یمن میں سات روزہ جنگ بندی کے بعد امن مذاکرات
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں سات روزہ جنگ بندی کا آغاز ہوگیا ہے جبکہ اسی دوران سوئٹزرلینڈ میں امن مذاکرات جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل اولد شیخ احمد کا کہنا ہے کہ وہ اِس معاہدے کو ’امن کے قیام کے لیے پہلے قدم‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم اتحاد یمنی حکومت کی حمایت بھی کر رہا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سعودی اتحاد حوثی باغیوں کے ساتھ اُس وقت سے لڑائی میں مصروف ہیں جب باغیوں کی جانب سے مارچ میں اُن کے اتحادی صدر منصور ہادی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
یمن میں جاری تنازعے میں اب تک 5,700 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے نصف تعداد عام شہریوں کی ہے۔
جنگ بندی دوپہر (09:00 جی ایم ٹی) سے موثر ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یمنی حکومت کا وفد اور حوثی شیعہ باغی تنظیموں کے نمائندے سوئٹزرلینڈ کے شہر بیل میں مذاکرات کے لیے مل رہے ہیں۔ اِن مذاکرات کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جنگ بندی کے آغاز سے پہلے پیر کو ایک سعودی فوجی کمانڈر اور ایک امارتی کمانڈر کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، اُن کے ساتھ کئی خلیجی، یمنی اور سوڈانی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اِن تمام فوجویوں کو حوثی باغیوں نے یمن کے صوبے تعز میں ایک میزائل حملے میں ہلاک کیا ہے۔
اگر یہ درست ہے تو ستمبر میں دارالحکومت صنعا کے مشرق میں مرب صوبے کے ایک فوجی اڈے پر میزائل حملے میں 45 امارتی فوجی کی ہلاکتوں کے بعد یہ اتحاد پر سب سے ہلاکت خیز حملہ ہے۔ ابھی تک سعودی عرب کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے مارچ میں اپنی فوجی کارروائیوں کا آغاز اُس وقت کیا تھا، جب حوثی باغیوں نے صنعا پر قبضہ کر کے یمن کے دوسرے شہر عدن کی جانب پیش قدمی کی تھی۔
مارچ کے بعد سے اتحاد اور حکومتی حماحت یافتہ فورسز نے عدن اور مرب کا انتظام دوبارہ سنبھال لیا تھا لیکن وہ تیسرے شہر تعز سے باغیوں کو نکالنے میں ناکام رہے۔







