شاداب خان: پرفارمنس ایسی ہو کہ رات کو آرام سے نیند آئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، میلبرن
پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ راتوں کی نیندیں ُاڑا دیتا ہے۔ میچ سے قبل سخت دباؤ کی وجہ سے، ہارنے کی صورت میں دکھ اور افسوس کے سبب اور اگر جیت گئے تو خوشی کے مارے نیند غائب ہوجاتی ہے۔
پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں اتوار کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں مدمقابل ہونے والی ہیں لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان کی سوچ بہت سادہ سی ہے ۔
وہ کہتے ہیںʹیقیناً پاکستان اور بھارت کامیچ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے ہوتا ہے۔جیت ہار کھیل کا حصہ ہے۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میری سوچ یہی ہے کہ آپ اپنی سو فیصد کارکردگی دکھائیں اور یہ کارکردگی ایسی ہونی چاہیے کہ جب آپ میچ کے بعد واپس جائیں تو آپ کو نیند آنی چاہیے کیونکہ آپ کو پتہ ہو کہ میرے اندر جو صلاحیت تھی میں نے اسےمطابق پرفارمنس دی ہے ʹ۔
نمبر چار کھیلنے سے ٹیم کو فائدہ
شاداب خان اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ان کے اور محمد نواز کے نمبر چار پر بیٹنگ کرنے سے پاکستانی ٹیم کو بہت فائدہ ہوا ہے۔
وہ کہتے ہیں ʹمیں اور نواز آل راؤنڈر کی حیثیت سے کھیلتے ہیں اور کئی بار ایسا ہوا کہ ہماری بیٹنگ نہیں آئی ہے لیکن اب ٹیم نچلی نمبر والی وکٹوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ نمبر چار ایک اہم پوزیشن ہے کہ اگر پاور پلے میں مومینٹم ملا ہوتا ہے تو اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا اور اگر نہیں ملا تو دوسری بیٹنگ کے دوران ہمیں یہ پتہ ہوتا ہے کہ ہمیں کیا رن ریٹ چاہیے لہذا ہم اسی کے مطابق کوشش کرتے ہیں ۔ہم دونوں چونکہ آل راؤنڈرز ہیں لہذا ہمیں بیٹنگ میں بھی اسی طرح پرفارم کرنا چاہیے جس طرح ہم بولنگ میں کرتے ہیں۔
شاداب خان اور نواز کو جب سے اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کا موقع ملا ہے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں بھی فرق آیا ہے۔ شاداب خان نے اس سال ایشیا کپ میں افغانستان کےخلاف پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 26گیندوں پر 36 رنز بنائے تھے جس میں ایک چوکا اور تین چھکے شامل تھے۔
انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے34 رنز صرف 22 گیندوں پر بنائے جس میں دو چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔
محمد نواز کی کارکردگی زیادہ نمایاں رہی ہے ۔ ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف انہوں نےچوتھے نمبر پر آکر صرف 20گیندوں پر 42 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر پاکستان کی پانچ وکٹوں کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا اس میچ میں انہوں نے ایک وکٹ حاصل کرنے کے علاوہ تین کیچز بھی لیےتھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد نواز نے کچھ اسی طرح کی میچ وننگ پرفارمنس بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے خلاف سہ فریقی سیریز میں بھی دی تھی ۔بنگلہ دیش کے خلاف انہوں نے ایک چھکے اور پانچ چوکے لگاتے ہوئے محض 20 گیندوں پر 45 رنز بناکر پاکستان کو میچ جتوایا تھا جبکہ فائنل میں وہ 22گیندوں پر تین چھکے اور دو چوکے لگاتے ہوئے 38 رنز ناٹ آؤٹ بناکر مین آف دی میچ رہے تھے۔
کیا یہ مسئلے کا مستقل حل ہے؟
محمد نواز اور شاداب خان کو اوپر کے نمبر پر کھلانے پر یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ یہ مڈل آرڈر کے مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے جیسا کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد حفیظ نے بھی اس سلسلے میں ٹوئٹ کی تھی۔
شاداب خان کہتے ہیں ʹ ابھی چونکہ ورلڈ کپ ہے لہذا اسی کو دیکھا جائے۔ مسئلے کا کوئی بھی مستقل حل نہیں ہوتا ۔ کہیں نہ کہیں غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ چونکہ میں نے اور نواز نے پاکستان سپر لیگ میں بھی پرفارمنس دے رکھی ہے اسی لیے پاکستانی ٹیم منیجمنٹ نے بھی ہم پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ خود ہمیں بھی اپنے آپ پر بھروسہ ہے ʹ
چیمپئن بننے کا اسائنمنٹ باقی ہے
شاداب خان بہت صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹ پاکستانی ٹیم اچھا کھیل رہی ہے لیکن ہم ابھی چیمپئن ٹیم نہیں بنے ہیں اور یہی ایک اسائنمنٹ باقی ہے۔ہم نے گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل اور ایشیا کپ کا فائنل کھیلا لیکن پریشر والی صورتحال میں جو چھوٹی غلطیاں ہو رہی ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ وہ غلطیاں نہ ہوں۔ بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا پہلا میچ بھی پریشرگیم ہے لہذا کوشش کرینگے کہ اسے جیتیں تاکہ مورال بلند ہو ʹ ۔











