یمن: مکلا میں دھماکے، کم از کم 35 ہلاک

ان حملوں میں خودکش حملہ آوروں اور کار بموں اور آتشیں مواد کو استعمال کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنان حملوں میں خودکش حملہ آوروں اور کار بموں اور آتشیں مواد کو استعمال کیا گیا

یمن میں حکام کے مطابق جنوب مشرقی شہر مکلا میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم ازکم 35 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے ہیں۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے اس وقت حملہ کیا جب سپاہی روزہ کھولنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں خودکش حملہ آوروں، کار بموں اور آتشیں مواد کو استعمال کیا گیا۔

اس سے پہلے یہ بندرگاہ القاعدہ کی ایک شاخ کے زیرِ قبضہ تھی تاہم اپریل 2016 میں یمن کی حکومت نے سعودی اتحاد کے ساتھ مل کر اس کا کنٹرول واپس لے لیا تھا۔

’سلیپر سیلز‘

روئٹرز کے مطابق پہلا حملہ مکلا کے مغرب میں ہوا جب ایک خود کش حملہ آور نے خود کو چیک پوائنٹ پر اڑا لیا۔

بعد میں ایک کار بم دھماکے کے ذریعے خفیہ ایجنسی کے ہیڈکواٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان دشمنی کے باوجود ان کے حامی ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیمنی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان دشمنی کے باوجود ان کے حامی ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں

جزیرہ نما عرب میں موجود القاعدہ اب یمن میں جاری خانہ جنگی کا فائدہ اٹھا کر اسلحہ، رقوم اور علاقوں پر قبضہ کر رہی ہے۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان دشمنی کے باوجود ان کے حامی ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مکلا میں اب بھی ان تنظیموں کے خفیہ ٹھکانے موجود ہیں اور ہم ان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

جب سے حکومت نے شہر کا کنٹرول واپس لیا ہے تب سے اب تک القاعدہ کے سینکڑوں جنگجوؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تقریباً 20 ایسی کاروں کو قبضے میں لیا گیا ہے جن میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔

اس سے قبل حکومت کی حامی اتحادی افواج کی توجہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑنے پر مرکوز تھی جو کہ سابق صدر علی عبداللہ افراد کے حامی تھے۔

یمن جنگ میں 28 لاکھ افراد ےن ملک چھوڑا جبکہ 6400 افرا ہلاک ہوئے جن میں سے نصف سے زائد تعداد عام شہریوں کی ہے۔