ٹریزا مے کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہPA
گذشتہ ماہ یورپی یونین سے اخراج کے سوال پر ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مستعفیٰ ہونے کے بعد حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی قیادت ٹریزا مے نے سنبھال لی ہے۔
ٹریزا مے برطانیہ کی تاریخ کی سب سے زیادہ عرصے تک وزیر داخلہ رہنے والی شخصیات میں سے ایک ہیں اور ایک عرصے سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کنزرویٹِو پارٹی کی سربراہ بن سکتی ہیں۔
اس موقعے پر یہ سوال بے جا نہ ہوگا کہ ٹریزا مے ہیں کون؟
ٹریزا مے یکم اکتوبر سنہ 1956 کو پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم سرکاری سکول ’ویٹلے پارک کمپری ہینسِو‘ سے حاصل کی اور کچھ عرصہ آکسفرڈ کے ایک پرائیویٹ سکول میں بھی گذارا۔
نادر جوتوں کے شوق کے لیے مشہور ٹریزا مے ہمیشہ سے کنزرویٹِو پارٹی کی ’تجدیدِ نو‘ کی وکالت کرتی رہی ہیں اور ان کا شمار برطانوی سیاست کی مضبوط اور زیرک ترین شخصیات میں کیا جاتا ہے۔
ان کے سیاسی قد میں سنہ 2013 میں اس وقت اچانک اضافہ ہو گیا تھا جب وہ انتہا پسند مسلمان امام ابو قتادہ کو ملک بدر کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان سے پہلے کئی وزرائے داخلہ یہ کام کرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPA
لیکن ان کا سیاسی سفر مشکلات کا شکار بھی رہا ہے۔
مثلاً وہ اپنی وزارت کے دوران حکومت کا یہ وعدہ پورا نہیں کر سکیں کہ وہ برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ افراد سالانہ کی حد سے زیادہ نہیں ہونے دی گی۔ اس حوالے سے انھیں مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سنہ 1997 میں پہلی مرتبہ میڈن ہیڈ کے حلقے سے رکنِ پارلیمان بننے والی ٹریزا مے سنہ 2002 میں کنزرویٹِو پارٹی کی پہلی خاتون چیئرمین بنیں۔
اسی سال انھوں نے اپنی جماعت کے کئی ارکان کو اس وقت پریشان کر دیا تھا جب انھوں نے سالانہ کانفرنس میں کہہ دیا کہ لوگ انھیں ایک ’گھناؤنی جماعت‘ کے ارکان کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اس بیان پر کئی ارکان نے انھیں ابھی تک معاف نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA
سنہ 2010 میں وزیر داخلہ بنائی جانے والی اور برطانیہ کی تاریخ کی سب سے سینیئر خاتون سیاستدان ٹریزا مے ہمیشہ سے پارلیمان میں زیادہ سے زیادہ خواتین کی شمولیت کی وکیل رہی ہیں۔
اپنی جماعت کے مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا ہے ’حب الوطن جماعت ہونے کے حوالے سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم متحد ہوں اور تمام ملک کی بھلائی کے لیے کام کریں۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور مثبت سوچ فراہم کریں۔‘
یورپی یونین سے برطانیہ کے نکل جانے کے بارے میں ٹریزا مے کہتی ہیں کہ اگرچہ انھوں نے یورپی یونین کے اندر رہنے کی مہم کی حمایت کی تھی لیکن وہ عوام کی رائے کا احترام کرتی ہیں۔
’ریفرنڈم سے پہلے چلنے والی مہم غلط تھی، لیکن ریفرنڈم میں لوگوں کی شرکت بہت زیادہ تھی اور عوم نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے۔ اب یورپی یونین کے اندر رہنے کے لیے کوئی کوشش نہیں ہونی چاہیے اور اب نہ تو پچھلے دروازے سے اس اتحاد میں شامل ہونے کی کوئی کوشش ہونی چاہیے اور نہ ہی کوئی دوسرا ریفرنڈم ہونا چاہیے۔‘







