لیڈسم کے بچوں کے بارے میں بیان کے بعد ہنگامہ

اینڈریا لیڈسم (دائیں) کے انٹرویو سے بظاہر یہ اشارہ ملا کہ وہ خود کو ٹریزا مے (بائیں) سے اس بنیاد پر زیادہ بہتر امیدوار سمجھتی ہیں کہ ان (لیڈسم) کے بچے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناینڈریا لیڈسم (دائیں) کے انٹرویو سے بظاہر یہ اشارہ ملا کہ وہ خود کو ٹریزا مے (بائیں) سے اس بنیاد پر زیادہ بہتر امیدوار سمجھتی ہیں کہ ان (لیڈسم) کے بچے ہیں

برطانیہ میں کنزرویٹیو پارٹی کی قیادت کی امیدوار اینڈریا لیڈسم کے ایک بیان کے بعد ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے جس میں بظاہر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے اس لیے بہتر امیدوار ہیں کہ ان کے بچے ہیں۔

ٹائمز کو دیے جانے والے انٹرویو میں مسز لیڈسم کا یہ بیان نقل کیا گیا تھا کہ بچوں کی ماں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں برطانیہ کے مستقبل کی زیادہ پروا ہے۔

تاہم تین بچوں کی ماں لیڈسم نے بعد میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھیں اس انٹرویو سے ’کراہت‘ ہوئی ہے۔

ٹائمز کی صحافی ریچل سلویسٹر نے اپنے انٹرویو کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا ہے کہ انھیں مسز لیڈسم کے ردِعمل سے ’شدید حیرت ہوئی ہے۔‘

ٹائمز نے صفحۂ اول پر شہ سرخی جمائی تھی: ماں ہونے کی وجہ سے مجھے مے پر سبقت حاصل ہے: لیڈسم

بیان میں کہا گیا تھا کہ ٹریسا مے کی بھانجیاں، بھانجے ہیں، لیکن میرے بچے ہیں جن کے اپنے بچے ہوں گے، جو اس بات کا براہِ راست حصہ ہوں گے کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔

لیڈسم نے ایک بیان میں کہا کہ انھیں اخبار کے صفحۂ اول سے غصہ اور کراہت ہوئی ہے۔ ’جو میں نے کہا اس کی رپورٹنگ حقارت آمیز ہے۔‘

تاہم رپورٹر سلویسٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا انٹرویو منصفانہ طریقے سے لکھا گیا تھا اور انھیں ’اس پر آنے والے جارحانہ ردِ عمل پر شدید حیرت ہوئی ہے۔‘

لیڈسم نے یہ کہہ کر اپنا دفاع کیا کہ میں نے ٹائمز کے نمائندے اور فوٹوگرافر کے سامنے کئی بار کہا تھا کہ جو کچھ میں نے کہا اس سے کسی طرح سے بھی اشارہ نہ دیا جائے کہ ٹریسا کے بچے نہ ہونے کا قیادت پر کسی قسم کا اثر پڑے گا۔

وزارت خزانہ کے وزیر ڈیوڈ گوک نے، جو ٹریسا مے کی حمایت کرتے ہیں، کہا کہ لیڈسم کو معافی مانگنی چاہیے۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’یہ ناپ تول کر بولنے کی بجائے الفاظ کے بےڈھنگے انتخاب کا معاملہ ہے۔ اگر انھوں نے جان بوجھ کر ایسا کہا ہے تو آخ تھو۔‘