قسمت دلیروں کی یاور سو پاکستان کو دلیری دکھانی ہو گی، سمیع چوہدری کا کالم

پاکستان، کرکٹ

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار

کچھ سال پہلے سابق آسٹریلوی کپتان ایئن چیپل نے اپنے ایک مضمون میں کرکٹ کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے درپیش چیلنجز کا ذکر کیا تھا کہ کیسے گلوبل وارمنگ اور بے موسمی بارشیں اس کھیل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

آسٹریلوی سرزمین پر کھیلا جانے والا یہ پہلا ورلڈ کپ چیپل کے ان خدشات کی بھرپور توثیق کر رہا ہے۔

ابھی ورلڈ کپ کا سپر 12 مرحلہ شروع ہوئے ہفتہ بھر نہیں ہوا کہ کچھ اہم میچ بارش کی نذر ہوئے اور ٹیموں کی سٹینڈنگ کو بری طرح مجروح کر گئے۔ جنوبی افریقہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی موسم کی ستم ظریفی کا شکار ہوا اور زمبابوے کے خلاف اپنے یقینی دو پوائنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

1992 کے ورلڈ کپ میں پاکستان بھی انگلینڈ کے خلاف ایسی ہی خوش بختی سے دوچار ہوا تھا اور ایک یقینی ناک آؤٹ شکست کی تلوار اس کے سر سے ٹل گئی جو بعد ازاں اس کے ٹائٹل جیتنے کی راہ بھی ہموار کر گئی۔

یہاں بھی کہانی کچھ ایسی ہی ہے کہ اگر پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا میچ جیت لیتا ہے تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات جنوبی افریقہ سے زیادہ روشن ہو جائیں گے اور سالہا سال سے آئی سی سی ٹرافی کا تعاقب کرتی جنوبی افریقی ٹیم کے لیے یہ بڑی بدقسمتی ہو گی۔

جنوبی افریقہ سے پاکستان کا مقابلہ اگرچہ ابھی خاصا دور ہے، سرِ دست پاکستان کو یہ چیلنج درپیش ہو گا کہ وہ زمبابوے کی ابھرتی ہوئی قوت کا کیسے مقابلہ کرے۔ کئی برسوں کے بعد زمبابوے ایک عالمی ایونٹ میں اچھی مسابقتی ٹیم کے ساتھ اترا ہے اور سکندر رضا اس کامیابی کے سرخیل ہیں۔

چیلنج تو پاکستان کے لیے زمبابوے بھی ہو سکتا ہے مگر اس سے کہیں بڑا چیلنج پرتھ کی وکٹ ہو گی جو آسٹریلیا کی مشکل ترین اور شدید باؤنسی وکٹ ہے اور پاکستان کے جیسے فرنٹ فُٹ پر تکیہ کرنے والے بلے بازوں کے لیے بڑا امتحان ہو گی۔

یہاں بلے بازوں کے پاس ری ایکشن ٹائم کم ہوتا ہے اور سیدھا کھیلنے والے بلے باز عموماً دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ زیادہ تر رنز وکٹ کے اطراف، پوائنٹ، تھرڈ مین اور فائن لیگ کی پاکٹس میں ملتے ہیں جس کے لیے افقی بلے سے بیٹنگ کرنے والے بلے باز سازگار ہوتے ہیں۔

پاکستان کو بہرحال شان مسعود، افتخار احمد اور محمد نواز کی شکل میں ایسے کھلاڑی دستیاب ہیں جو بیک فٹ پر اچھا کھیل جما سکتے ہیں اور یہی کھلاڑی پاکستان کے لیے فیصلہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایڈم گلکرسٹ نے کہا تھا کہ دانا لوگ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں جبکہ احمق خود اپنی غلطیوں سے سیکھا کرتے ہیں۔ پاکستان نے میلبرن میں تین پیسرز کے ساتھ کھیل کر جو حماقت کی تھی، اس کے بعد یقیناً تھنک ٹینک نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر لی ہو گی۔

پاکستان، کرکٹ

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ بھی پڑھیے

تاہم پاکستان کے لیے زیادہ بڑا معمہ شاہین شاہ آفریدی کی فٹنس کے گرد اٹھتے شکوک و شبہات ہیں۔ انڈیا بھی اس وقت اپنے ٹرمپ کارڈ جسپریت بمراہ کی خدمات سے محروم ہے اور مینیجمنٹ کو ان کی ورلڈ کپ سکواڈ میں شمولیت کے حوالے سے شائقین کا خاصا دباؤ بھی جھیلنا پڑا مگر راہول ڈریوڈ نے برملا کہہ دیا کہ اگر وہ ورلڈ کپ کے لیے بمراہ پر داؤ کھیلتے تو ان کا کریئر ہی خطرے میں پڑ سکتا تھا۔

اس کے برعکس رمیز راجہ نے ورلڈ کپ سے دو ہفتے پہلے ہی یہ ہیڈلائنز دیں کہ شاہین شاہ مکمل فٹ ہیں اور ٹیم کا حصہ بننے کو بے تاب ہیں۔ چہ میگوئیاں تو بہت ہو رہی ہیں مگر ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ انڈیا کے خلاف میچ میں شاہین کے ردھم اور پیس میں کمی کا تعلق فٹنس سے نہیں تھا لیکن اگر اس بارے ذرا سا شائبہ بھی ہے تو پی سی بی کو محض ایک ٹرافی کی خاطر ان کا کرئیر داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔

جہاں پاکستان زمبابوے کا سامنا کرے گا وہیں انڈیا کا مقابلہ نیدرلینڈز سے ہو جہاں بظاہر روہت شرما کی ٹیم ہی فیورٹ ہے مگر جس طرح سے آئرلینڈ نے انگلینڈ کو صدمے سے دوچار کیا ہے، یقیناً باقی کوالیفائر ٹیمیں بھی اسی رجحان کا تعاقب کرنے کی کوشش کریں گی سو انڈیا اور پاکستان دونوں کو محتاط کرکٹ کھیلنی ہو گی۔

پاکستانی فاسٹ بولر

،تصویر کا ذریعہPCB

آسٹریلین کنڈیشنز کے علاوہ اضافی بوجھ یہاں موسم کا بھی ہے جو مختصر کیے گئے میچوں میں بہت بری طرح سے نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انگلینڈ اس ایونٹ کی فیورٹ ٹیموں میں سے ایک ہے مگر بارش نے یہاں جس طرح سے ان کی امیدوں پر پانی پھیرا ہے، بٹلر بھی ٹیمبا بووما کی طرح قسمت سے نالاں ہوں گے جن کی ساری امیدیں اب آسٹریلیا کے خلاف فتح سے جڑی ہیں۔

آسٹریلوی وکٹوں پر بھلے مقامی بلے باز ہی کیوں نہ ہوں، نئی گیند کے سامنے کھل کر نہیں کھیل پاتے اور جب بارش جیسے عوامل کی وجہ سے اننگز کی مروجہ شکل بگڑ جاتی ہے تو وہاں بلے باز امتحان میں پڑ جاتے ہیں کہ نئے گیند کے سامنے برق رفتاری کیونکر دکھائی جائے اور چھوٹے چھوٹے منظر نامے کیسے تسخیر کیے جائیں۔

یہ غالباً پہلا ٹی 20 ورلڈ کپ ہو گا جہاں نتائج کا دارومدار صلاحیت سے زیادہ قسمت پر ہو سکتا ہے۔ قسمت ہمیشہ دلیروں کی یاوری کرتی ہے اور پاکستان کو یہاں اپنی ٹیم سلیکشن ہی نہیں، اپنی گیم پلاننگ میں بھی ایک محتاط سی دلیری دکھانے کی ضرورت ہو گی تا کہ وہ وقت سے پیچھے نہ رہ جائیں۔