اننگز اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اننگز کے علاوہ ابتک وہ کوئی بھی قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔

انڈیا اور پاکستان کے میچ کے بعد انڈین بولر ارشدیپ سنگھ کے چرچے ہیں، جنھوں نے محمد رضوان، بابر اعظم اور آصف علی کی وکٹیں حاصل کیں۔

یہ وہی ارشدیپ سنگھ ہیں جو ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف آصف علی کا کیچ ڈراپ کرنے پر زبردست تنقید کی زد میں آئے تھے۔

ارشدیپ، بابر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے سابق سپنر انیل کمبلے کا کہنا ہے کہ ارشدیپ سنگھ اب ایک پختہ بولر کا روپ دھار چکے ہیں جو پریشر کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔

انڈین کپتان روہت شرما بہت خوش ہیں کہ ان کی ٹیم کو اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اچھا آغاز مل گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب کسی بھی ٹیم کو ایک بڑے میچ میں جیت مل جائے تو اس کا بقیہ سفر آسان اور پر اعتماد ہو جاتا ہے۔

روہت شرما اس سلسلے میں پاکستانی ٹیم کی ہی مثال دیتے ہیں جس نے گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈین ٹیم کو شکست دی تھی اور اس کے بعد وہ سیمی فائنل تک پہنچی تھی۔

ایسا نہیں کہ انڈین ٹیم پاکستان کے خلاف میچ جیتی ہے تو سب اچھا ہے۔ انڈین ٹیم دو طرفہ سیریز میں کامیابیاں تو حاصل کر لیتی ہے لیکن عرصہ ہو گیا وہ آئی سی سی کا کوئی ایونٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ انڈیا نے آخری بار آئی سی سی کا کوئی ایونٹ سنہ 2013 میں چیمپیئنز ٹرافی کی شکل میں جیتا تھا اور انڈین فینز اب اس انتظار میں ہیں کہ کیا یہ جمود اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹوٹ پائے گا؟