ٹریسا مے اس ہفتے وزیرِ اعظم بن جائیں گی: کیمرون

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ اس ہفتے ٹریسا مے ملک کی نئی وزیرِ اعظم بن جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ وہ بدھ کو وزیرِ اعظم کے سوالات کے سیشن کے بعد اقتدار سے دستبردار ہو جائیں گے۔
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے بعد بات کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ بدھ کی دوپہر بکنگہم پیلس میں ملکۂ برطانیہ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ منگل کو اپنی کابینہ کے آخری اجلاس کی صدارت کریں گے۔
برطانیہ میں کنزرویٹیو پارٹی کی قیادت کی دوڑ میں ٹریسا مے کی واحد مدِ مقابل اینڈریا لیڈسم نے پیر کو اس مقابلے سے دستبردار ہونے کے اعلان کر دیا تھا۔
59 سالہ ٹریسا مے جنھوں نے بریگزٹ کے ریفرینڈم میں ’ریمین‘ یا یورپی یونین میں رہنے کا ووٹ دیا تھا سنہ 2010 سے وزیرِ داخلہ ہیں۔
یورپی یونین سے باہر جانے کا ووٹ دینے والی اینڈریا لیڈسم کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو ایک ’مضبوط اور مستحکم حکومت‘ کی ضرورت ہے اور ٹریسا مے بریکزٹ پر عمل درآمد کے لیے ’بہترین جگہ‘ پر ہیں۔
پیر کے روز اپنی قیادت کی مہم کے دوران ایک تقریر میں ٹریسا مے نے اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ برطانیہ کا اگلا وزیرِ اعظم وہی ہونا چاہیے جس نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
انھوں نے کہا: ’بریگزٹ کا مطلب بریگزٹ ہے اور ہم اسے کامیاب بنائیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویسٹ منسٹر میں ایک بیان دیتے ہوئے اینڈریا لیڈسم کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں قیادت کی نو ہفتوں کی مہم ’اتنے اہم وقت‘ میں ملک کی لیے ’انتہائی ناپسندیدہ‘ ہوگی۔
ان کے ایک قریبی ذریعے نے بی بی سی کی سیاسی ایڈیٹر لورا کونزبرگ کو بتایا ہے کہ ’اس مقابلے کے دوران لیڈسم نے بہت سخت تنقید کا سامنا کیا ہے۔‘
یاد رہے کہ اینڈریا لیڈسم نے پیر کو ٹریسا مے سے اپنے اس بیان پر معذرت کی تھی جس میں بظاہر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے اس لیے بہتر امیدوار تھیں کہ ان کے اپنے بچے ہیں۔







